’وہ سیکس حادثہ تھا‘: ارب پتی تاجر کا بیٹا جو اپنی دوست کے ریپ اور قتل کیس میں 15 سال سے روپوش ہے

فاروق

،تصویر کا ذریعہCECICLIE DAHIL

،تصویر کا کیپشن

فاروق اور مارٹین کی یہ تصویر اس رات لی گئی جس کے بعد مارٹین لاپتہ ہو گئی تھیں

  • مصنف, نوال المغفی
  • عہدہ, بی بی سی نیوز عربی

15 سال قبل لندن میں ایک طالب علم کی ہلاکت کے چند گھنٹوں بعد برطانیہ سے یمن فرار ہونے والے ارب پتی شخص کے بیٹے نے پہلی بار بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ یہ موت ’ایک سیکس حادثہ تھا۔‘

23 سالہ مارٹین وک مگنیوسن کی لاش 2008 میں ایک تہہ خانے سے برآمد ہوئی تھی جبکہ فاروق عبداللہ برطانیہ کی پولیس کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں جن کی حراست کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔

فاروق نے اس سے قبل اس کیس پر کبھی بات نہیں کی۔

جب مارٹین کی لاش دریافت ہوئی، اس وقت میں بھی پڑھ رہی تھی۔ مجھے اس خبر سے بہت دکھ ہوا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملزم کا تعلق یمن سے تھا۔ میں بھی یمن کی شہری ہوں۔

جب میں 2011 میں بی بی سی کا حصہ بنی تو یہ کہانی میرے لیے دلچسپی رکھتی تھی اور میں چاہتی تھی کہ مارٹین کے خاندان کے لیے جواب تلاش کروں جو اس مقدمے کو بین الاقوامی قانون کا امتحان سمجھتے ہیں۔ برطانیہ اور یمن کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں۔

تمام تر کوششوں کے بعد گذشتہ سال میں فاروق سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ میں نے سوشل میڈیا پر ان سے بات شروع کی۔ اب تک سینکڑوں صحافی ان سے بات کرنے کی کوشش کر چکے تھے تاہم میری یمنی شہریت کی وجہ سے میں ان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

فون پر پیغام رسانی کے دس دن بعد انھوں نے مجھے پہلی بار ایسا پیغام بھیجا جس میں انھوں نے اعتراف کیا کہ ’میں نے نوجوانی میں کچھ ایسا کیا جو ایک غلطی تھی۔‘

پانچ ماہ کے دوران فاروق نے کبھی مارٹین کا نام نہیں لیا۔ وہ مارٹین کی ہلاکت کو ایک واقعہ یا حادثہ کہہ کر بات کرتے تھے تاہم مارٹین کی موت کے بعد میڈیکل رپورٹ کافی واضح طور پر بتاتی ہے کہ ناروے کی طالبہ کی ہلاکت کس قدر پرتشدد طریقے سے ہوئی تھی۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’ہلاکت کا نتیجہ گردن پر دباؤ تھا اور شاید ان کا گلا گھونٹا گیا تھا یا ان کا منہ دبایا گیا تھا۔‘

رپورٹ میں لکھا گیا کہ ’مارٹین کے جسم پر 43 زخموں کے نشان تھے جن میں سے زیادہ تر کسی حملے یا پھر مزاحمت کے نتیجے میں لگے۔‘

مارٹین

،تصویر کا ذریعہODD PETTER

فاروق اور مارٹین لندن کے ریجینٹ بزنس سکول میں پڑھتے تھے۔ مارٹین معاشی ماہر بننا چاہتی تھیں۔ ان کے دوستوں نے آخری بار مارٹین کو 14مارچ 2008 کو مے فیئر کے مہنگے میڈوکس نائٹ کلب میں زندہ دیکھا تھا جہاں وہ فاروق کے ساتھ امتحان ختم ہونے کا جشن منا رہی تھیں۔

ان دوستوں کا کہنا ہے کہ فاروق نے اپنے فلیٹ پر پارٹی کی دعوت دی لیکن سب لوگ تھک چکے تھے تاہم مارٹین ابھی اور پارٹی کرنا چاہتی تھیں۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے مطابق وہ فاروق کے ساتھ کلب سے نکلیں۔

اس کے بعد کیا ہوا؟ کوئی نہیں جانتا لیکن سورج نکلنے سے پہلے وہ مر چکی تھیں۔ ان کی لاش اگلے 48 گھنٹوں تک نہیں ملی۔ اس وقت تک فاروق ایک پرواز پر مصر روانہ ہو چکے تھے جہاں سے وہ اپنے والد کے جہاز پر یمن پہنچ گئے۔

