منگل28رمضان المبارک 1442ھ 11؍مئی2021ء

کیا امریکہ کا ’بدلتا رویہ‘ سعودی عرب کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے؟

بائیڈن انتظامیہ کا یمنی محاذ پر سعودی حمایت ختم کرنے کا اعلان: امریکہ کے ’بدلتے رویے‘ کے بعد سعودی عرب کا رد عمل کیا ہوگا؟

محمد بن سلمان

امریکی صدر جو بائیڈن نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری جنگ میں سعودی عرب کو حاصل امریکی تعاون روکنے کا اعلان کیا ہے۔

چھ سالوں سے جاری اس تباہ کن جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور کے نتیجے میں دسیوں لاکھوں افراد کو فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی سے متعلق اپنی پہلی اہم تقریر میں صدر بائیڈن نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ‘یمن میں جنگ ختم ہونی چاہیے۔’

سنہ 2014 میں یمن کی کمزور حکومت اور حوثی باغیوں کے مابین تنازع شروع ہوا۔ ایک سال بعد تنازعے نے اس وقت شدید شکل اختیار کرلی جب سعودی عرب سمیت آٹھ عرب ممالک نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت سے حوثی باغیوں پر فضائی حملے شروع کر دیے۔ اور یہ حملے ہنوز جاری ہیں۔

جو بائیڈن نے جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بہت سے اہم فیصلے کیے ہیں اور اپنے پیش رو صدر کے کچھ فیصلوں کو الٹ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے امریکہ میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور جرمنی سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے فیصلے کو واپس لیا ہے۔ یہ فوجی دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے ہی جرمنی میں ہیں۔

صرف یہی نہیں، بائیڈن کے زیرقیادت امریکی حکومت سابق صدر ٹرمپ کے دور میں عرب ممالک کے ساتھ اربوں ڈالر کے فوجی معاہدوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

امریکہ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسلحہ کی فروخت کے سودوں کو بھی عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اثر ایف 35 جنگی طیاروں کے معاہدے پر بھی پڑے گا۔

یمن

امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو گائیڈڈ میزائلوں کی فروخت بھی روک رہا ہے۔ اس سے یمن کی جنگ تو متاثر ہوگی لیکن جزیرۃ العرب میں القاعدہ کے خلاف جنگ پر اثر نہیں پڑے گا۔

دریں اثنا صدر بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کی فوجی مہم میں امریکی حمایت روکنے کے بعد سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ یمن میں ‘سیاسی حل’ کے لیے پر عزم ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی حکومت نے کہا: ‘سعودی عرب، یمن بحران کے جامع سیاسی حل کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور امریکہ کی جانب سے یمن بحران کے حل کی سفارتی کوششوں کا پرزور خیرمقدم کرتا ہے۔’

سعودی عرب نے بائیڈن کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ اور اس کے خلاف خطرات سے نمٹنے میں تعاون کے عزم کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ٹویٹر پر لکھا: ‘ہم بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے، خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں سے نمٹنے کے لیے صدر بائیڈن کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم گذشتہ سات دہائیوں کی طرح امریکہ میں اپنے تمام دوستوں کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں۔’

اپنے بیان میں شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا: ‘ہم یمن کے بحران کا حل تلاش کرنے اور وہاں انسانی حالت کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔’

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو پیغام

صدر بائیڈن نے سینیئر سفارت کار ٹموتھی لینڈرکنگ کو یمن کے لیے امریکہ کا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔ انھیں اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے اور یمن بحران کا حل تلاش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے بیشتر حصوں پر حوثی باغیوں کا کنٹرول ہے۔ ٹیموتھی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ باغیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے مابین بات چیت دوبارہ شروع کرائیں۔

بی بی سی کی نمائندہ لیس ڈوسٹ کے مطابق صدر بائیڈن کا اعلان یمن جنگ کے خاتمے کے ان کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔

