ہفتہ21؍رجب المرجب 1442ھ 6؍مارچ 2021ء

’پولیس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میرا مرحوم شوہر جادوگر تھا‘

کینیا کا گاؤں جہاں بڑی عمر کے افراد کو جادوگر قرار دے کر ہلاک کر دیا جاتا ہے

کینیا

شوہر کی موت نے چیریندو کو تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے حالانکہ انھیں یقین ہے کہ وہ انھیں بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے انھیں آگاہ کیا گیا ہے کہ درحقیقت اُن کے دیور (مرحوم شوہر کے بھائی) نے اپنے بھائی کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی اور اس نے پولیس کے سامنے اس منصوبہ بندی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ جبکہ کرائے پر جس قاتل کی خدمات حاصل کی گئیں تھیں وہ بھی پولیس کی تحویل میں ہے۔

ان دونوں افراد نے عدالت کے روبرو ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایک گاؤں میں بہت سی قبریں

کینیا

کِلیفی شہر میں بونی کسیمانی گاؤں کے رہائشیوں کے لیے چیریندو کو ملنے والا یہ درد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جادوگری پر وسیع پیمانے پر اعتقاد کی وجہ سے بعض اوقات ان گاؤں کے رہائشیوں کے آپسی رشتے قائم نہیں رہ پاتے۔

اس گاؤں میں متعدد قبریں ہیں جن میں دفن بیشتر افراد کو بھیانک انداز میں قتل کیا گیا۔

اس خطے میں یہ بات بہت عام ہے کہ انسانوں کو ہونے والی بیماریوں، اموات یا ذاتی نوعیت کے نقصانات یا بدشگونیوں کو جادو ٹونے سے منسلک کر دیا جائے۔

اکثر بوڑھے افراد پر جادو کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اور اس نوعیت کے الزام کی سزا بعض اوقات سفاکانہ انداز میں کسی جیتے جاگتے شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دینا ہے۔

اس الزام کے تحت ہلاک کیے جانے والے لوگوں کو یا تو بیدردی سے تشدد کے ذریعے یا جلا کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ اور قتل کرنے والوں میں اکثر اوقات اپنے ہی رشتہ دار ملوث ہوتے ہیں۔

یہاں کے روایتی عقائد عیسائیت اور اسلام ہیں، جو کینیا کے بڑے مذاہب میں سے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے سنہ 2010 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق کینیا میں 11 فیصد لوگ جادوگری پر یقین رکھتے ہیں۔

یہاں کی حکومت جادو ٹونے سے متعلق عوامی اعتقاد کے پھیلاؤ کے بارے میں اعداد و شمار جمع نہیں کرتی ہے۔ کینیا میں قانون کے مطابق جادو ٹونہ کرنا غیر قانونی ہے اور اس میں ملوث افراد کو 10 سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

لیکن مقامی میڈیا اکثر جادو گری کے بارے میں رپورٹ کرتا رہتا ہے۔ جادو ٹونہ یہاں رائج روایات کی عکاسی کرتا ہے۔

اکثر ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں کہ جادو کرنے کے شک پر کسی شخص کو مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف کیلیفی کاؤنٹی میں ہی گذشتہ دو سالوں کے دوران جادو ٹونہ کرنے کے الزامات پر ڈیڑھ سو سے زیادہ بڑی عمر کے افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

شک

کینیا

ان اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ اس گاؤں میں بسنے والے بوڑھے مرد اور خواتین کو اپنی جانوں کا خوف لاحق رہتا ہے۔

جب بی بی سی گذشتہ سال کے آخر میں یہاں کا دورہ کیا تھا تو ٹیم کو یہاں بہت سے نوجوان لوگ نظر آئے تھے جو یہاں کی روایتی موٹر سائیکل ٹیسکیوں پر سفر کر رہے تھے۔اس ہجوم میں کسی بزرگ شخص کو ڈھونڈنا مشکل تھا۔

شاید آپ کے لیے یہ حیرت کی بات ہے لیکن یہاں کسی بوڑھے آدمی کے نام لینا لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات کا باعث بنتا ہے۔ جادو ٹونے کے عمل سے بوڑھوں کو منسلک کرنا آبادی کے کچھ حصوں میں خوف پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔

یہاں بسنے والے بزرگ افراد اور ان کے گھر والے اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ شاید معاشرے میں رائج عقائد کی وجہ سے ان پر حملہ نہ ہو جائے۔

گاؤں میں حال ہی میں ہلاک ہونے والے چیسوبی کی قبر سے چند میٹر کے فاصلے پر ایک اور قبر ہے، یہ قبر موواکیو زایئو نامی نوجوان کے والد کی ہے جنھیں پچھلے سال قتل کیا گیا تھا۔

موواکیو زایئو کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو اس شبہے میں مارا گیا تھا کہ وہ جادوگر تھے، اگرچہ وہ اس الزام کا انکار کرتے ہیں۔

