اتواریکم رجب المرجب 1442ھ 14؍ فروری2021ء

لوگ سمجھتے ہیں عدالتیں صرف تقریر کرتی ہیں، سندھ ہائیکورٹ

سندھ ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیس میں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے کیسز کی پیروی بند کر دی ہے، لوگ سمجھتے ہیں عدالتیں صرف تقریر کرتی ہیں۔

لاپتہ افراد کی بازیابی کی درخواستوں کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جس میں عدالت نے پولیس رپورٹس پر اظہار برہمی کیا اور ریمارکس دیئے کہ پولیس کی ناقص کارکردگی کے باعث لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے کیسز کی پیروی بند کر دی ہے۔

جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا جے آئی ٹیز اور پولیس کی کارکردگی سے اعتماد اٹھ رہا ہے، تفتیشی افسر ہر بار کمپیوٹر سے نیا پرنٹ نکال کر لے آتے ہیں۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس تفتیش ہی نہیں کرتی، پولیس کی کارکردگی سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ پریشان ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سےسوال کیا کہ آخری سماعت کے بعد لاپتہ افراد کے معاملے پر کیا کیا؟ جس پر تفتیشی افسرنے بتایا کہ حراستی مراکز سے رپورٹس لینے کیلئے خط لکھے تھے جواب نہیں آیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے خط کا جواب نہیں آیا اس لیے دوسرا خط نہیں لکھا۔

عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت پر جے ٹی ٹیز سربراہ کو طلب کرلیا اور کہا کہ جے آئی ٹیز سربراہ عدالت میں پیش نہ ہوئے اور انہوں نے لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگایا گیا تو تنخواہ بند کردی جائے گی۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ یہ ہے کارکردگی؟ ابھی تفتیشی افسر کو جیل بھیج دیتے ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ آخری بار مہلت دیں، دوبارہ رپورٹس طلب کرلیتے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے دوران لاپتہ فرید احمد کی گمشدگی کے معاملے پر وفاقی سیکرٹری داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.