پانی پر بنی پناہ گزینوں کی رہائش گاہ: ’دھمکی دی گئی کہ اگر ہم یہاں آنے پر راضی نہ ہوئے تو ہماری مدد بند کر دی جائے گی‘

تارکین وطن کے لیے فلوٹنگ گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف, سروش پاک ذاد اور ڈین جونسنز
  • عہدہ, بی بی سی نیوز

برطانیہ کے جنوب مغرب میں واقع جزیرے پورٹ لینڈ پر پانی کی لہروں میں ڈولتے ’ببی سٹاک ہوم‘ میں پناہ گزینوں کے پہلے گروہ نے قیام کیا ہے۔

ببی سٹاک ہوم وہ بحری جہاز ہے جس پر برطانیہ میں پناہ کے متلاشیوں کے لیے رہائشگاہ بنائی گئی ہے۔ برطانوی حکومت کے منصوبے کے مطابق بڑے سائز کے اس بحری جہاز پر کم از کم 500 افراد کو 18 ماہ تک رکھا جا سکتا ہے۔

ببی سٹاک ہوم میں سوار ہونے والے مردوں کے پہلے گروپ نے پانی میں تیرتی اس رہائشگاہ میں اپنے پہلے 24 گھنٹوں کو بی بی سی کے ساتھ شیئر کیا۔

ایسے ہی ایک تارکین وطن نے بی بی کو بتایا کہ یہ جگہ ایک جیل کی طرح ہے، جس میں حکومت کے دعوے کے برعکس 500 افراد کی رہائش ناممکن ہے۔

پورٹ لینڈ کی بندرگاہ پر اس بحری جہاز پر بنائی گئی یہ رہائشگاہ حکومت کے ایک اہم منصوبے کا حصہ ہے جو پناہ کے متلاشیوں کے لیے رہائش کے اخراجات کو کم نے سے متعلق ہے۔

برطانیہ کے ہوم آفس کے مطابق بحری جہاز پر پناہ گزینوں کی رہائش گاہ بنانا دراصل ٹیکس ادا کرنے والوں کے لیے بھی ایک بہتر آپشن ہے کیونکہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سیاسی پناہ لینے والوں کی بڑھتی تعداد سے سسٹم پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اس جہاز میں 18 سے 65 سال کی عمر کے مرد پناہ گزینوں کو ٹھرایا جائے گا جو اپنی درخواستوں کے حل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

’یہاں الکاٹراز جیل جیسا ہی محسوس ہوتا ہے‘

تارکین وطن کے لیے فلوٹنگ گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

ڈرامہ کوئین

ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

ایک افغان پناہ گزین (جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی) نے بتایا کہ ’سکیورٹی چیک مجھے یہ احساس دلاتے ہیں کہ میں الکاٹراز جیل میں جا رہا ہوں۔‘

’میرے روم میٹ کو آدھی رات کو گھبراہٹ کا دورہ پڑا اور اسے لگا جیسے اس کا دم گھٹ رہا ہے۔ ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں یہاں کے ڈاکٹرز نے ڈپریشن کے لیے ادویات دی تھیں۔‘

پناہ کے متلاشی افغان شہری نے مزید بتایا کہ انھیں ایک چھوٹا کمرہ دیا گیا تھا جبکہ کھانے کے کمرے میں 150 سے بھی کم لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔

’جیل کی طرح اس جہاز میں داخلی اور خارجی دروازے موجود ہیں۔ یہاں آنے کے لیے مخصوص گھنٹوں میں ایک مخصوص بس لینا پڑتی ہے جو ایک طویل سفر کے بعد ہمیں ایسی جگہ پر چھوڑ دیتی ہے، جہاں ہمیں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ہمیں یہ سب بہت عجیب لگتا ہے۔‘