فاروق کے وکلا کا اصرار ہے کہ انھوں نے مارٹین کو قتل نہیں کیا۔

فاروق کوئی عام یمنی نہیں۔ وہ شاہر عبدالحق کے بیٹے ہیں جن کا شمار یمن کے طاقتور امرا میں ہوتا تھا۔ شاہر اسلحہ، تیل، چینی اور سافٹ ڈرنکس کی کاروباری سلطنت کے مالک تھے اور یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے قریبی دوست تھے۔ فاروق کی پرورش امریکہ اور مصر میں ہوئی۔

جب میں نے 2011 میں فاروق سے پہلی بار بات کرنے کی کوشش کی تو میں یمن میں ان کو تلاش کرنے کی کوشش میں کئی ماہ صرف کر چکی تھی تاہم مجھے اس وقت ملک چھوڑنا پڑا جب حکام نے مجھے خبردار کیا کہ مجھے اس کہانی سے پیچھے ہٹنا ہو گا۔

فروری 2022 میں، میں نے لندن سے اس کہانی کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت فاروق کے والد زندہ نہیں تھے، علی عبداللہ صالح بھی صدر نہیں رہے تھے۔ میں نے سوچا شاید اب فاروق سے بات کرنا ممکن ہو۔

لیکن میں یہ بھی جانتی تھی کہ یہ آسان نہیں ہو گا۔ جب ایک دوست کے ذریعے فاروق کا نمبر ملا تو میں نے مختلف ایپس سے پیغام بھیجا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ پھر ایک دوست نے بتایا کہ وہ سنیپ چیٹ استعمال کرتا ہے۔

نوال

میں نے اس بار پیغام بھیجا تو سیکنڈز میں جواب آ گیا۔ اس کا پہلا سوال تھا کہ میرا تعلق کہاں سے ہے۔ میں نے اسے یمن کے ان پوش علاقوں کا نام دیا جہاں میں پلی بڑھی تھی۔ میرا خیال تھا وہ بھی وہیں پلا بڑھا ہو گا۔ میرا خیال درست تھا۔ اس کی دلچسپی پیدا ہو گئی۔

اب جبکہ میرا اس سے رابطہ ہو چکا تھا، مجھے اس کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔ میں نے اپنا پیشہ نہیں چھپایا اور اس کو بتایا کہ میں صحافی ہوں۔

ہماری ابتدائی پیغام رسانی ہمارے ملتے جلتے تجربات کے بارے میں تھی۔ اس کی بے انتہا دولت کے باوجود، ہم میں بہت سی قدریں مشترک تھیں۔ ہم نے سوئس ریزورٹس میں سکینگ، بین الاقوامی سکولوں میں پڑھائی اور لندن کے پسندیدہ مقامات پر بات چیت کی۔

پھر آہستہ آہستہ وہ کھل کر بات کرنا شروع ہوا۔

اس نے ایک دن پیغام بھیجا ’میں نے نوجوانی میں کچھ ایسا کیا جو ایک غلطی تھی۔ میں نے تمھیں اپنا اصل نام بتایا، میں برطانیہ نہیں جا سکتا کیونکہ وہاں کچھ ہوا تھا۔‘

اس نے لکھا کہ ’مجھے اس وجہ سے خوف ہے کہ تم نے بتایا کہ تم ایک صحافی ہو۔ مجھے تم سے بات نہیں کرنی چاہیے۔‘

جس رفتار سے اس نے مجھ پر اعتماد کیا، وہ حیران کن تھا لیکن فاروق بہت تنہا تھا۔

اس کا خاندان یمن سے باہر رہتا تھا جن میں اب اس کی سابقہ اہلیہ اور بیٹی بھی شامل ہیں۔ اس کا خاندان یمن کی خانہ جنگی کی وجہ سے ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن گرفتاری کے خوف سے وہ ان سے ملنے نہیں جا سکتا۔

اس کے تمام دوست، جن سے میری بات ہوئی، فرار کے بعد سے اس سے نہیں ملے اور نہ ہی ان کی بات چیت ہوئی۔ ان سب نے کہا کہ مارٹین کی موت نے ان کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن فاروق پر شبہ اس کی شخصیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

مارٹین

،تصویر کا ذریعہCECILIE DAHL

،تصویر کا کیپشن

مارٹین کی آخری رات نائٹ کلب میں اپنی دوستوں کے ساتھ تصویر

اب جب کہ فاروق اس معاملے پر بات کر رہا تھا تو میں نے واضح کر دیا کہ میں بی بی سی کے لیے کام کرتی ہوں اور اس کی کہانی بتانا چاہتی ہوں۔ حیران کن طور پر اس انکشاف کے بعد بھی فاروق پیچھے نہیں ہٹا۔