موواکیو نے بتایا کہ ’میں نے انھیں ایک دن بھی نہیں دیکھا کہ وہ ایک جادوگر کی حیثیت سے کچھ کر رہے ہوں۔‘

مگر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے علاقے ہونے والی اموات کے الزام میں 28 افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

تاہم کووڈ 19 کی وبائی بیماری کے پھیلنے سے اس نوعیت کے کیسز کی شنوائی میں کچھ تاخیر ہوئی ہے۔ تاخیر کا شکار ہونے والے چند کیسوں میں چسوبی کے قتل کا کیس بھی شامل ہے، جس کی شنوائی فروری میں عدالت میں ہونی تھی۔

کینیا مسلم یوتھ الائنس کے پروگرام کوآرڈینیٹر خمیسی موگوزو بھی معاشرے میں پائے جانے والے اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کو حل کرنے کے لیے سب لوگوں کی شراکت درکار ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بسنے والے مختلف گروہ مذہبی یا ثقافتی اختلافات سے جنم لینے والے مسائل کا الزام بھی ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

وہ ان مذہبی اور ثقافتی گروہوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اور ان کے مابین مفاہمت کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ‘کچھ مسیحیوں کا کہنا ہے کہ ‘کایا لیڈرز دراصل شیطان ہیں اور ان کی سوچ انتہائی پسماندہ ہے۔’

انھوں نے کہا ‘بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صورتحال مذہبی لوگوں کی وجہ ہے۔’

مسٹر موگوزو کا کہنا ہے کہ تمام گروہوں کو بشمول عیسائی، مسلمان اور کایا برادری کے بزرگوں کو ‘اکٹھا ہونا چاہئے، امن کی تبلیغ کرنی چاہیے اور رہائشیوں کو یہ تعلیم دینی چاہیے کہ یہاں کوئی جادو ٹونہ نہیں ہے۔’

انھوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ والدین کی جانب سے ملنے والی واراثتی زمین پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے روزگار کے مواقع خود پیدا کریں۔

زمینوں کے جھگڑے

کینیا

چیریندو چسوبی کے شوہر کی ہلاکت کو لگ بھگ اب ایک سال ہو چکا ہے اور وہ اس امید کا دامن تھامے بیٹھی ہیں کہ انھیں انصاف ملے گا۔

انھیں یقین ہے کہ ان کے مرحوم شوہر کا جادو ٹونے سے کچھ لینا دینا نہیں تھا بلکہ یہ وراثتی زمین کا جھگڑا تھا جس کے باعث ان کے شوہر کو قتل کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر اور دیور کے درمیان والد کی جانب سے ملنے والے ایک فارم پر جھگڑا تھا اور کچھ ہی دنوں میں اس فارم کی زمین دونوں بھائیوں میں تقسیم ہونے والی تھی۔

پولیس کمانڈر فریڈ ابوگا نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک ہونے والے تحقیقات کے مطابق ایسے کیسز میں عموماً وجہ تنازع زمین، جائیداد اور فوری دولت کے حصول کا لالچ ہوتا ہے۔

’ان سارے معاملات کی جڑیں وراثتی زمینوں سے جا ملتی ہیں۔ ہلاک ہونے والے بہت سے بزرگ افراد کے نام پر زمینیں موجود تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ دراصل خاندان ہی کے کم عمر افراد ہوتے ہیں جن کے زیر ملکیت نا تو کسی قسم کی کوئی زمین ہوتی ہے اور نا ہی ان کا کوئی اور ذریعہ معاش ہوتا ہے اور اسی باعث وہ اس نوعیت کے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔‘

ہم آزاد نہیں ہیں

اس مسئلے سے نمٹنے کی کوششوں کے باوجود ہلاکتوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

بزرگوں کی مقامی کونسل کے چیئرمین ڈینیئل میوارا گیارو کا کہنا ہے کہ ‘جیسا کہ ہم ابھی بات کر رہے ہیں تو ہمارے ایک بزرگ قبرستان میں حال ہی میں دفنائے گئے ہیں۔’

’چند روز قبل ہی ایک بزرگ شخص کو ذبح کر دیا گیا تھا، لہذا یہ قتل و غارت گری جاری ہے اور ہم خوف میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔‘

یہاں تک کہ چسوبی کے اہلخانہ ابھی تک اس بات پر بے چین ہیں کہ ان کے شوہر کے قتل کے بعد سے کیا کچھ ہوا ہے۔

اپنے دیور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اب وہ میرے بچوں پر ناراض ہے۔‘

’ہمیں اپنی زمین چھوڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے کیونکہ ان کے مطابق ہم اس کے متعلق بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔‘

’ہم نے اس کی اطلاع پولیس کو نہیں دی۔‘

’انھوں نے کہا کہ ‘ہم آزاد نہیں ہیں ہم بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔‘

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.