اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

نشاناتِ انگشت کے نیچے انگلیوں کو حساس بنانے والے اعصاب دریافت

سویڈن: ہماری انگلیوں پر نشانات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چیزوں پر گرفت کرنے میں مدد دیتے ہیں اور ارتقائی عمل کے تحت ایسا ہی ہوا ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انہی میں ان اعصاب کے سرے ہوتے ہیں جو ہمارے لمس کو اتنا حساس بناتے ہیں کہ ہم معمولی گرمی، ٹھنڈک، نرمی اور سختی محسوس کرلیتے ہیں۔

سویڈن کی اومیا یونیورسٹی کی سائنسداں ڈاکٹر اویا جیروکا کہتی ہیں کہ فنگرپرنٹ ہمیں ہروہ معلومات کی تفصیل دیتے ہیں جو چھونے کے عمل سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جیروکا نے بتایا کہ اس سے قبل عام تاثر یہی تھا کہ نشاناتِ انگشت کسی شے کو تھامنے کے لیے ارتقائی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً اس کے ابھار اور ڈیزائن ہماری انگلیوں سے قلم پھسلنے سے روکتے ہیں۔ لیکن دیگر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ یہ چھونے کے احساس کو مزید بہتر اور مؤثر بناتے ہیں۔

جیروکا کہتی ہیں کہ بعض افراد کی انگلیوں کے پوروں میں اعلیٰ درجے کی حساسیت ہوتی ہے اور ان پر کئی تجربات کے باوجود بھی کوئی واضح جواب نہیں مل سکا ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے اپنی تحقیق کا آغاز کیا۔

سوانہوں نے 20 سے 30 سال کی چھ خواتین اور چھ مردوں کو پر ایک تجربہ کیا۔ ان سب کو باری باری دندان ساز کی مخصوص کرسی پر بٹھایا۔ ان کے ہاتھوں کو ایک جگہ سیدھا رکھا گیا۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے ریگ مال جیسا کاغذ لیا جس پر چھوٹے اور ہموار ابھار تھے۔ ہر ابھار نصف ملی میٹر بلند تھا اور اب کاغذ کو مختلف رفتار اور مختلف سمتوں یں انگلیوں کے سروں پر رگڑا گیا۔ اس دوران ہر اعصابی خلیے کی برقی سرگرمی کو نوٹ کیا گیا ۔ یہ ریکارڈنگ ہر شریک کے اوپری بازو پر لگے ٹنگسٹن کے حامل الیکٹروڈ سے نوٹ کی گئی تھی۔

اس تحقیق سے پورے عمل، معلومات اور ڈیٹا کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ آخرکار معلوم ہوا کہ حساس ترین علاقہ فنگر پرنٹس میں ہی موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارا دماغ چھونے کا حساس ترین احساس فنگرپرنٹس سے ہی لیتا ہےاور اسی جگہ اعصابی ریشوں کے سرے بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر اومیا کہتی ہیں کہ اس تحقیق کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نشاناتِ انگشت کے دیگر اور استعمالات نہیں ہیں۔ یہ اشیا کو تھامنے میں مدد دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی حساسیت سے بھی بھرپور ہیں۔

You might also like

Comments are closed.