ہفتہ25؍رمضان المبارک 1442ھ 8؍ مئی 2021ء

فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور مظالم کے بارے میں فیصلے کا دائرہ اختیار حاصل ہے: آئی سی سی

فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور مظالم کے بارے میں دائرہ اختیار حاصل ہے: عالمی عدالت فوجداری

فلسطین

بین الاقوامی فوجداری عدالت یعنی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے جمعہ کے روز فیصلہ سنایا ہے کہ اسے فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم اور مظالم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا دائرہ اختیار حاصل ہے۔

عالمی عدالت فوجداری کے اس اکثریتی فیصلے سے عدالت کے لیے اسرائیل کے ’زیر قبضہ فلسطینی علاقوں‘ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا راستہ ہموار ہو گا۔

جمعہ کو اپنے فیصلے میں آئی سی سی نے کہا کہ اس نے اکثریت سے فیصلہ کیا ہے کہ عدالت کا دائرہ کار‘ 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں یعنی غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے تک’پھیل گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ فیصلہ عدالت کے بانی دستاویزات کی رو سے قواعد پر مبنی تھا اور اس کا مطلب ریاست یا قانونی حدود کا تعین کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہے۔

عدالت کی پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے اس سے قبل اس بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی خطے میں جنگی جرائم مرتکب کیے جانے کے دعووں کو ‘یقین کرنے کی معقول وجوہات’ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نیتن یاہو

فلسطینی اتھارٹی نے فیصلے کے دن کو ‘تاریخی’ قرار دیا ہے تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے عدالت کے فیصلے کی مذمت کی اور امریکہ نے بھی اس بارے میں ‘شدید تحفظات’ کا اظہار کیا۔

فلسطینی نیوز ایجنسی وفا کے مطابق فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتاح نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘(آئی سی سی کا یہ فیصلہ) انصاف، انسانیت، حق اور آزادی کی اقدار اور خون بہانے والے افراد کے متاثرین اور اہل خانہ کے لیے فتح ہے۔’

واضح رہے کہ اسرائیل، جو آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو مسترد کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا کہ ‘عدالت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یہ ایک سیاسی ادارہ ہے ، عدالتی ادارہ نہیں ہے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے ‘جمہوری حکومتوں کے دہشت گردی کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے حق کو پامال کیا گیا ہے۔’

یہ فیصلہ عدالتی پراسیکوٹر بینسودا کےاس بیان کے ٹھیک ایک سال بعد سامنے آیا ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ کہ ابتدائی جائزے میں (فلسطینی خطے میں جنگی جرائم) کی تحقیقات کو کھولنے کے لیے تمام معیارات کو پورا کرنے کے لیے خاطر خواہ معلومات جمع کی گئی ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی فورسز اور حماس جیسے فلسطینی گروپ دونوں کو ممکنہ مجرم قرار دیتے ہوئے، انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان خطوں کی قانونی اور حقیقی حیثیت کے باعث مستقبل کی تحقیقات میں کن باتوں کا احاطہ کرے گی۔

فلسطین

عدالت کی پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے اس سے قبل اس بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی خطے میں ‘یقین کرنے کی ایک معقول بنیاد’ ہے کہ وہاں جنگی جرائم کیے گئے ہیں

آئی سی سی 2002 سے عالمی نظام عدل کا حصہ ہے۔ اسے اختیارات حاصل ہے کہ وہ نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور ریاستوں کی فریق پر جنگی جرائم کے الزامات کے تحت ان کے بانی معاہدے، ’روم آئین‘ (Rome Statute) کے مطابق قانونی کارروائی کرے۔

اسرائیل نے کبھی بھی ان قوانین کی توثیق نہیں کی ہے لیکن اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے سن 2015 میں فلسطینیوں کے الحاق کو قبول کرلیا تھا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو بین الاقوامی عدالت کی جانب سے خطے میں دائرہ اختیار کے استعمال کرنے کی کوششوں پر شدید تحفظات’ ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے بین الاقوامی انصاف کی ڈائریکٹر بلقیس جارح نے اس فیصلے کو ‘اہم’ قرار دیا ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی مجرموں کو خواہ جنگ کے دوران کیے جانے والے جنگی جرائم ہو یا غیر قانونی بستیوں میں توسیع کے دوران کی گئی زیادتیاں ہوں’ کے لیے انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔’

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.