ببی سٹاک ہوم پر دن کے 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن سکیورٹی ہوتی ہے۔ پناہ کے متلاشیوں کو شناختی کارڈ دیے جاتے ہیں اور انھیں آمدورفت کے لیے ہوائی اڈے کی طرز کے سکیورٹی سکینرز سے گزرنا پڑتا ہے ۔

سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پناہ گزینوں کو بندرگاہ سے باہر نکلنے کے لیے مخصوص بس لینا لازم ہے۔ اگرچہ وہاں کوئی کرفیو نہیں لیکن اگر وہ واپس نہیں آتے ہیں تو ان کے لیے ’الرٹ کال‘ جاری کی جاتی ہے۔

تارکین وطن کے لیے فلوٹنگ گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پانی پر تیرتی رہائشگاہ اندر سے کیسی ہے؟

تارکین وطن کے پہلے گروہ کے وہاں مکین بننے سے پہلے چند صحافی ببی سٹاک ہوم کا دورہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

ان کے مطابق جہاز پر بنی یہ پناہ گاہ اندر سے پرانے موٹیل (ہوٹل) کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس جہاز میں کل 222 کیبن تھے۔

جب اندر داخل ہوں تو ایک لمبی راہداری نسبتاً کشادہ کیبن کی طرف لے جاتی ہے جس میں ایک میز، الماری، تجوری، ٹیلی ویژن اور بڑی کھڑکیاں موجود ہیں۔ ہرکمرے میں دو منزلہ بستر (بنک بیڈ) لگائے گئے تھے۔

ہر کمرے میں ایک باتھ روم بھی ہے جس میں نہانے کے لیے شاور بھی لگا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ببی سٹاک ہوم کی تینوں منزلوں میں چند اضافی سہولیات بھی موجود ہیں۔

تارکین وطن کے لیے فلوٹنگ گھر

،تصویر کا ذریعہMeanPa

وہاں ایک ٹی وی لاؤنج بھی ہے جس میں ٹی وی سکرین کے سامنے اور اطراف صوفے لگائے گئے ہیں۔ ایک عبادت کا کمرہ اور ایک مطالعے کی جگہ بھی موجود ہے جسے مہمانوں سے ملاقات اور دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

ان گنجائش والے کمروں کے علاوہ بہت سے کامن رومز کو چار سے چھ افراد کی رہائش کے لیے بھی تیار کیا گیا ہے تاہم اس جگہ صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کھانے کا کمرہ بڑا ہے، کھانے کے لیے ایک لمبا کاؤنٹر اور چھ کرسیوں والی میزیں قطاروں میں رکھی ہوئی ہیں۔

جس دن وہاں صحافیوں نے دورہ کیا اس دن وہاں کھانے کا مینیو شاندار رکھا گیا، جس میں میں انڈے اور پین کیکس پر مشتمل ناشتہ فراہم کیا گیا جبکہ دوپہر کے وقت آلو کا سوپ اور رات کو بیف سٹیو( قورمہ) مینیو میں شامل تھا۔

حکام نے یقین دلایا کہ کھانے کا مینیو باقاعدگی سے تبدیل ہو گا اور ہر فرد کی انفرادی ضروریات اور مذہبی روایات کو مدنظر رکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

صحت اور قانونی مدد

برطانیہ کے ہوم آفس کے مطابق اس منصوبے کے تحت پناہ کے متلاشیوں کو بنیادی صحت کی دیکھ بھال اور تفریحی سرگرمیاں فراہم کی جائیں گی جس سے فلاح و بہبود کو فروغ ملے گا۔

تارکین وطن کو مدد فراہم کرنے والے خیراتی ادارے ’کیئر فار کلیئس‘ (Care4Calais) نے کہا کہ وہ 20 دیگر پناہ گزینوں کو قانونی مدد فراہم کر رہا ہے، جنھوں نے پورٹ لینڈ جانے سے انکار کر دیا تھا اور اب فیصلے کا انتظار ہے۔