تاہم یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے زیرقیادت اتحاد کے لیے امریکی تعاون روکنے سے یہ خونی باب فوراً ختم نہیں ہوگا۔ لیکن امریکی صدر کی جانب سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کے لیے یہ ایک ’مضبوط پیغام‘ ضرور ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت بھی یمن جنگ سے نکلنے کے طریقوں کی تلاش میں ہے۔

بہرحال صدر بائیڈن کے لیے یمن میں امن کا قیام ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

جو بائیڈن

بائیڈن نے یہ کام ٹموتھی لینڈرنگ کو سونپا ہے جو کئی سالوں سے اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں اور اس میں شامل تمام لوگوں سے واقف ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات تھے۔ انھوں نے نہ صرف یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے تعاون کو جاری رکھا بلکہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں کو امریکی دفاعی صنعت کے لیے بھی اہم قرار دیا۔

صدر ٹرمپ کے دور کے خاتمے کے بعد سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات میں بدلاؤ آنا شروع ہوگیا ہے۔ بائیڈن کے حالیہ اعلان کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کو اب نئی شکل دی جائے گی۔

بائیڈن کے صدر بننے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی تو آئے گی، لیکن تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کا سعودی عرب پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

مشرقی وسطی کے امور کے ماہر اور نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر پی آر کمارسوامی کا کہنا ہے کہ ‘یمن کے بارے میں بائیڈن پالیسی سے سعودی عرب کو اس جنگ سے نکلنے کا موقع ملے گا۔’

دوسری طرف انقرہ میں یلدرم یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر عمیر انس کہتے ہیں کہ ‘امریکہ اور سعودی عرب کے مابین تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ توانائی اور سکیورٹی کے شعبے میں دونوں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ اگر امریکہ سعودی عرب کو دوست نہیں رکھتا ہے تو خلیج فارس کی سلامتی پر سوالات پیدا ہوں گے۔ ایسی صورتحال میں بائیڈن کی آمد سے سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔’

بائیڈن کا یمن کے متعلق موقف پہلے سے ہی واضح تھا۔

عمر کا کہنا ہے کہ ‘یمن کے متعلق سعودی عرب پر یقینا دباؤ رہے گا۔ متحدہ عرب امارات نے خود کو اس جنگ سے پیچھے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر متحدہ عرب امارات پیچھے ہٹتا ہے تو یمن کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔

جمال خاشقجی

جمال خاشقجی

خاشقجی کا معاملہ سعودی عرب کے لیے پریشانی کا باعث

بائیڈن انتظامیہ میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ہلاکت کا معاملہ سعودی عرب کو پریشان کر سکتا ہے۔ خیال رہے کہ سعودی حکومت کے ناقد خاشقجی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا۔

عمیر انس کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ میں خاشقجی کی موت کا معاملہ ایک بار پھر کھڑا ہوسکتا ہے۔

عمیر کا کہنا ہے کہ ‘بائیڈن انتظامیہ جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے پر سعودی عرب کو ضرور گھیرے گی۔ امریکہ میں بہت سارے قانونی عمل شروع ہوسکتے ہیں اور اس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نام بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اگر ولی عہد کا نام لیا گیا تو پریشانی ہوسکتی ہے۔ یہ معاملہ اور اس سے متعلق قانونی پہلوؤں کو کس طرح حل کیا جائے گا یہ سعودیوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہوسکتا ہے۔’

سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے کہ خاشقجی کی موت میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملوث تھے۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے مصنف اور تجزیہ کار علی شہابی کہتے ہیں کہ امریکہ کو سعودی شہزادے کو شبے کا فائدہ دینا پڑے گا کیوں کہ ’ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔’

خفیہ ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ سی آئی اے کا ‘خیال ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خاشقجی کے قتل کا حکم دیا ہوگا۔’

لیکن علی شہابی کہتے ہیں کہ ‘خواہ وہ سی آئی اے ہو یا محکمہ داخلہ یا پینٹاگون، حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطی میں کچھ کرنے کے لیے امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ رہنا بہت ضروری ہے۔’

