dating site linked to facebook skype add friends www dateinasia sign in singles to meet asian teen meat com is a dating site right for me asain women

بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

ترک حکومت کے عزائم: کیا اسلحے کی صنعت اس کا نیا سیاسی ہتھیار ہے؟

ترک حکومت کے عزائم: کیا اسلحے کی صنعت اس کا نیا سیاسی ہتھیار ہے؟

  • ولیم آرمسٹرونگ
  • ترکی کے امور کے ماہر

ترکی کے ڈرون

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

ترکی کے صدر اردوغان ڈرون کا معائنہ کر رہے ہیں

ترکی کی طرف سے حالیہ برسوں میں تیزی سے اپنے اسلحہ کی صنعت کو ترقی دینے کی کوششیں ترکی کی حکومت کے سیاسی ہتھیاروں میں ایک اہم ہتھیار بن گیا ہے۔

انقرہ کی طرف سے اسلحہ کی مقامی صنعت میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور جدید ہتھیاروں کی مقامی اور قومی سطح پر پیداوار پر زور ترکی کے عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور اہمیت حاصل کرنے کے عزائم کا حصہ ہیں۔

حال ہی میں ترکی کے بنائے گئے ڈرون طیاروں کو عالمی سطح پر جو شہرت حاصل ہوئی ہے اُس سے اِس کی حکمت عملی کو تقویت ملی ہے۔

گزشتہ ماہ ڈرون بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ‘بی کار’ نے جدید ترین’ اکنچی’ مسلح ڈرون طیارے ترک فوج کے حوالے کیے۔

ترک حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ترکی کی خارجہ پالیسی اور معاشرے میں عسکریت پسندی کو بڑھاوا دینے کا اشارہ دیتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے مسائل کے تناظر میں دفاعی شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کو حکومت اپنی عوامی مقبولیت قائم رکھنے کے لیے ایک اہم حربے کے طور پر استعمال کرتی رہے گی۔

دفاعی منصوبے

ترک حکام فضائی، بری اور بحری دفاعی نظاموں کی ملک کے اندر تیاری کو اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دینے کی حکومتی کوششوں کی ایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

زیرِ تعمیر منصوبوں میں خود کار بحری کشیاں، خود کار یا بغیر پائلٹ کے لڑاکا طیارے، فضائی دفاع کے نظام، بحری جہاز شکن میزائل، لڑاکا ڈرون، ٹینک اور جنگی جہاز ملک کے اندر بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔

اس سرمایہ کاری سے ترکی کے اسلحہ خانوں میں مقامی سطح پر بنائے گئے ہتھیاروں کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے۔

استنبول کے چیمبر آف کامرس کے سربراہ اردل بھاچیوان نے اس سال جنوری میں کہا تھا کہ گزشتہ پندرہ برس میں ترکی کے دفاعی شعبے میں مقامی طور پر بنائے گئے اسحلے کی شرح بیرون دنیا سے حاصل کردہ اسلحے کے مقابلے میں 20 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے۔

استنبول چیمبر آف کامرس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ دفاعی صنعت میں اس وقت ستر ہزار سے زیادہ لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا اصرار تھا کہ ترکی کے ہمسایہ ملکوں میں غیر یقینی صورتحال اور خطے میں پائے جانے والے عدم استحکام کی وجہ سے مضبوط دفاعی شعبے کا ہونا بہت ضروری ہے۔

ترکی کے ذرائع ابلاغ نے اس خبر کی خوب تشہیر کی کہ امریکی ڈیفنس نیوز میگزین نے آمدن کی بنیاد پر بنائی جانے والی دنیا کی سو بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی سنہ 2020 کی سالانہ فہرست میں ترکی کی سات کمپنیوں کے ناموں کو شامل کیا۔ سنہ 2021 کی فہرست میں یہ تعداد گر کر دو رہ گئی۔

ترکی

،تصویر کا ذریعہCNN TURK

ڈرون

ترکی کے تیار کردہ ڈرون مقامی دفاعی صنعت کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی حکومتی حکمت عملی کا مرکزی عنصر ہیں۔

