بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

چوہدری شجاعت نے امریکی سینیٹرز سے 2008ء کی ملاقات کا تذکرہ کیوں کیا؟

مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے امریکی صدر جو بائیڈن کے بیان کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں چوہدری شجاعت حسین نے 2008ء کے عام انتخابات سے قبل امریکی سینیٹرز جو بائیڈن، جان کیری اور چک ہیگل سے ملاقات کا تذکرہ کیا۔

انہوں نےکہا کہ 2008 کے الیکشن سے پہلے جو بائیڈن، سینیٹر جان کیری اور سینٹر چک ہیگل ہمارے گھر آئے تھے۔

ق لیگی سربراہ نے مزید کہا کہ امریکی سینیٹر نے دوران گفتگو کہا کہ اگر ق لیگ الیکشن جیت گئی تو ہم نتائج تسلیم نہیں کریں گے، یہی بات انہوں نے پاکستان سے جاتے وقت سی این این کو انٹرویو میں بھی کہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہٰی نے جب اُن سے پوچھا کہ آپ کی الیکشن مہم میں کوئی اسی طرح کی بات کرے تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ پرویز الہٰی کے سوال پر امریکی سینیٹرز نے ہنس کر بات بدل دی اور جھینپ کر پنجاب میں ایجوکیشن اور ہیلتھ سسٹم کی تعریفیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران بائیڈن سمیت امریکی وفد نے پرویز الہٰی کے ایجوکیشن پالیسیوں اور صحت کے شعبے میں کاموں کو سراہا۔

ق لیگی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے پاک فوج کے ہاتھوں میں محفوظ ترین ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن پہلے بھی غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق غیرذمہ دارانہ بات کی جو افسوسناک ہے، پاکستان نے آج تک کبھی بھی غیرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ہمارے ایٹمی اثاثے بھارت سمیت کسی بھی ملک سے زیادہ محفوظ ہیں، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو زیر بحث لانے کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ایٹمی پروگرام کو 22 کروڑ عوام کی حمایت حاصل ہے، جب سے پاکستان نے ایٹمی پروگرام شروع کیا، کبھی بھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.