منگل28رمضان المبارک 1442ھ 11؍مئی2021ء

پاکستان کو بدنام کرنیوالا بھارت خود کٹہرے میں کھڑا ہوگیا

پاکستان کو بدنام کرتے کرتے بھارت اب خود کٹہرے میں کھڑا  ہوگیا ہے۔

اس حوالے سے یورپین قانون سازوں کو پہلی مرتبہ حقیقی طور پر یہ پتہ چلنا شروع ہوا ہے کہ تصویر کے سامنے کا چمکتا دمکتا بھارت ’جھوٹ گھڑنے‘ کی بھی ہر حد پار کر سکتا ہے۔ 

یورپین قانون سازوں کو بھارت کے منفی کردار کی یہ آگاہی اس وقت حاصل ہوئی جب یورپین پارلیمنٹ کی جانب سے یورپین یونین میں تمام جمہوری عملوں میں ڈس انفارمیشن سمیت مداخلت سے متعلق خصوصی کمیٹی (INGE ) نے جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام پر مختلف ممالک کے کردار کا جائزہ لینے کے لیے دو روزہ سماعت کی۔

یاد رہے کہ یورپین پارلیمنٹ نے، یورپین یونین میں اس کے جمہوری عمل اور اس کے اداروں کو جعلی معلومات کی بنیاد پر متاثر کرنے والے کرداروں کی نشاندہی اور انہیں بے نقاب کرنے کے لیے یہ خصوصی کمیٹی 23 ستمبر 2020ء کو قائم کی تھی، اس اس خصوصی کمیٹی کا مینڈیٹ ایک سال ہے جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام گروپوں سے تعلق رکھنے والے 33 ارکان شامل ہیں۔

25 اور 26 جنوری کو آن لائن اور آف لائن منعقد ہونے والی اس سماعت کا عنوان ’جغرافیائی سیاسی لحاظ سے تیسرے ملک کی مداخلت کے ممکنہ خطرات،

( Possible threats of interference from third countries in a geological context)

تجویز کیا گیا تھا جس کے تحت اس سماعت میں بھارت، چائنہ اور ایران کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔

سماعت میں یورپین قانون سازوں کو خصوصی طور پر بلائے گئے ماہرین نے اپنی تحقیق کی روشنی میں آگاہی فراہم کی ۔ اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین ایس اینڈ ڈی گروپ کے فرانس سے تعلق رکھنے والے رافیل گلوکسمین ایم ای پی نے کی۔ 

اس سماعت میں ڈس انفولیب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الیگزینڈر ایل فلپ اور مینیجنگ ڈائیریکٹر گیری ماچاڈو نے بھارتی کرانیکل کے حوالے سے اپنی تحقیق ممبران پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی۔

انہوں نے انتہائی کم وقت کے باوجود مختلف سلائیڈز کے ذریعے ثابت کیا کہ کس طرح جعلی ویب سائٹس اور جعلی سوشل میڈیا پیجز کے ذریعے انڈیا اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایک طویل عرصے سے یورپین دارالحکومت اور دیگر بین الا قوامی اداروں کو متاثر کرنے، ایک سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھارتی عوام کو غلط تاثر دینے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے اخبارات ہیں جن کے پیچھے حقیقی طور پر کوئی صحافی موجود نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس میں ریاست کی براہ راست مداخلت ثابت نہیں کی جاسکتی  لیکن غیر حقیقی کرداروں کے ساتھ اتنے وسیع کام کا جاری رکھنا سوالیہ نشان ہے۔ 

اس موقع پر انہوں نے ممبران پارلیمنٹ کے سامنے اپنے آپ کو یورپین پارلیمنٹ کے اخبار کے طور پر پیش کرنے والے ای پی ٹو ڈے کی مثال دی جو ای یو ڈس انفولیب کی تحقیق سامنے آنے کے بعد 2019ء میں بند کردیا گیا لیکن 2020ء میں ای یو کرانیکل کے نام سے دوبارہ سامنے آگیا۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ کس طرح اس تحقیق کے بعد ڈس انفولیب کے محققین اور ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دی گئیں، انہوں نے کہا کہ درجنوں فیک اکاؤنٹس سے ان کے خلاف 4500 ٹویٹس کی گئیں۔ اسی طرح انہوں نے سری واتسو گروپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کو متاثر کرنے کے لیے سیمینار منعقد کرنے، وہاں پڑھنے کے لیے آئے ہوئے بین الاقوامی طالبعلموں کو رقوم فراہم کرنے اور مختلف مظاہروں کا ذکر بھی کیا۔ 

گیری ماچاڈو نے ممبران پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ یورپین شناخت کے حامل انٹرنیٹ کے ڈو مین نام حاصل کرنے، صحافی نہ ہونے کے باوجود صحافی ہونے اور اسی انداز میں لابی کرنے کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ کے ذاتی دورے کو یورپین یونین کا آفیشل دورہ ظاہر کرنے کے تاثر کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ 

سماعت کے دوران مختلف گروہوں کے ممبران پارلیمنٹ نے ای یو ڈس انفولیب کے ذمہ داران کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور ان سے اس رپورٹ کے حوالے سے مختلف سوالات کیے۔ 

INGE کمیٹی کی اس سماعت کے دوران چئیرمین نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ یہ سماعت اقوام کے خلاف نہیں بلکہ مختلف حکومتوں کی جانب سے غلط معلومات کی بنیاد پر اداروں کو متاثر یا ان کی سوچ میں تبدیلی لانے کے عمل کی واضح نشاندہی کے لیے کی جارہی ہے۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.