اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

ہری مرچ ملٹی وٹامنز کا خزانہ

ہری مرچ کھانوں کا مزہ تو دوبالا کرتی ہی ہے لیکن یہ صحت کے حوالے سے بھی بے شمار طبی فوائد رکھتی ہے، ہری مرچ کا مزاج خشک اور گرم ہوتا ہے۔ ہری مرچ نیوٹریشنز سے بھر پور ہوتی ہے، اس میں وٹامن اے وٹامن B6 اور وٹامن سی ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس میں آئرن پوٹاشئیم اور کوپر کی بھر پور مقدار بھی پائی جاتی ہے، ہری مرچ میں کوئی کیلوریز نہیں ہوتیں ہری مرچ فائبرز سے بھر پور ہوتی ہے۔ ہری مرچ جو ہم استعمال کرتے ہیں یہ کچی ہوتی ہے یہ پوری طرح پک جانے کے بعد لال ہو جاتی ہے تو اس کے خواص ہری مرچ سے بہت ہی الگ ہو جاتے ہیں۔

ہری مرچ ہمیں سرد موسم میں اس کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے اس لیے سوپ وغیرہ میں اس کا استعمال ضرور کریں۔

ہری مرچ کے استعمال سے سکن صحت مند اور چمکدار رہتی ہے کیونکہ اس میں وٹامن سی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے، جو سکن کے لیے بہت مفید ہے۔

ہری مرچ میں بہت زبردست اینٹی ایجنگ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں جو آپ کو لمبے عرصے تک جوان رکھ سکتی ہیں، جو ہری مرچ کا باقاعدہ استعمال کرتے ہیں لمبے عرصے تک ان کے چہرے پرجھریاں نظر نہیں آتیں، خشک سکن کے لیے ہری مرچ کو سلاد میں شامل کرکے کھائیں۔

ہری مرچ کا استعمال آنکھوں کے لیے بہت بہترین ہے کیونکہ اس میں بیٹ کیروٹین پایا جاتا ہے جو کہ آنکھوں کےلیے بہت مفید ہے، آنکھیں مختلف قسم کے انفیکشنز سے محفوظ رہتی ہیں۔

ہری مرچ کا استعمال ہاضمے کے نظام کے لیے انتہائی مفید ہے جس کھانے میں ہری مرچ شامل ہو وہ کھانا ہضم آور ہو جاتا ہے۔

کھانے کے ساتھ ہری مرچ کے استعمال سے گیس کے مسئلے سے نجات ملتی ہے، بھوک نہ لگنے کی صورت میں سلاد میں ہری مرچوں کا استعمال کرنا بے حد مفید ہے، اس کے علاوہ جس سالن میں ہری ہرچ کا ستعمال کیا جائے وہ بھی بھوک بڑھانے میں مدد دیتا ہے لیکن ہری مرچ کا سالن میں استعمال اس وقت کرنا چاہئے جب سالن پک جائے اور دم دینا ہو: مثلاً سالن پکنے کے پانچ منٹ پہلے اس طرح اس کے وٹامنز اور منرلز ضائع نہیں ہوتے۔

ہری مرچ کا استعمال وزن کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے اس کے لیے ہری مرچ کو اپنے کھانوں میں استعمال کا حصہ بنالیں کیونکہ اس کے استعمال سے میٹا بولزم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور اس میں کیلوریز بھی نہیں ہوتیں، اس میں فائبر پایا جاتا ہے، جس کھانے میں فائبر پایا جائے وہ باآسانی ہضم ہو جاتا ہے۔

ہری مرچیں جسم کے امیون سسٹم کو مضبوط کرتی ہیں جس سے جسم میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی قوت پیدا ہوتی ہے، سبز مرچیں زبردست اینٹی کینسر خصوصیات کی حامل ہوتی ہیں۔ مختلف تحقیقات سے  یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ مرچوں کا ستعمال کرتے ہیں وہ مختلف قسم کے کینسر سے بچے رہتے ہیں کیونک ہری مرچوں میں طاقت ور قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں یہ آکسیڈنٹس کینسر سے بچاتے ہیں اور ساتھ ہی مختلف بیماریوں کے خلاف جسم میں مدافعت پیدا کرتی ہیں۔

ہری مرچوں کا استعمال دل کی صحت کے لیے بھی بہت مفید ہے ان کے استعمال سے خون نہیں جمتا اور نہ ہی کولیسٹرول کا لیول بڑھتا ہے جس کی وجہ سے دل کی مختلف بیماریوں سے انسان بچا رہتا ہے۔

ہری مرچوں کا استعمال دماغ کے لیے بھی بہت مفید ہے، ہری مرچوں میں ایسے کمپاؤنڈز پائے جاتے ہیں جو ڈپریشن سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔

ہری مرچوں کا استعمال نزلہ زکام اور فلو وغیرہ کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے، ہری مرچیں ناک بند نہیں ہونے دیتیں اور فلو کی شدت کو کم کرتی ہیں جسم سے فاضل اور فاسد مادوں کو نکالتی ہیں۔

اس کے علاوہ ان میں اینٹی پین کلر یعنی درد سے ریلیف دینی والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، ہری مرچوں کا استعمال مختلف درد میں آرام دیتا ہے، یہ شوگر کے مریضوں کے لیے بھی بہت مفید ہیں۔ شوگر کے مریضوں کو اپنے کھانے کے ان کا استعمال ضرور اور لازمی کرنا چاہیئے۔

یہ خون کی کمی کو بھی دور کرنے میں مدد دیتی ہیں چونکہ ان میں زبردست قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ جگر کے لیے بھی بہت مفید رہتی ہیں۔ ہری مرچوں کے ان سب خواص سے فائدہ اُٹھانے کے لیے ان کا درج ذیل طریقے سے استعمال بہت مفید ہے اور اس کو ہفتے میں 2 یا 3 مرتبہ ہی استعمال کرنا ہے۔

رات کو ایک گلاس پانی میں دو سبز مرچیں لے کر ان کو درمیان میں سے کاٹ کر ان کے بیج نکال کر ساری رات کے لیے بھگو دیں اور صبح اُٹھ کر ہری مرچوں کو نکال کر پھینک دیں اور پانی استعمال کر لیں اس کے بہت سے فوائد ہیں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.