میرے ایک سوال پر اس نے لکھا کہ ’مجھے اس افسوسناک حادثے پر گہرا دکھ ہے اور میں یمن آنے پر پچھتاتا ہوں، مجھے وہاں رکنا چاہیے تھا۔‘

میں نے مارٹین کے دوستوں اور والد سے بھی بات کی۔ مارٹین کے دوست نینا اور سیسیلیا اس رات اس کے ساتھ کلب میں تھیں۔ سیسیلیا فاروق سے مل چکی تھیں اور وہ دوست تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس رات فاروق کچھ مختلف لگ رہا تھا اور جب کسی نے فاروق اور مارٹین کی تصویر لینے کی کوشش کی تو فاروق ناراض ہوا۔

مارٹین کی ایک اور دوست تھالے نے کہا کہ ان کے خیال میں فاروق نے مارٹین کو بوسہ دینے کی کوشش کی جس پر مارٹین نے کہا کہ ان کو اس میں دلچسپی نہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ مارٹین اکثر فاروق کے فلیٹ پر رک جاتی تھیں کیوںکہ وہ لندن کے ایک مرکزی مقام پر واقع تھا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے مطابق کلب سے نکلتے ہوئے مارٹین نے فاروق کے گرد بازو لپیٹے ہوئے تھے۔

جب مارٹین اگلے دن گھر واپس نہیں آئیں تو ان کے دوستوں نے ان کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ کر دی۔ کسی نے نوٹس کیا کہ فاروق نے اپنا فیس بک پیج ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے فاروق کے فلیٹ کی تلاشی لی اور جلد ہی اس بلڈنگ کے تہہ خانے سے مارٹین کی نیم برہنہ لاش مل گئی۔

اس وقت تک فاروق برطانیہ سے فرار ہو چکے تھے۔ پولیس کو علم ہوا کہ فاروق ایک کمرشل فلائٹ سے قاہرہ روانہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

نوال

،تصویر کا کیپشن

نوال فون پر فاروق سے بات کرتے ہوئے

میں فاروق کے والد کے ایک قریبی دوست تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ میں ان کو سمیر کے نام سے پکاروں گی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کو 14 مارچ کی صبح فاروق کا فون آیا اور اس نے کہا کہ رقم اور قاہرہ میں رہنے کی جگہ درکار ہے کیونکہ اس کے کریڈٹ کارڈ کام نہیں کر رہے۔

سمیر کا کہنا ہے کہ جب وہ رقم لینے باہر گئے تو فاروق ان کے صوفہ پر سو گیا اور انھیں واپس آ کر اس کو جگانے کے لیے ٹھنڈا پانی ڈالنا پڑا۔

سمیر کہتے ہیں کہ ایسا لگ رہا تھا وہ نشے میں ہے۔ سمیر کے مطابق فاروق نے قاہرہ کی پرواز کا ٹکٹ لیا۔

ہم جانتے ہیں کہ قاہرہ سے فاروق کے والد نے ان کو یمن پہنچایا جہاں اس سے پہلے وہ کبھی نہیں رہے تھے لیکن ان کو وہاں سے گرفتار کرنا ناممکن تھا۔

فاروق کے والد کے دوست، عبدالحئی اردن کی کاروباری شخصیت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فاروق برطانیہ جا کر عدالت میں اپنا دفاع کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے والد نے اسے یمن رہنے کا مشورہ دیا۔

برطانیہ کی پولیس تفتیش کار جیسیکا واڈسورتھ اعتراف کرتی ہیں کہ جب ان کو معلوم ہوا کہ فاروق اب کہاں ہے تو ان کا دل ڈوب گیا۔

’میں نے کبھی ایسے کیس کی تفتیش نہیں کی جہاں تین سے چار دن میں آپ کو احساس ہو کہ ملزم آپ کی گرفت سے باہر جا چکا ہے۔‘

فاروق

،تصویر کا کیپشن

فاروق اپنے والد کے جنازے کے موقع پر

پولیس نے مارٹین کے خاندان سے اس وقت ملاقات کی جب وہ ناروے سے لندن پہنچے۔ مارٹین کے والد اوڈ پیٹر نے مجھے بتایا کہ ان کو کتنا صدمہ پہنچا تھا۔

’وہ میری زندگی کا سب سے مشکل لمحہ تھا، جیسے کسی نے میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہوں۔‘

انصاف کی تلاش میں انھوں نے 2010 میں ملکہ الزبتھ کو خط لکھا جنھوں نے اس معاملے پر لندن کے اس وقت کے میئر بورس جانسن سے رابطہ کیا۔