دریں اثنا عمیر انس کا کہنا ہے کہ ‘خلیج فارس کی سلامتی اہم ہے اور بائیڈن انتظامیہ چین یا روس کا اثر و رسوخ یہاں نہیں ہونے دینا چاہے گی۔ بائیڈن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جہاں جہاں بھی روس کا اثر و رسوخ ہے امریکہ اپنا اثر و رسوخ بڑھائے گا۔’

ایران

ایران کا جوہری معاہدہ اور سعودی اختلاف

سعودی عرب اور امریکہ کے مابین ایران کے جوہری معاہدے پر بھی اختلافات ہوسکتے ہیں۔ اوباما کے دور میں سعودی عرب نے بھی متفقہ طور پر ایران معاہدے کی حمایت کی تھی۔

بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سنہ 2015 کے جوہری معاہدے پر دوبارہ عملدرآمد کرنے جارہے ہیں۔

تاہم بائیڈن انتظامیہ یقینی طور پر ایران پر کچھ نیا دباؤ بنانے کی کوشش کرے گی۔ سعودی عرب چاہے گا کہ اس معاملے میں اس کے کچھ مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ تاہم ایران نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جو معاہدہ منسوخ کیا تھا اس پر دوبارہ عملدرآمد کیا جائے گا۔

خارجہ امور سے متعلق یورپی کونسل کی مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے پروگرام کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایلی جیرانمایہ کہتی ہیں کہ ‘اگر آپ خارجہ پالیسی، جوہری ڈس آرمامنٹ اور محصول کے عہدوں پر بائیڈن انتظامیہ کی تقرریوں کو دیکھیں تو سارے جوہری مذاکرات اور معاہدوں پر عمل درآمد کرنے سے براہ راست منسلک رہے ہیں۔’

عمیر انس کہتے ہیں: ‘ایران کے ساتھ معاہدے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کیا ہوتا ہے یہ بات بھی سعودی عرب کے لیے بہت اہم ہوگی۔ سعودی عرب اپنے پڑوس میں شیعہ ملک کو بااختیار دیکھنا نہیں چاہے گا۔’

سعودی عرب مشرق وسطی میں امریکہ کا ایک اہم سکیورٹی حلیف ہے اور خطے میں شیعہ باغی گروپوں کو روکنے میں اس کا کردار کارآمد رہا ہے۔

پروفیسر کمارسوامی کا کہنا ہے کہ ‘بائیڈن ایران کے بارے میں صدر اوباما کی پالیسی نہ اپنا سکیں گے۔ وہ سعودی عرب کو نظرانداز نہیں کرسکیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بائیڈن کی ایران پالیسی میں سعودی عرب بھی شامل ہوگا۔’

مظاہرہ

وائٹ ہاؤس میں نئی ٹیم کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا چیلنج

صدر بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے نام پر ایک خالی چیک کاٹ دیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ٹرمپ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ’آنکھیں بند کر رکھی ہے۔’

وائٹ ہاؤس کی نئی ٹیم نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات دوبارہ طے کیے جائیں گے اور اس رشتے کے مرکز میں انسانی حقوق کو اہمیت حاصل ہوگی۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے 2017 میں اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے بعد سے انھوں نے سعودی عرب میں بہت سی معاشرتی تبدیلیاں کیں۔ لیکن اظہار رائے کی آزادی پر اب بھی شدید پہرا ہے۔

پروفیسر پی آر کمارسوامی کا کہنا ہے کہ ‘یہ واضح ہے کہ یہ حکومت ٹرمپ جیسی دوستانہ نہیں ہوگی۔ لیکن پچھلے چار سالوں میں سعودی عرب میں بہت کچھ بدلا ہے۔ سعودی عرب اب اسرائیل کے قریب ہے۔

‘امریکہ میں نئی حکومت کی وجہ سے جو نئے حالات پیدا ہوئے ہیں وہ سعودیوں کے لیے ایک چیلنج اور ایک موقع دونوں ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب کس طرح اپنے کارڈ کھیلتا ہے۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.