بدھ16؍شعبان المعظم 1442ھ31؍مارچ 2021ء

1970ء کے بعد سے شارک اور ریز کی 18 نسلوں کی آبادی میں 70 فیصد کمی

کینیڈا کی سائمن فریزر یونیورسٹی نے شارک اور ریز مچھلی پر تحقیق کی جس کے مطابق ایک سے دو دہائی میں ان مچھلیوں کی کچھ اقسام ممکنہ طور پر ناپید ہوسکتی ہیں۔

معظم خان نے کہا کہ پاکستان میں 1999 میں شارک 70 ہزار ٹن کے قریب شکار کی جاتی تھی جبکہ اب پاکستان میں سمندری شارک محض 14 سے 15 ہزار ٹن ہی مل پاتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ شارک کا نسل بڑھانے کا عمل بہت سست ہوتا ہے، شارک کی کچھ نسلوں کا 30 سے 40 سالوں میں کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آسکا۔

معظم خان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ریز 400 سے 500 ٹن سالانہ انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کو فروخت کرتا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ سمندر کے بڑے شکاریوں کی آبادی میں کمی ایکو سسٹم متاثر کر رہی ہے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.