ٹریژری اکنامک سکریٹری اینڈریو گریفتھس نے منگل کو بتایا کہ ’بحری جہاز پر بنی اس رہائشگاہ میں رہنے کے سوا ان کے پاس دوسرا راستہ نہیں کیونکہ اگر وہ انکاری ہوں گے تو انھیں پناہ گزین امدادی نظام سے باہر کر دیا جائے گا اور پھر ان کے پاس متبادل رہائش کا حق بھی نہیں رہے گا۔‘

افغان پناہ گزین نے کہا کہ ’ہم میں سے بہت سے لوگ 9 سے 11 ماہ قبل برطانیہ میں بذریعہ ہوائی جہاز داخل ہوئے تھے۔ ہم میں سے کچھ نے ہوائی اڈے پر پناہ کی درخواست دی تھی اور ہم کشتی کے ذریعے نہیں آئے تھے۔‘

افغان شہری کے مطابق ’دو ہفتے پہلے ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ہم اس رہائش گاہ میں آنے پر راضی نہیں ہوئے تو وہ ہماری مدد اور این ایچ ایس(برطانیہ کا صحت کا ادارہ) تک رسائی بند کر دیں گے۔ ہمارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو پابندی سے ادویات لیتے ہیں اس لیے ہمیں ان کا فیصلہ قبول کرنا پڑا۔‘

پیر کے روز بحری جہاز پر بنی اس رہائش گاہ میں آنے والے ایک اور شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ چھ ماہ قبل بذریعہ جہاز برطانیہ آئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ ابھی تک ایران میں ہیں۔

اس شخص نے (شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی درخواست کے ساتھ) بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بہترین ناشتہ کیا جس میں انڈے، پنیر، جام اور مکھن شامل تھا۔

تارکین وطن کے لیے فلوٹنگ گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

حکومت کیا کہتی ہے؟

برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ 50 ہزار سے ذیادہ تارکین وطن کو ہوٹلز میں قیام کروانے کے لیے حکومت یومیہ سات ملین ڈالرز سے ذیادہ خرچ کر رہی ہے۔

ہوم آفس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ’یہ حکومت کے ان اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے جو مہنگے ہوٹلوں کے استعمال کو کم کرنے اور ذیادہ منظم اور پائیدار نظام کی طرف جانے کا عزم لیے ہوئے ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی رہائش کے متبادل انتظامات کی فراہمی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’یہ ایک آزمایا ہوا اور آزمودہ طریقہ ہے جو ہمارے پڑوسی سکاٹش حکومت نے بھی اختیار کیا۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو برطانوی ٹیکس دہندگان کے لیے بھی فائدہ مند رہے گا۔‘

حکومت کا ہدف ہے کہ آنے والے مہینوں میں تقریباً تین ہزار پناہ کے متلاشیوں کو ہوٹلوں کے بجائے متبادل رہائش گاہیں فراہم کی جائیں جیسا کہ بحری جہاز اور سابق فوجی عمارتوں میں بنائے جانے والے گھر۔

تارکین وطن کے لیے فلوٹنگ گھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور جہاں تک بات ہے پورٹ لینڈ کے رہائشیوں کی تو وہ برطانوی حکومت کے اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات شکار ہیں اور سیاسی پناہ کے متلاشیوں کی فلاح و بہبود اور مقامی خدمات پر مبنی اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں تاہم علاقے کے رہائشی ان کے استقبال کے لیے پرعزم ہیں اور انھوں نے پناہ گزینوں کی خیر سگالی کے لیے ایک مقامی سپورٹ گروپ بنایا ہے۔

سب سے پہلے پہنچنے والے گروہ نے مقامی رہائشیوں کی طرف سے تحفے میں دی گئی کٹس وصول کیں، جن میں بیت الخلا میں استعمال کی جانے والی اشیائے ضروریہ، علاقے کا نقشہ، نوٹ بک، قلم اور رضاکار گروپ کے فون نمبرز شامل تھے۔

BBCUrdu.com بشکریہ