’مجھے حکم دیا گیا کہ میں فرش اور دیواروں پر لگا اپنا خون خود صاف کروں‘

  • مصنف, اینڈنگ نرڈنگ اور راجا لم بین رو
  • عہدہ, بی بی سی
  • مقام کولالمپور انڈونیشیا

کولالمپور

،تصویر کا ذریعہBBC/ DWIKI MARTA

’میری مدد کریں، مجھے میرے آجر (ایمپلائر) کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ (مجھ پر اتنا تشدد ہوتا ہے کہ) میں روزانہ اپنے ہی خون میں نہا جاتی ہوں۔‘

اپنے اوپر ہونے والے تشدد سے متعلق یہ الفاظ ایک کاغذ پر میرینس کابو نامی خاتون نے تحریر کیے اور پھر جلدی سے اس کاغذ کو اُس عمارت کے آہنی گیٹ سے باہر پھینک دیا جہاں وہ رہ رہی تھیں۔

اس خاتون کو ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک عمارت میں رکھا گیا تھا جہاں وہ بطور 24 گھنٹے کی ملازمہ کا کام کر رہی تھیں۔

خاتون کی جانب سے پھینکی گئی اس تحریر کو اس گھر کے باہر سے گزرنے والی ایک عورت نےاٹھایا۔ تحریر میں درج الفاظ کو پڑھتے ہی وہ اس خط کو بلڈنگ میں رہائش پذیر ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کے پاس لے گئیں۔

اُسی روز یعنی 20 دسمبر 2014 کو پولیس اس اپارٹمنٹ تک جا پہنچی جہاں میرینس کابو نامی ملازمہ کو گذشتہ آٹھ ماہ سے مقید رکھا گیا تھا اور جہاں سے باہر قدم رکھنے کی انھیں اجازت نہیں تھی۔

اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے میرینس کابو بتاتی ہیں کہ جب پولیس اس گھر کے دروازے تک پہنچی تو مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے حواس کھونے والی تھی۔ ’مگر انھوں (پولیس) نے کہا کہ ڈریں نہیں، ہم آپ کی مدد کے لیے آئے ہیں۔‘

’یہ الفاظ سن کر میں نے اپنے آپ کو تھوڑا مضبوط محسوس کیا۔ مجھے لگا کہ میں دوبارہ سانس لے سکتی ہوں۔ پولیس نے مجھے قریب بلایا اور میں نے انھیں سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔‘

اس واقعہ کے نو سال بعد بھی میرینس کابو انصاف کے حصول کے لیے لڑ رہی ہیں۔

ان کا کیس اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی پرائے ملک میں قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے تارکین وطن ملازم کتنے بے بس اور کمزور ہوتے ہیں۔ یہ کیس یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ انھیں انصاف بھی نہیں مل پاتا اور وہ فقط اپنی کہانی سنانے کے لیے زندہ بچ جاتے ہیں۔

یہ واقعہ سامنے آنے پر 2015 میں پولیس نے میرینس کابو کے آجر اونگ سوپنگ سیرین پر حملہ آور ہونے، اقدام قتل، انسانی سمگلنگ اور امیگریشن کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ بنایا تھا تاہم انھوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

میرینس کابو نے ’رہائی‘ کے بعد اپنے آبائی گھر روانہ ہونے سے قبل اپنے آجر کے خلاف عدالت میں پیش ہو کر گواہی بھی دی تھی۔

کولالمپور

،تصویر کا ذریعہBBC/ DWIKI MARTA

مقدمہ درج ہونے کے دو سال بعد انھیں انڈونیشیا کے سفارت خانے سے خبر ملی کہ استغاثہ نے ناکافی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ میرینس کابو کے شوہر کا کہنا ہے کہ جب انھیں بازیاب کروایا گیا تو وہ اپنی اہلیہ کو پہچان بھی نہیں پائے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس ظلم کے بعد بھی آجر آزاد ہو گئے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔‘

ملائیشیا میں تعینات انڈونیشیا کے سفیر، ہرمونو، سے ہم نے مزید جاننے کی کوشش جنھوں نے اکتوبر میں میرینس کابوسے ملاقات کی تھی۔

سفارت خانے نے ان کے لیے قانونی مشوروں کے لیے لیگل فرم کی خدمات حاصل کی ہیں اور میرینس کابو کے آجر کے خلاف کیس دوبارہ شروع کرنے کے لیے آواز بلند کرنا بھی شروع کی ہے۔

ہم نے جاننا چاہا کہ اس میں تاخیر کی وجہ کیا تھی؟ کیا پانچ سال کافی نہیں تھے؟

سفیر کے مطابق ’چونکہ میرینس پہلے ہی وطن واپس آ چکی تھیں اور اگر ہم ا س پر چپ رہے تو اس پر گرد پڑ جائے گی۔‘

