بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

روسی گیس کی بندش کا خوف: یورپ میں گیس کے کم استعمال کا معاہدہ

روسی گیس کی بندش کے خوف سے یورپ میں گیس کے کم استعمال کا معاہدہ

روس یوکرین یورپ گیس

،تصویر کا ذریعہReuters

یورپی یونین کے ممالک نے منگل کو اپنی گیس کی طلب کو کم کرنے کے لیے ایک ’کمزور‘ سے ہنگامی منصوبے کی منظوری دے دی ہے، تاہم بعض ارکان کو کمی کے اس منصوبے سے استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔

یورپین یونین نے اگرچہ یہ ’کمزور سا معاہدہ‘ کیا ہے لیکن یہ اقدام اس عزم کی غمّازی کرتا ہے کہ وہ روس کی گیس کی سپلائی میں کمی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

یوکرین میں جنگ کے بعد سے یورپین یونین سمیت دیگر ممالک مغربی ممالک نے روس پر کئی قسم کی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تاہم روس نے تکنیکی جواز دیتے ہوئے یورپ کو گیس اور تیل کی سپلائی میں کمی کر دی ہے۔

یورپی یونین کے مسائل

یورپی یونین کے ایک درجن ممالک کو پہلے ہی روسی سپلائی میں کمی کا سامنا ہے۔ برسلز رکن ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ گیس کے استعمال کی کمی کی منصوبہ بندی کریں اور اسے موسم سرما کے لیے ذخیرہ کرنے کے لیے تیار رہیں۔

یورپی ممالک کو خوف ہے کہ روس یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ کے بعد مغربی ممالک کی پابندیوں کے جواب میں گیس اور تیل کی سپلائی کو مکمل طور پر منقطع کر دے گا۔

توانائی کے وزرا نے یورپی یونین کے تمام ممالک کے لیے اگست سے مارچ تک گیس کے استعمال میں رضاکارانہ طور پر 15 فیصد کمی کی تجویز کی منظوری دی۔

اس کمی کو کسی بھی ہنگامی حالت میں نافذ کیا جا سکتا ہے، لیکن متعدد ممالک اور صنعتوں کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے پر اتفاق بھی کیا گیا ہے، جب کہ کچھ حکومتوں نے یورپی یونین کی جانب سے ہر ملک پر 15 فیصد کی پابندی عائد کرنے کی اصل تجویز کی مخالفت کی ہے۔

روس کی جانب سے گیس کی سپلائی کی ایک بڑی پائپ لائن میں گیس کی کمی کے اعلان کے بعد یورپی سپلائی کے بند ہونے کے خدشات کی وجہ سے منگل کو تیل کی قیمتوں میں دوسرے دن بھی اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ فیوچر کی قیمت 1.14 ڈالر، یا 1.1 فیصد بڑھ کر 106.29 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

روس کا دباؤ

یورپ کو بدھ سے گیس کی بڑی مقدار میں سپلائی کی کمی کا سامنا ہے۔ روس کی گیس کمپنی ’گیزپروم‘ نے کہا ہے کہ وہ جرمنی کو نورڈ سٹریم 1 گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس کی سپلائی کو پائپ لائین کی بہاؤ کو صلاحیت کے پانچویں حصے تک کم کر دے گا۔

جبکہ بحیرہ اسود کے ساحلی علاقوں میں میزائل حملوں نے روس اور یوکرین سے اناج برآمد کرنے کے معاہدے پر قائم رہنے کے بارے بھی شکوک و شبہات کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یہ معاہدہ برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔

یوکرین کا روس پر الزام

مواد پر جائیں

پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

یوکرین نے ماسکو پر یورپ کے خلاف ’گیس جنگ‘ چھیڑنے اور لوگوں پر ’دہشت‘ پھیلانے کے لیے سپلائی میں کمی کا الزام لگایا ہے۔

لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ یورپ کے خلاف محض ’گیس بلیک میلنگ‘ ہے۔

نورڈ سٹریم 1 پائپ لائن، جو روس سے جرمنی تک گیس سپلائی کرتی ہے، ہفتوں سے اپنی صلاحیت سے بہت کم چل رہی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں، روس کی سب سے بڑی یورپی پائپ لائن کو 10 دن کے لیے دیکھ بھال کے وقفے کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا، جس سے یورپ میں یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ ترسیل دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔

بہرحال یہ سپلائی پانچ دن پہلے دوبارہ شروع ہو گئی، اگرچہ اب بھی یہ سپلائی پائپ لائن کی صلاحیت سے کم ہے۔ لیکن پیر کے روز گیزپروم نے اعلان کیا کہ وہ ایک بار پھر اپنی گیس کی سپلائی میں مزید کمی کرے گا۔

