filipina heart cupid dating singles more dating site wanted bf iligan philippines free canadian dating services

بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ کا تاریخی سکیورٹی معاہدہ ’انتہائی غیرذمہ دارانہ` اقدام

آکوس: چین کی جانب سے آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے تاریخی سکیورٹی معاہدے کی مذمت

A UK Astute Class nuclear-powered submarine

،تصویر کا ذریعہMinistry of Defence

،تصویر کا کیپشن

معاہدے کا مرکزی نکتہ آسٹریلیا کو جوہری صلاحیت سے لیس آبدوزوں کی فراہمی ہے

چین نے امریکہ، آسٹریلیا اور برطانیہ کے سکیورٹی سے متعلق نئے تاریخی معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ فعل قرار دیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجِیان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ’علاقائی امن اور استحکام کو بری طرح متاثر کرے گا اور اس سے اسلحے کی دوڑ میں شدت آ جائے گی۔‘

برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نے ایشیا پیسیفِک میں سکیورٹی کے ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہے۔

اس معاہدے کے تحت آسٹریلیا پہلی مرتبہ جوہری ایندھن سے لیس آبدوزیں بنائے گا جس کے لیے ٹیکنالوجی امریکہ فراہم کرے گا۔

اس معاہدے کو ’آکوس‘ کا نام دیا گیا ہے جو دراصل آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے ناموں کے حروف تہجی (اے، یو کے، یو ایس) پر مشتمل ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں گزشتہ کئی عشروں میں دفاعی شعبے میں یہ تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے بڑے معاہدوں میں سے ایک ہے اور اس کے تحت تینوں ملکوں میں مصنوعی ذہانت سمیت دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہو گا۔

امریکہ میں چین کے سفارتخانے نے آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس معاہدے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک ’سرد جنگ کی ذہنیت اور نظریاتی تعصبات‘ کا شکار ہیں۔

اس معاہدے سے آسٹریلیا اور فرانس کے درمیان بھی ایک نیا جھگڑا شروع ہو گیا ہے جس کے بعد فرانس نے آسٹریلیا کے ساتھ مل کر 12 آبدوزیں بنانے کا معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کا معاہدہ فرانس کی ’پیٹھ میں خنجر اتارنے‘ کے مترادف ہے۔

آکوس معاہدے کا اعلان بدھ کو انٹرنیٹ پر ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں امریکی صدر جو بائیڈن، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور ان کے آسٹریلوی ہم منصب سکاٹ موریسن موجود تھے۔

اگرچہ پریس کانفرنس میں چین کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، تاہم تینوں رہنماؤں نے (ایشیا پیسیفِک) کے خطے میں دفاعی خدشات کا بار بار ذکر کیا اور ان کا کہنا تھا کہ ان خدشات میں ’بہت زیادہ‘ اضافہ ہو گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر دفاع بین والس کا کہنا تھا کہ چین اتنے بڑے عسکری اخراجات کرنے جا رہا ہے جس کی تاریخ میں مثال کم ہی ملتی ہے۔

’چین بڑی تیزی سے اپنی بحریہ اور فضائیہ میں اضافہ کر رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ چین کچھ علاقائی تنازعات میں شریک ہے اور ان علاقوں میں ہمارے اتحادی ممالک کی خواہش ہے کہ وہ بھی اپنا دفاع کر سکیں۔‘

Who has nuclear-powered subs?