برطانوی حکومت نے متعدد بار اس کیس کو حل کرنے کا وعدہ کیا۔ میرا اس دوران مارٹین کے والد سے مسلسل رابطہ رہا اور اب میرے پاس ایک موقع تھا کہ میں فاروق سے اس رات کی کہانی جان سکوں۔

ہماری پیغام رسانی کے ایک ماہ کے بعد میں نے سچ کی تلاش کا آغاز کیا۔

’کیا تم مجھے بتاؤ گے اس رات کیا ہوا تھا؟‘

فاروق ’میں نہیں جانتا کہ کیا ہوا تھا، وہ سب بہت دھندلا سا ہے۔ مجھے کبھی کبھی یاد آتی ہے۔‘

آخر کار میری اس سے فون پر بات ہوئی۔ میں نے پوچھا کیا وہ برطانیہ آ کر مارٹین کی موت کی ذمہ داری لے گا۔

مارٹین کے والد

،تصویر کا کیپشن

مارٹین کے والد پیٹر

اس نے کہا ’میرے خیال میں انصاف نہیں ہو گا۔ میرے خیال میں وہاں کا نظام انصاف جانبدار ہے۔ وہ میرے ایک عرب کا بیٹا ہونے، ایک انتہائی امیر شخص کا بیٹا ہونے کی وجہ سے، ایک مثال قائم کرنا چاہیں گے اور ویسے بھی اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘

میں اس سے ملاقات کے لیے یمن پہنچی لیکن اس نے مجھے کہا وہ اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور نہیں مل سکتا۔ میں یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں تھی۔

میں نے اس کو بتایا کہ مارٹین کے والد سچ جاننے کے لیے کتنے بیتاب ہیں۔

فاروق نے کہا کہ ’ایک انسان ہونے کے ناطے، ایک مرد ہونے کے ناطے جو اخلاقیات پر یقین رکھتا ہو، ایسا کرنا چاہیے۔‘

لیکن ساتھ ہی اس نے کہا ’کچھ باتیں ان کہی رہنی چاہئیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مجھے خود یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا تو کہنے کو کچھ بھی نہیں۔‘

میں لندن واپس آ گئی لیکن میں نے سچ جاننے کی کوشش جاری رکھی۔ اس نے مجھ بتایا کہ ’وہ صرف ایک حادثہ تھا۔ سیکس کے دوران پیش آنے والا حادثہ۔‘

میں نے سوال کیا کہ اس نے کبھی لندن میں کسی وکیل سے بات کی۔ اس نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’قانونی طور پر میرا کیس کمزور ہے کیونکہ میں نے لاش کو ہٹایا اور ملک چھوڑ دیا۔‘

میں نے پوچھا اس نے لاش کو کیوں ہٹایا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ ’مجھے یاد نہیں۔‘

میں نے سوال کیا کہ کیا اس نے کبھی خود گرفتاری دینے کا سوچا۔ اس نے کہا کہ وکلا نے مشورہ دیا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس کو سخت سزا ملے گے۔

’بہت دیر ہو گئی ہے، نوال۔‘

اب مارٹین کے والد کو بتانے کا وقت تھا۔ پیٹر کے لیے میری فاروق سے بات چیت سننا ایک مشکل کام تھا۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ اس شخص کی آواز سن رہے تھے جس پر ان کی بیٹی کے قتل کا الزام ہے۔

انھوں نے کہا ’اس کو کوئی افسوس نہیں، ہمارے خاندان سے کوئی ہمدردی نہیں، اس کی آواز میں اور باتوں میں کسی قسم کی ندامت نہیں۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ رابطے کا ذریعہ ان کو امید دلاتا ہے کہ اب کچھ ہو سکتا ہے۔

’میں پر امید ہوں کہ شاید کوئی حل نکل سکے کیونکہ اب ہم اس سے بات کر سکتے ہیں۔ مجھے پہلے سے زیادہ یقین ہو چلا ہے کہ شاید اس کیس کا کوئی منطقی انجام نکل سکے۔ میری صرف امید یہ ہے کہ وہ انجام میری اخلاقی شرائط پر ہو۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ وہ فاروق سے کیا کہنا چاہیں گے۔

’وہ لندن واپس جائے۔ بتائے کہ مارٹین کے ساتھ کیا ہوا تھا کیونکہ یہ صرف مارٹین ہی نہیں، ہمارے خاندان کے لیے ضروری ہے۔‘

برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ ’فاروق عبداللہ کو بہت جلد اس ریپ اور قتل کیس کے واحد ملزم کے طور پر شناخت کر لیا گیا تھا اور ان کو مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے برطانیہ لانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