بدھ4؍ رجب المرجب 1442ھ 17؍فروری 2021ء

پی ٹی آئی حکومت کی کفایت شعاری کے نتائج آنا شروع ہوگئے

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کے نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ڈھائی سال کے دوران وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں 49 فیصد اور پرائم منسٹر آفس کے خرچ میں 29 فیصد بچت کی گئی، جبکہ وزیراعظم عمران خان کا کوئی کیمپ آفس بھی نہیں ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق پی پی دور حکومت میں صدر آصف زرداری کے 2 کیمپ آفسز پر 3 ارب 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

ن لیگ کے دور میں وزیر اعظم نوازشریف کے رائے ونڈ کیمپ آفس پر 4 ارب 30 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

اس رپورٹ میں سرکاری دستاویزات کے مطابق 2018 میں وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات50 کروڑ 90 لاکھ روپے تھے۔

2019 میں پی ٹی آئی کی حکومت کفایت شعاری کے ذریعے یہ اخراجات 33 کروڑ 90 لاکھ روپے پر لے آئی، 2020 میں یہ اخراجات 28 کروڑ روپے ہو گئے۔

وزیراعظم آفس کے 2018 میں اخراجات 51 کروڑ 40 لاکھ روپے تھے جو 2019 میں کفایت شعاری سے 30 کروڑ 50 لاکھ روپے ہوئے جب کہ 2020 میں یہ 33 کروڑ 40 لاکھ روپے رہے۔

وزیراعظم ہاؤس کو چلانے کے لیے موجودہ سالانہ فنڈز 18 کروڑ روپے مختص ہیں، وزیر اعظم ہاؤس کی کوئی صوابدیدی گرانٹ بھی نہیں، کسی کو کوئی تحفہ اور نہ ہی نقد ایوارڈ دیا گیا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق نواز شریف نے بطور وزیراعظم 92 غیرملکی دورے کیے تھے، جن پر ایک ارب80 کروڑ روپے خرچ ہوئے، یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم 48 غیرملکی دورے کیے، جن پر 57 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

عمران خان نے بطور وزیراعظم 26 غیرملکی دورے کیے جن پر 17 کروڑ 60لاکھ روپے کے اخراجات آئے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.