یہ واضح نہیں کہ ملائیشیا میں ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کے مقدمات کیوں آگے نہیں بڑھ پاتے، تاہم گھریلو ملازمین پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے ان کی وجوہات میں ایسے کلچر کی طرف نشاندہی کرتے ہیں جس میں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ان ملازمین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے اور ان کو ملائیشین شہریوں کے برابر تحفظ کے حقوق حاصل نہیں۔

ملائیشیا کی وزارت خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ قانون کے مطابق انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔‘

سنہ 2018 میں انڈونیشیا کی ایک عدالت نے دو افراد کو میرینس کابو کی سمگلنگ کے الزام میں جیل بھیج دیا تھا۔ جج نے اپنے فیصلہ میں کہا تھا کہ ان افراد نے میرینس کابو کو ملائیشیا میں اونگ سو پنگ کے گھر کام کرنے کے لیے بھیجا تھا جس نے ان پر اتنا تشدد کیا کہ وہ زخموں سے چور چور ہسپتال داخل رہیں۔‘

فیصلے میں میرینس کابو کی دوران ملازمت کی جو تفصیلات سامنے آئیں ان میں بتایا گیا کہ ان کے آجر نے دوران ملازمت ان پر بدترین تشدد کیا، یہاں تک کہ ایک بار ان کی ناک توڑ دی۔ انھیں اکثر گرم لوہے کے چمٹے، ہتھوڑے، اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔‘

آٹھ سال گزرنے کے بعد بھی میرینس کابو کے جسم پر اس تشدد کے نشانات موجود ہیں۔ ان کے اوپر والے ہونٹ پر گہرا گھاؤ ہے اور ان کے چار دانت بھی ٹوٹ چکے ہیں جبکہ تشدد سے ایک کان کی ہیئت بھی تبدیل ہو گئی ہے۔‘

ان کے شوہر کارویوس نے بتایا کہ اپنی اہلیہ کو بچانے کے بعد وہ انھیں پہچان نہیں سکے: ’جب انھوں نے مجھے ہسپتال میں ان کی تصویریں دکھائیں تو مجھے بہت صدمہ ہوا۔‘

گذشتہ سال ملائیشیا اور انڈونیشیا نے ملک میں انڈونیشی گھریلو ملازمین کے حوالے سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے، تاکہ ان کی حالت بہتر بنائی جا سکے۔

انڈونیشیا اب میرینس کے آجر کے خلاف کیس دوبارہ شروع کرنے کے لیے لابنگ کر رہا ہے۔

میرینس اور ان جیسے دیگر ملازمین کو دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ کام کے دوران ان کے پاسپورٹ چھین لیے جاتے ہیں اور وہ آجر کے ساتھ کسی غیر ملک میں رہتے ہیں، جس سے ان کے پاس مدد حاصل کرنے کے امکانات انتہائی محدود ہو جاتے ہیں۔

ملائیشیا کی رکن پارلیمنٹ ہانا یوہ گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کے اس رویہ کا خاتمہ چاہتی ہیں ۔’ ایسے معاملات میں ہر کسی کو بہت زیادہ ذمہ دار ہونے کی ضرورت ہے۔‘

’جاننا چاہتی ہوں کہ انھوں نے مجھے اس قدر اذیت کیوں دی‘

میرینس کابو کا کہنا ہے کہ وہ مرتے دم تک انصاف کے لیے لڑیں گی۔

’ میں صرف اپنے سابق آجر سے یہ جاننا چاہتی ہوں کہ انھوں نے مجھے اس قدر اذیت کیوں دی۔‘

kolalumpur

،تصویر کا ذریعہBBC/ DWIKI MARTA

میرینس کابو جب 32 برس کی تھیں تو انھوں نے بیرون ملک کام تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ۔

’یہ فیصلہ اس لیے کیا تھا تاکہ بچے بھوک کی شدت سے مزید رو نہ سکیں۔‘

مغربی تیمور میں واقع ان کے گاؤں میں زندگی بہت مشکل ہے، جہاں نہ بجلی ہے اور نہ ہی پینے کو صاف پانی۔ ان کے شوہر کی بطور دیہاڑی دار مزدوری ان کے خاندان کے چھ افراد کی کفالت کے لیے کافی نہیں تھی۔ انھوں نے ملائیشیا میں کام کی پیشکش قبول کی اور اپنے خاندان کے لیے گھر بنانے کا خواب دیکھا۔

جب وہ اپریل 2014 میں کوالالمپور پہنچیں تو ان کے ایجنٹ نے ان کا پاسپورٹ لے کر ان کے آجر کے حوالے کر دیا۔

انڈونیشیا میں بھرتی کرنے والے پہلے ہی ان سے ان کا فون لے چکے تھے۔ لیکن میرینس کابو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے ایک بہتر زندگی کے لیے پرامید تھیں۔