بی کار کے سربراہ سلچوک بیرکتر جو صدر اردوغان کے داماد بھی ہیں وہ ترکی کے نشریاتی اداروں پر نشر ہونے والے خبرناموں کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔

اپنے تبصروں میں وہ اکثر اس بات پر زور دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ڈرون پروگرام کو بیرونی طاقتوں کی طرف سے عائد کردہ رکاوٹوں اور پابندیوں کو عبور کرنا پڑا اور مقامی وسائل پر انحصار کرنا پڑا ۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بیرکتر نے حکومت کے حامی نشریاتی ادارے سی این این ترکی سے ستمبر 2019 میں بات کرتے ہوئے ترکی کی ڈرون بنانے کی کوششوں کو ‘آزادی کی جدوجہد’ سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ ‘یہ ایک اچھی بات ہے کہ اسرائیل اور امریکہ سے ہمیں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ترکی کو بالکل ابتدا سے ہر چیز کو تیار کرنا پڑے گا۔

غرض یہ کہ ڈرون اب قومی وقار، قومی خودمختاری اور خود اعتمادی کا نشان بن گئے ہیں۔

صدر اردوغان نے کہا کہ ‘ملک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے انتہائی اہم موڑ پر تنہاہ چھوڑ دیا گیا، ملک کو جن چیزوں کی ضرورت تھی اس تک رسائی دینے سے انکار کر دیا گیا۔۔۔ہم مجبور ہو گئے کہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کریں۔’

ترکی میں شائع ہونے والے اخبار ‘یینی شفق’ کے کالم نویس حسن اوزترک نے اگست میں اپنے ایک کالم میں تحریر کیا کہ ‘اپنے اتحادیوں کی طرف سے دھمکیوں، معطلیوں اور پابندیوں کی وجہ سے ترکی اپنی دفاعی صنعت کو انقلابی رفتار سے ترقی دے رہا ہے۔’

وہ لکھتے ہیں کہ ‘ترکی اپنی دفاعی صنعت کو قومیا رہا ہے، جس سے اس کی فوج مضبوط ہو گی اور ایک مضبوط فوج سے ترکی ایسے اقدامات اٹھا سکے گا جسے سے یہ مزید آزاد اور خودمختار ہو سکے۔’

ترک ڈرون

،تصویر کا ذریعہTRT AVAZ

نتائج

جارحانہ بیان بازی کے ساتھ ساتھ انقرہ کی طرف سے حالیہ برسوں میں اپنے قریبی ہمسایہ ملکوں میں فوجی قوت کا استعمال بھی جاری ہے۔

ترکی نے کئی فوجی کارروائیاں کی ہیں تاکہ وہ اپنے دائرۂ اثر کو وسعت دے سکے، بیرونی ملکوں میں اپنے اڈے بنا سکے اور اپنی ‘پراکسی’ (بغل بچہ تنظیموں) کو استعمال کر سکے۔

مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیار شمالی عراق، شام اور لیبیا میں بہت کارگر ثابت ہوئے۔ ‘بی کار’ کے ‘ٹی بی ٹو’ مسلح ڈرون نے سنہ 2020 میں نگورنوکارباخ کی جنگ میں آذربائیجان کو آرمینیا پر برتری حاصل کرنے میں بہت مدد دی تھی۔

دفاعی ساز و سامان کی درآمدات میں دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

سٹاک ہوم کے انٹرنیشنل پیس رسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ترکی کی اسلح کی درآمدات سنہ 2016 اور 2020 کے چار سالوں میں سنہ 2011 سے 2015 کے مقابلے میں تیس فیصد بڑھی ہیں۔ اس ہی وجہ سے ترکی اسلحہ فروخت کرنے والے ملکوں کی فہرست میں 13 نمبر پر آ گیا ہے۔

ڈرون کی درآمدات کو خصوصی توجہ حاصل ہوئی۔ نگورنو کارباخ کی لڑائی سے ڈرون کی فروخت میں بڑی مدد ملی جب ڈرون کے کامیاب حملوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر آنی شروع ہوئیں۔

