اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنا، ادارہ شماریات

ادارہ شماریات نے مہنگائی پر ہفتہ وار اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.81 فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا سبب بنا۔

 چینی، آٹا، چکن، انڈے، چاول، دالیں، گھی، کوکنگ آئل، لال مرچ، چاول ایک ہفتے کےدوران مہنگے ہوئے۔ ایک ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 24 اشیاء خورد و نوش کی قیمتیں بڑھیں۔

ادارہ شماریات نے مزید کہا کہ ایک ہفتے کے دوران چینی 3 روپے 37 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی۔ اور چینی کی فی کلو قیمت 90 روپے 22 پیسے سے بڑھ کر 93 روپے 59 پیسے ہو گئی۔ 

ایک ہفتے کے دوران گھی کی فی کلو قیمت میں ساڑھے 3 روپے اضافہ ہوا۔ ملک میں گھی کی فی کلو اوسط قیمت 291 روپے 65 پیسے تک پہنچ گئی۔ چکن کی فی کلو قیمت میں اوسط 11 روپے 47 پیسے اضافہ ہوا۔ 

ملک میں چکن کی فی کلو اوسط قیمت 225 روپے تک پہنچ گئی۔ انڈے کی فی درجن اوسط قیمت میں 6 روپے 80 پیسے اضافہ ہوا۔

اسی طرح ایک ہفتے کے دوران 20 کلو آٹے کا تھیلا 24 روپے مہنگا ہو گیا۔ دال چنا 2 روپے، دال کی ماش ڈیڑھ روپیہ اور دال مونگ ایک روپے مہنگی ہوئی۔ دال مسور، مٹن، خشک دودھ اور صابن کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ 

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 6 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔ جن میں ٹماٹر، آلو، پیاز، لہسن، گڑ اور ایل پی جی کی قیمت کم ہوئی۔ ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 7 روپے 50 پیسے اور لہسن کی اوسط فی کلو قیمت میں 2 روپے 70 پیسے کمی آئی۔ 

ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 34 روپے 20 پیسے سستا ہوا۔

ملک میں ٹماٹر کی فی کلو اوسط قیمت 32 روپے 75 پیسے ہو گئی۔ آلو 37 روپے 48 پیسے، پیاز 38 روپے 19 پیسے فی کلو ہو گیا۔ دودھ، دہی، نمک، سمیت 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.