جمعرات یکم شوال المکرم 1442ھ13؍مئی 2021ء

مرگی کا مرض، اسباب کیا ہیں؟

مرگی (صرع) کا لغوی معنی ‘گرانے والی بیماری’ ہے اور اس مرض میں آدمی یک دم بے ہوش ہو کر گر پڑتا ہے جبکہ بے قراری جیسی حرکات  کرتا ہے، ہاتھوں، پاؤں میں تشنج (کھچاؤ) ہوتا ہے اور بعض اوقات انسان چیخ مارکرگرتا ہے، منہ سے جھاگ جاری ہوجاتی ہے اور سانس مشکل سے آتی ہے۔

یہ مرض دوروں کی شکل میں بار بار ہوتا ہے اور پاکستان میں ہر ایک ہزار میں سے دس اشخاص اس مرض میں مبتلا پائے جاتے ہیں جبکہ زیادہ  تریہ مرض سرد علاقوں میں ہوتاہے،  جیسے دنیا میں ڈنمارک ، ناروے ، سویڈن ، آئس لینڈ میں پایا جاتا ہے تاہم ناروے میں تقریباََ تیس ہزار آدمی اس مرض میں لازمی مبتلا رہتے ہیں۔

مرگی کیوں لاحق ہوتی ہے؟

مغربی ماہرین  کے تحت 32 فیصد یہ مرض دماغی رسولی، چوٹ، صدمہ، جراثیم، شراب خوری، نیند کی کمی، دماغی خشکی، دماغ کی لاغری، خون کی شریان اور ورید کی ساخت میں خرابی سے ہوتا ہے جبکہ 68 فیصد کیسز میں سبب کا پتہ نہیں چلتا۔

یونانی ماہرین کا کہنا ہے کہ 68 فیصد کیسز سے پردہ ہٹایا ہےکہ اس مرض کا سبب دماغ (بھیجے) میں ہوتا ہے یا دیگر اعضائے بدن میں اور ان کی مختلف علامات ہوتی ہیں جبکہ  اگر سبب دماغ ہی میں ہو تو اس مرض کے دورے سے زبان  میں لکنت ، حرکات میں سستی ، سر میں درد اور بھاری پن رہتا ہے اور دماغ میں اس مرض کا حملہ دماغ بطن (وینٹریکل) میں اور اعصاب کے اگنے کے مقام پر ہوتا ہے۔

The post مرگی کا مرض، اسباب کیا ہیں؟ appeared first on Urdu News – Today News – Daily Jasarat News.

بشکریہ جسارت
You might also like

Comments are closed.