یوکرین، قطر، آذربائیجان، پولینڈ، البانیہ، قازقستان، مراکش، سربیا، سعودی عرب، لیٹویا اور عراق نے یا تو ترکی کے تیار کردہ ڈرون خرید لیے ہیں یا وہ خریدنے کا سوچ رہے ہیں۔

صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ ‘نہ صرف ہم اس میں خود انحصار ہو گئے ہیں، بلکہ ہم اپنے دوستوں اور اتحادیوں کو بھی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔’

ملکی وقار

ترک حکام اور ذرائع ابلاغ دفاعی شعبوں میں ترقی کی خبروں کو اجاگر کر کے ملک کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صدر اردوغان نے جولائی میں کہا تھا کہ ‘ترکی نے دفاعی ٹیکنالوجی کے حصول میں گزشتہ 15 سے 20 سال میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کو دنیا غور سے دیکھ رہی ہے۔’

وہ ترکی کی دفاعی قوت کو ترکی کے قومی کردار کا مرکزی عنصر سمجھتے ہیں۔

امریکہ میں سیاسیات کے ماہر فرانسس فوکویاما نے حال ہیں میں ترکی کے ڈرون کے بارے میں کہا تھا کہ ترکی کے تیار کردہ ڈرون نے بحری قوت کی نوعیت تبدیل کر دی ہے اور اس کی بدولت انقرہ خطے کی ایک اہم طاقت بن کر ابھرا ہے۔

فرانسس فوکویاما کے مضمون کو ترکی میں بہت پذیرائی ملی اور سرکاری معاونت سے چلنے والی اندولو ایجنسی نے بھی اسے شائع کیا۔

بی کار کے سربراہ بیرکتر نے کہا کہ ‘یہ ایک مقابلہ ہے، ہمارا ملک ایک عالمی برینڈ بن گیا ہے۔۔۔ٹی بی ٹو کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور دفاعی ماہرین دنیا کے بہتر ڈرون میں شمار کرتے ہیں۔’

عسکریت پسندی

ناقدین کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی میں جارحانہ انداز اختیار کرنے سے بیرونی دنیا سے تناؤ بڑھ رہا ہے اور ملک کے اندر آمرانہ طرز حکمرانی کو ہوا دے رہا ہے۔

بائیں بازو کے خیلات کے حامل کالم نگار انورسل نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ‘جب لوگ غربت اور بھوک میں مبتلا ہیں، اردوغان اسلحے کی پیداوار پر فخر کر رہے ہیں۔ وہ ترقی کو انسانوں کی فلاح کے حوالے سے نہیں دیکھتے بلکہ اسلحے کی صعنت میں سرمایہ کاری کے پیمانے سے دیکھتے ہیں۔ یہ عوامی کی ضروریات اور حکومت کی ترجیحات میں فرق کو واضح کرتا ہے۔’

مستقبل میں سرمایہ کاری

ترک حکام کا خیال ہے کہ دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری عوام میں مقبولیت کا باعث ہے اور اس لیے وہ معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی بے چینی کے باوجود اس پر زور دے رہے ہیں۔

اردوغان نے اس شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کا عزم کیا ہے اور اسے اپنی حکمت عملی کی ترجیح قرار دیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پائی جانے والی چالاکیوں اور بگاڑ کو درست کیا جا سکے۔

یینی شفق اور ابراھیم کاراگل نے کہا ہے کہ ترکی کے ڈرون غیر مغربی تہذیب کے عروج کی نوید ہیں اور یہ ایسی قوم کی واپسی کا باعث بن رہے ہیں جو عالمی سیاسی گٹھ جوڑ ہلا کر رکھ دے گا۔

کیا اس قسم کی قیاس آرائیاں سچ ثابت ہو سکیں گی اس سے قطع نظر انقرہ مقامی طور پر جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر بنانے کے عظیم منصوبہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ترکی کی سیاست اور خارجہ پالیسی میں جارحیت کے ساتھ ساتھ دفاعی شعبے میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا رجحان آنے والے سالوں میں برقرار رہے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.