اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

پہلی مصری حاملہ ممی کی دریافت

پولینڈ: سائنسدانوں کا پہلی مصری حاملہ ممی دریافت کرنے کا دعویٰ

Image showing scans and visualisations of the mummy and encasing

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project

،تصویر کا کیپشن

پولینڈ کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اس دریافت کو ’بہت خاص‘ قرار دیا ہے

پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے۔ یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے۔

جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

پہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انھوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ ’پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔‘

جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

محققین نے اس کام کے لیے سی ٹی سکینر اور ریڈیولوگسٹس کی مدد حاصل کی

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project

،تصویر کا کیپشن

محققین نے اس کام کے لیے سی ٹی سکینر اور ریڈیولوگسٹس کی مدد حاصل کی

پولش اکیڈمی آف سائنسز کی ٹیم کے رکن وہچیک ایجسمنڈ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹ پریس کو بتایا کہ ’یہ اب تک کی ہماری سب سے اہم اور سب سے بامعنی دریافت ہے۔‘

ماں کے پیٹ کے اندر سے چار بنڈل نکلے جن میں خیال ہے کہ اعضا کو حنوط کر کے رکھا گیا تھا، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جنین کو بچہ دانی سے نہیں ہٹایا گیا تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

’پر اسرار خاتون‘

ممی پراجیکٹ کے محققین نے اس کے متعلق مختلف رازوں کی وجہ سے اسے وارسا میں نیشنل میوزیم کی ’پراسرار خاتون‘ کا نام دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ممی کی باقیات کو سب سے پہلے یونیورسٹی آف وارسا کو 1826 میں عطیہ کیا گیا تھا۔ اسے دینے والے کا دعویٰ تھا کہ ممی تھیبیس کے شاہی مقبرے سے ملی تھی، لیکن محققین کہتے ہیں کہ انیسویں صدی میں نوادرات کی قدر بڑھانے کے لیے انھیں مشہور مقامات سے جھوٹ موٹ منسوب کر دیا جاتا تھا۔

اس کے تابوت اور سارکوفگس پر پرتعش نقش کاری کو دیکھ کر 20 ویں صدی کے ماہرین یہ یقین کرنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ اس کے اندر ایک مرد پجاری کی ممی ہے جس کا نام ہور جیہوٹی تھا۔

لیکن اب سائنس دانوں نے سکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے شناخت کے بعد کہا ہے کہ یہ ایک خاتون کی ممی ہے، جسے انیسویں صدی کے دوران کیس وقت قدیم نوادرات بیچنے والوں نے غلط تابوت میں بند کر دیا تھا۔

The mummy is seen lying down in place by casing

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project

،تصویر کا کیپشن

ماہرین کا کہنا ہے کہ خاتون کو بہت احتیاط سے حنوط کیا گیا تھا اور اس سے لگتا ہے کہ وہ کسی اونچے گھرانے سے تھی

Mummy-shaped amulets are seen on scan inside the body of mummy

،تصویر کا ذریعہWarsaw Mummy Project

،تصویر کا کیپشن

ممی کے ساتھ کچھ تعویذ بھی ملے تھے

محققین کے مطابق ممی بہت ’اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

پراجیکٹ کے محققین میں سے ایک ڈاکٹر مرزینا اوزاریک سلکے نے پولینڈ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ان کے شوہر نے پہلے ایک سکین کے دوران ایک ’چھوٹا سا پاؤں‘ دیکھا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.