بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

امریکہ مخالف اقدامات کے سنگین نتائج ہوں گے، بائیڈن کی روس کو تنبیہ

امریکی صدر جو بائیڈن کا پوتن کو پیغام: ’روس نے اگر امریکہ مخالف کارروائیاں کیں تو اسے سنگین نتائج کا سامنا ہوگا‘

President Joe Biden and first lady Jill Biden arrive at Newquay, Cornwall, June 9, 2021

،تصویر کا ذریعہReuters

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے پہلے بیرونِ ملک دورے کا آغاز روس کو یہ سخت تنبیہ کر کے کیا ہے کہ اگر اس نے امریکہ کے خلاف ‘نقصان دہ کارروائیوں‘ میں حصہ لیا تو اسے ’جامع اور معنی خیز نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر جو بائیڈن نے اپنے اس ارادے کا بھی اظہار کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے دور میں کمزور ہونے والے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط کریں گے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز امریکی صدر اپنے پہلے بیرونِ ملک دورے کے لیے برطانیہ پہنچے ہیں۔

وہ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات کریں گے جس میں ایک نئے ایٹلانٹک چارٹر پر اتفاق رائے کا امکان ہے۔

اس نئے معاہدہ میں صدر روزاولٹ اور وزیراعظم چتچل کے درمیان 1941 میں طے پانے والے معاہدے کا جدید ورژن ہوگا جس میں سکیورٹی کے ساتھ ساتھ موسم تبدیلی کے نکات کو بھی شامل کیا جائے گا۔

بی بی سی کی سیاسی امور کی ایڈیٹر لورا کیونسبرگ کا کہنا ہے کہ دونوں ایک اہم ترین رشتہ کو ٹرمپ دور کی اونچ نیچ اور عالمی وبا کے دباؤ کے تناظر میں تازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس انتہائی مصروف آٹھ روزہ دورے میں صدر بائیڈن وینڈزر محل میں برطانوی ملکہ سے ملاقات کریں گے، جی 7 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور بطور صدر اپنے پہلے نیٹو سربراہی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔

اپنے دورے کے آخر میں انھوں نے جنیوا میں روسی صدر پوتن سے ملاقات بھی کرنی ہے۔

President Vladimir Putin is seen on a screen in St Petersburg, Russia, June 4, 2021

،تصویر کا ذریعہReuters

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ وہ متعدد امور پر بات کریں گے جس میں ہتھیاروں کی روک تھام، ماحولیاتی تبدیلی، یوکرین میں روسی فوج کی مداخلت، روس کی سائبر ہیکنگ سرگرمیاں اور حزبِ مخالف کے رہنما الیکسی نوالنی کی قید کے معاملات ہیں۔

بدھ کے روز ماسکو کی ایک عدالت نے الیکسی نوالنی سے منسلک تین تنظیموں پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ وہ شدت پسند تنظیمیں ہیں۔

بدھ کو سفک میں رائل فضائیہ کے اڈے ملڈن ہال میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ صدر پوتن کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں۔

’ہم روس کے ساتھ لڑائی نہیں چاہتے۔ ہم ایک مستحکم رشتہ چاہتے ہیں۔ مگر میں واضح ہوں۔ اگر روسی حکومت نے امریکہ کے خلاف نقصان دہ کارروائیوں میں حصہ لیا تو اسے جامع اور معنی حیز نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکہ اور روس کے تعلقات متعدد وجوہات کی بنا پر سرد مہری کا شکار ہے۔ اپریل میں صدر پوتن نے مغربی ممالک پر روس کو بےجا نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایک حد پار نہ کریں۔

صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اپنے پہلے ’دورے کے ہر موڑ پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ اب لوٹ آیا ہے اور دنیا بھر کی جمہوریتیں مشکل ترین چیلنجز کے حل کے لیے اکھٹی کھڑی ہیں۔ ‘

جی 7 ممالک کے دیگر سربراہان نے جمعے کے روز برطانیہ پہنچنا ہے اور یہ اجلاس احتتامِ ہفتہ پر ہوگا۔

بائیڈن

،تصویر کا ذریعہPA Media

جی 7 میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ، امریکہ اور یورپی یونین شامل ہیں۔

اس اجلاس میں کورونا وائرس کے بعد کی صورتحال زیرِ بحث آئے گی۔ بورس جانسن نے اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں لکھا ہے کہ جی 7 عالمی وبائوں کے حوالے سے تیاری کی بین الاقوامی معاہدے کی تیاری کرے گا تاکہ آئندہ کبھی بھی دنیا اس طرح غفلت میں نہ پائی جائے۔

بائیڈن انتظامیہ یہ کہہ چکی ہے کہ انھوں نے آئندہ دو سالوں میں تقریباً 100 ممالک کو فائزر کووڈ19 ویکسین کی 50 کروڑ خوراکیں فراہم کرنی ہیں۔

جی 7 کے ایجنڈا میں ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی تجارت بھی شامل ہوں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.