اس بار اس نے کہا کہ اسے بحالی کا کام کرنے کے لیے گیس کی سپلائی کو موجودہ سطح کے تقریباً نصف تک کم کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم جرمن حکومت نے کہا کہ اس کی سپلائی کو محدود کرنے کی کوئی تکنیکی وجہ نہیں ہے۔

یوکرین کے صدر زیلینسکی نے اپنے رات کے خطاب میں کہا کہ روس کی ’گیس بلیک میلنگ‘ کا مقصد جان بوجھ کر یورپ کے لیے موسم سرما کے لیے تیاری کرنا مشکل بنانا ہے اور اس کے نتیجے میں لوگ سرد مہینوں میں غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

گندم کی برآمد پر ڈیل خطرے میں؟

اقوام متحدہ نے کہا کہ ہفتے کے آخر میں یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا پر روسی میزائل حملے کے باوجود گذشتہ جمعہ کو طے پانے والے گندم کی برآمد کے معاہدے کے تحت یوکرین کے پہلے بحری جہاز چند دنوں میں روانہ ہو سکتے ہیں۔

یوکرین کی فوجی انتظامیہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایک اور میزائل نے منگل کی صبح اوڈیسا کے علاقے کو نشانہ بنایا۔

روس یوکرین یورپ گیس

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

یوکرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ چند دنوں میں گندم کی برآمد کا آغاز کر سکتا ہے

توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور غریب ممالک میں لاکھوں لوگوں کو درپیش بھوک کا خطرہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں سب سے بڑا تنازعہ، جو اب اپنے چھٹے مہینے میں ہے، یوکرین کے علاوہ دنیا بھر کو متاثر کر رہا ہے۔

حملے اور اس کے بعد کی پابندیوں سے پہلے، روس اور یوکرین کی گندم کی عالمی برآمدات کا تقریباً ایک تہائی حصہ تھا۔

روس، ترکی، یوکرین اور اقوام متحدہ کے حکام نے جمعے کے روز اس بات پر اتفاق کیا کہ بحیرہ اسود کے راستے ترکی کی آبنائے باسفورس سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔

ماسکو نے ان خدشات کو دور کر دیا کہ ہفتے کے روز اوڈیسا پر روسی حملے سے گندم کی برآمد کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے، اور کہا کہ اس نے صرف فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اس حملے سے روس کی ساکھ پر شک پیدا ہوا اور وہ اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ کیا وہ اپنے وعدے پورے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ’ہم بین الاقوامی برادری کے ساتھ دیگر آپشنز کو بھی فعال طور پر تلاش کرنا جاری رکھیں گے تاکہ زمینی راستوں سے یوکرین کی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔’

کیا روس سے پابندیاں ہٹیں گی؟

ماسکو کے 24 فروری کے حملے کے بعد سے یوکرین سے اناج کی برآمدات رُک گئی ہیں۔ ماسکو اپنی خوراک اور کھاد کی برآمدات میں سست روی کا مغربی پابندیوں کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔

اس کے علاوہ روس اپنی برآمد میں کمی کے لیے یوکرین کو اپنی بندرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

روس یوکرین یورپ گیس

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس دنیا میں خوراک کا بحران پیدا نہیں کرنا چاہتا

جمعہ کے معاہدے کے تحت، بحری رہنما جہاز بحری بارودی سرنگوں سے محفوظ رستوں کی نشاندہی کریں گے۔

یوکرین کے ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ اس ہفتے چورنومورسک کی بندرگاہ سے اناج کی پہلی کھیپ دو ہفتوں میں روانہ کی جا سکتی ہے، جبکہ دوسری بندرگاہوں سے بھی گندم جلد برآمد کی جا سکتی ہے۔

زیلنسکی اس بات پر بضد تھے کہ تجارت فوراً بحال کی جائے۔ ’ہم برآمدات شروع کریں گے، اور شراکت داروں کو سیکورٹی کا خیال رکھنے دیں گے۔‘

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افریقی ممالک کے دورے پر کہا ہے کہ اناج کی برآمد میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور اس معاہدے میں کوئی بھی ایسی شق نہیں ہے جو روس کو فوجی اہداف پر حملے کرنے سے روکتی ہے۔

کریملن نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ روسی کھاد اور دیگر برآمدات پر پابندیاں ہٹا دی جائیں تاکہ اناج کے معاہدے پر عمل ہو سکے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.