حالیہ عرصے میں چین کو اس الزام کا سامنا رہا ہے کہ وہ بحیرہ جنوبی چین میں موجود متنازعہ علاقوں میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔

نئے معاہدے کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے ’دنیا بھر میں سکیورٹی اور استحکام کو تحفظ حاصل ہوگا‘ اور اس سے برطانیہ میں ’اعلیٰ تربیت یافتہ افراد کے لیے روزگار کے ہزاروں‘ مواقع پیدا ہوں گے۔

اس کے علاوہ بورس جانسن نے یہ بھی کہا کہ فرانس کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات ’چٹان کی مانند‘ مضبوط ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آکوس معاہدہ جنگ عظیم دوئم کے بعد آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا شاید سب سے اہم دفاعی معاہدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اس معاہدے کا بڑا ہدف عسکری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا اور اور یہ معاہدہ پانچ ممالک کے درمیان ’فائیو آئیز (پانچ آنکھیں) نامی معاہدے سے الگ ہوگا جس میں آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ کے علاہ نیوزی لینڈ اور کینیڈا بھی شامل ہیں۔ فائیو آئیز کے تحت یہ پانچوں ممالک آپس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

اگرچہ نئے معاہدے میں سب سے بڑی چیز آسٹریلیا کے لیے 12 جدید ترین آبدوزوں کی فراہمی ہو گی، تاہم اس کے تحت تینوں ممالک سائبر ٹیکنالوجی اور سمندر کے اندر استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں گے۔

تینوں سربراہان کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ تینوں اقوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے جب ذہنی ہم آہنگی کے حامل ان تینوں ساتھی ممالک نے اپنی مشترکہ اقدار کے تحفظ اور اِنڈو پیسیفِک کے خطے کی سکیورٹی اور خوشحالی کے لیے‘ یہ تاریخی معاہدہ کیا ہے۔

آسٹریلیا کے معروف تھِنک ٹینک ایشیا سوسائٹی آسٹریلیا سے منسلک گائے بُکنسٹین کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تینوں ممالک نے ریت پر ایک لکیر کھینچ دی ہے اور اِنڈو پیسیفِک کے علاقے میں چین کے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘

Jean-Yves Le Drian

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

فرانسیسی وزیر خارجہ کے بقول آسٹریلیا نے فرانس کو دھوکہ دیا ہے

مغربی ممالک ایک عرصے سے بحرالکاہل کے جزیروں میں چین کی سرمایہ کاری اور تنصیبات کی تعمیر کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور چین پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ اس نے آسٹریلیا سمیت خطے کے کچھ دیگر ممالک کے خلاف تجارتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ماضی میں آسٹریلیا اور چین کے درمیان تعلقات خوشگوار رہے ہیں اور آسٹریلیا چین کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ملک رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔

لیکن جب سے آسٹریلیا نے فرانس سے 12 آبدوزوں کی خریداری کے 27 ارب پاؤنڈ کے معاہدے کو ختم کیا ہے، آسٹریلیا اور فرانس کے درمیان بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے آسٹریلیا کے ساتھ باہمی اعتبار کی بنیاد پر رشتہ قائم کیا تھا، لیکن (آسٹریلیا نے) ہمیں دھوکہ دیا ہے۔‘

جوہری آبدوزیں کیوں؟

روایتی آبدوزوں کے مقابلے میں جوہری ایندھن سے چلنے والی آبدوزوں کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے اور روایتی آبدوزوں کے مقابلے میں ان کی رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاہ جوہری آبدوزیں کئی ماہ تک سمندر کے اندر رہ سکتی ہیں، زیادہ فاصلے تک میزائل مار سکتی ہیں اور ان پر زیادہ میزائل لادے جا سکتے ہیں۔

تـجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان آبدوزوں کا آسٹریلیا میں موجود ہونا، اس خطے میں امریکہ کے اثرورسوخ کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

یہ 50 برس میں پہلا موقع ہے جب امریکہ نے کسی دوسرے ملک کو اپنی آبدوزوں کی ٹیکنالوجی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ نے یہ ٹیکنالوجی صرف برطانیہ کو دی تھی۔

اس معاہدے کے بعد امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، انڈیا اور روس کے بعد آسٹریلیا وہ ساتواں ملک ہوگا جو جوہری ایندھن سے چلنے والی آبدوزیں استعمال کرے گا۔

آسٹریلیا نے اپنے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتا۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.