ان کی ملازمت کے دوران ان کی ذمہ داری اپنے آجر سیرین کی 93 سالہ ماں کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ میرینس کابو کے مطابق ’ملازمت شروع کرنے کے تین ہفتے بعد ہی مار پیٹ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔‘ ایک شام گھر کی مالکن سیرین مچھلی پکانا چاہتی تھیں جو انھیں فریج میں نہیں مل سکی، کیونکہ میرینس کابو نے غلطی سے اسے فریزر میں رکھ دیا تھا۔

’اچانک مجھے لگا کہ فریز رکھی گئی مچھلی میرے اوپر ماری گئی جس سے میرے سر سے خون بہنے لگا۔ اور اس کے بعد مار پیٹ کا سلسلہ ہر روز بڑھتا گیا۔

میرینس کابو کا کہنا ہے کہ ’مجھے کبھی بھی اپارٹمنٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ فلیٹ کا لوہے کا گیٹ ہمیشہ بند رہتا تھا اور میرے پاس چابی نہیں تھی۔ اسی بلاک میں رہنے والے چار پڑوسیوں کو پولیس کے آنے تک میرے وجود کا علم نہیں تھا۔‘

ان کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا: ’میں نے میرینس کابو کو صرف اسی رات دیکھا جب انھیں ریسکیو کیا جا رہا تھا۔‘

میرینس کابو کہتی ہیں کہ ’تشدد اورمار پیٹ تب ہی بند ہوئی جب وہ مارنے سے تھک گئیں۔ اس کے بعد مجھے حکم دیا گیا کہ میں فرش اور دیواروں پر بکھرا اپنا خون صاف کروں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ایسا وقت بھی آیا جب انھوں نے اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں سوچا، لیکن اپنے گھرمیں موجود اپنے چار بچوں کے خیال نےانھیں اس پر عمل سے روکے رکھا۔

کولالمپور

،تصویر کا ذریعہBBC/ DWIKI MARTA

’میں نے کئی بار انھیں جواب دینے کے بارے میں سوچا لیکن اگر میں لڑتی تو موت یقینی تھی۔‘

پھر ایک دن انھوں نے خود کو آئینے میں دیکھا اور اپنے آپ کو پہچان نہ پائیں۔ پھرانھوں نے اپنے اندر تبدیلی محسوس کی کہ اب وہ اسے مزید برداشت نہیں کریں گی’میں ناراض تھی، اپنے آجر سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے۔ اور پھر مجھے باہر نکلنے کی کوشش کرنے کی ہمت کرنا پڑی۔‘

تب ہی انھوں نے اپنے رہائی کا سبب بننے والا خط لکھا۔

بی بی سی نے ان الزامات کے جواب کے لیے میرینس کے آجر اونگ سو پنگ سیرین تک پہنچنے کی متعدد کوششیں کیں، لیکن انھوں نے تعاون سے انکار کر دیا۔

میرینس کابو کا کہنا ہے کہ انصاف کے لیے ان کی لڑائی ان جیسے دوسرے متاثرین کے لیے بھی ہے جن کی آواز دنیا تک نہیں پہنچ سکی۔

انڈونیشیا کے سفیر ہرمونوکے سامنے ایسے ہی ایک اور گھریلو ملازم پر تشدد کا کیس سامنے آیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس ملازم پر غیر انسانی تشدد کیا گیا اور انھیں شدید بھوکا رکھا گیا۔ یہاں تک کے جن ان کو بچایا گیا تب ان کا وزن صرف 30 کلو تھا۔اس ملازم کا اس کا آجر اس وقت مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔

انڈونیشیا کے سفیر ہرمونوکے سامنے ایسے ہی ایک اور گھریلو ملازم پر تشدد کا سامنا سامنے آیا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس ملازم پر غیر انسانی تشدد کیا گیا اور انھیں شدید بھوکا رکھا گیا۔ یہاں تک کے جن ان کو بچایا گیا تب ان کا وزن صرف 30 کلو تھا۔اس ملازم کا اس کا آجر اس وقت مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔

لیکن بعض ایسے بھی ہیں جن کو بچایا نہ جا سکا ۔ 20 سالہ ایڈیلینا ساؤ بھی انھی میں شامل ہیں ں جنہیں بروقت بچایا نہیں جا سکا جنھیں مبینہ طور پر ان کے آجر نے اس وقت تک بھوکا رکھا اور تشدد کا نشانہ بنایا جب تک ان کی موت نہیں واقع ہو گئی۔

ایڈیلینا ساؤ کے آجر پر قتل کا الزام لگایا گیا لیکن 2019 میں استغاثہ نے الزامات واپس لے لیے اور کیس کو دوبارہ کھولنے کی اپیل گزشتہ سال مسترد کر دی گئی تھی۔

اڈیلینا کا تعلق بھی میرینس کابو کے مغربی تیمور کے ضلع سے تھا۔ میرین آنس کا کہنا ہے کہ وہ اڈیلینا کی ماں سے ان کے گاؤں میں ملیں اور ان سے کہا۔’اگرچہ آپ کی بیٹی مر چکی ہے لیکن اس کی آواز مجھ میں موجود ہے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