جمعہ 14؍شوال المکرم 1444ھ5؍مئی 2023ء

حکومت پی ٹی آئی مذاکرات؛ چند دنوں میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے، چیف جسٹس

Supreme Court

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے الیکشن کی تاریخ اور حکومت و پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ چند روز میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے انتخابات کی ایک تاریخ اور حکومت و پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل تھے۔

سماعت کے آغاز پر وکیل پیپلز پارٹی فاروق ایچ نائیک نے اتحادی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی رپورٹ پڑھ کر سنائی، جس میں بتایا گیا تھا کہ قرضوں میں 78 فیصد اور سرکلر ڈیٹ میں 125 فیصد اضافہ ہوچکا  ہے جب کہ سیلاب کے باعث 31 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اسمبلی تحلیل سے پہلے بجٹ، آئی ایم ایف معاہدہ اور ٹریڈ پالیسی کی منظوری لازمی ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ لیول پلئینگ فیلڈ اور ایک دن انتخابات پر فریقین میں اتفاق ہوا ہے لیکن اسمبلی تحلیل کی تاریخ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ملکی مفاد میں مذاکرات کا عمل بحال کرنے کو حکومت تیار ہے اور ہر حال میں اسی سال ایک دن الیکشن ہونے چاہییں۔

وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ سندھ اور بلوچستان اسمبلی قبل از وقت تحلیل کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ہر فریق کو مذاکرات میں لچک دکھانی پڑتی ہے لیکن مذاکرات میں کامیابی چند روز میں نہیں ہوسکتی، اس لیے مزید بات چیت کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومتی جواب میں آئی ایم ایف معاہدے پر زور دیا گیا لیکن عدالت میں ایشو آئینی ہے سیاسی نہیں اور سیاسی معاملہ عدالت سیاسی جماعتوں پر چھوڑتی ہے۔ اسمبلی تحلیل ہونے پر بھی بجٹ کے لیے آئین 4 ماہ کا وقت دیتا ہے۔آئین میں انتخابات کے لیے 90 دن کی حد سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ 90 روز میں انتخابات کرانے میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل رات ٹی وی پر فریقین کا مؤقف سنا، مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لے کر بیٹھی نہیں رہے گی بلکہ عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کرانے کے لیے آئین استعمال کرسکتے ہیں۔غصے میں فیصلے درست نہیں ہوتے اس لیے ہم غصہ نہیں کرتے، ہماری اور اسمبلی میں ہونے والی گفتگو کا جائزہ لیں، جو بات یہاں ہو رہی ہے اس کا لیول دیکھیں۔23 فروری کا معاملہ شروع ہوا تو آپ نے انگلیاں اٹھائیں اور یہ سارے نکات اس وقت نہیں اٹھائے گئے، آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں تو عدالت نے سنا ہی نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے راؤنڈ میں آپ نے بائیکاٹ کیا تھا اور کبھی فیصلہ حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں کی، آپ چار تین کی بحث میں ہی لگے رہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے اسمبلیاں بحال کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا لیکن حکومت کی دلچسپی ہی نہیں تھی، آج کی گفتگو ہی دیکھ لیں، کوئی فیصلے یا قانون کی بات ہی نہیں کر رہا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئینی نکات پر دلائل نہیں ہوسکے تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ نظرثانی اپیل تک حکومت نے دائر نہیں کی، حکومت قانون کی بات نہیں بلکہ سیاست کرنا چاہتی ہے، پہلے بھی کہا تھا سیاست عدالتی کارروائی میں گھس چکی ہے لیکن ہم سیاست کا جواب نہیں دیں گے۔ اللہ کے سامنے آئین کے دفاع کا حلف لیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاشی، سیاسی، معاشرتی اور سیکورٹی بحرانوں کے ساتھ آئینی بحران بھی ہے، کل بھی اٹھ لوگ شہید ہوئے۔ حکومت اور اپوزیشن کو سنجیدہ ہونا ہوگا، معاملہ سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیں تو کیا قانون پر عملدرآمد نہ کرائیں، کیا عدالت عوامی مفاد سے آنکھیں چرا لے؟ سپریم صرف اللہ کی ذات ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے کی پابند ہے، عدالت تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، قانون پر عمل درآمد کے لیے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، قوم کے جوانوں نے قربانیاں دی ہیں تو ہم بھی قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

وکیل پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف نے ایک دن الیکشن کرانے پر اتفاق کیا ہے اور شرط رکھی کہ اسمبلیاں 14 مئی تک تحلیل کی جائیں، دوسری شرط تھی کہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں الیکشن کرائے جائیں جب کہ تیسری شرط تھی کہ انتخابات میں تاخیر کو آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی شکل دی جائے۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کی جانب سے 14 مئی کو انتخابات کے حکم پر عمل کی استدعا کردی گئی۔ اس حوالے سے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت اپنے حکم پر عمل درآمد کرواتے ہوئے فیصلہ نمٹا دے۔حکومت نے 14 مئی انتخابات کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر نہیں کی اور فاروق  نائیک نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ غیر متعلقہ ہیں، آئین سے باہر نہیں جایا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فاروق نائیک نے عدالت کو صرف مشکلات سے آگاہ کیا۔

دوران سماعت خواجہ سعد رفیق کے ساتھ مکالمے میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوئی ہدایت دیں گے نہ ہی مذاکرات میں مداخلت کریں گے۔اگر چند دنوں میں معاملہ حل نہ ہوا تو پھر دیکھ لیں گے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران فریقین کے نمائندوں نے بھی سپریم کورٹ کو پارٹی مؤقف سے آگاہ کیا۔ آخر میں چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی عدالتی سماعت مکمل ہوگئی ہے، عدالت مناسب حکم جاری کرے گی۔

You might also like

Comments are closed.