جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء

عرب سپرنگ: دس برس بعد بھی انقلاب کی گونج کیوں سنائی دیتی ہے؟

عرب سپرنگ: دس برس بعد بھی انقلاب کی گونج کیوں سنائی دیتی ہے؟

بہار عرب

قاہرہ میں دس برس قبل ایک مظاہرے نے مجھے ایک لمحے کے لیے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ‘یہ ایک عام مظاہرے سے مختلف احتجاج ہے۔‘ یہ جمعے کا دن تھا اور یہ احتجاج نماز جمعہ کے بعد شروع ہوا تھا، اور یہ وہ وقت تھا جب اس سے کچھ دن پہلے ہی مصر کے صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔

محمد البرادی جنھیں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کام کرنے پر نوبیل انعام دیا گیا ہے، حکومت کے بڑے ناقد کے طور پر سامنے آ چکے تھے۔

جب وہ اس دن نماز جمعہ کے لیے مسجد گئے تو سب کسی ہنگامہ آرائی کی توقع کر رہے تھے حالانکہ محمد البرادی نے خود ہمیشہ پرامن احتجاج پر زور دیا ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں پولیس جبکہ ہزاروں مظاہرین تیار کھڑے تھے۔

مجھے صدر حسنی مبارک کی مخالفت کے بارے میں چند تحفظات تھے۔ میں نے اس سے پہلے برسوں میں ایسے کئی مظاہرے دیکھے تھے جن میں بہادر متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مظاہرین ان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے پرتشدد ہو جاتے اور آخر کار پولیس انھیں گرفتار کر لیتی تھی۔

اس دن جب نماز جمعہ ختم ہوئی تو مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔

یہ بھی پڑھیے

بہار عرب

یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے محسوس ہوا کہ یہ اس سے مختلف ہے جو میں دیکھتا رہا تھا، کیونکہ میں نے دیکھا کہ یہ وہ متوسط طبقے سے پڑھے لکھے افراد نہیں تھے جو احتجاج کر رہے تھے، بلکہ یہ بہت غریب مصری باشندے تھے۔

انھوں نے پولیس کی گاڑیاں الٹا دی اور انھیں آگ لگا دی، پولیس کی لاٹھیاں اور آنسو گیس کے شیل چھین لیے۔

کسی بھی انقلاب میں غریب شہریوں کے بنا طاقت نہیں آتی۔ یہ وہ دن تھا جب شہر کے گلی کوچوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی جاری تھی اور جس نے مظاہرین کو دریائے نیل کے اس جانب شہر کی دل سمجھے جانے والے تحریر سکوائر پر اکٹھا کر دیا تھا۔

جب ٹھیک دس برس قبل حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹا تو یہ خبر تحریر سکوائر میں موجود ان ہزاروں مظاہرین کے درمیان گونجی جو گذشتہ 18 دن سے صدر کے حامیوں سے لڑ رہے تھے۔

اس رات کے دوران تحریر سکوائر کے آس ہاس مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد واقعات کی آوازیں گونجتی رہی اور پھر حکومت کی جانب سے کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

ایک عجیب اور پرتشدد دن مظاہرین پر اونٹ سوار افراد نے بھی حملہ کیا۔

بہار عرب

اس انقلاب کے کوئی حقیقی رہنما نہیں تھے جو اسے جمہوری اور مقبول بناتے۔ یہ ہی اس کی ناکامی بھی تھی۔

وہ نوجوان جو مظاہروں کے دوران سامنے آئے تھے وہ اپنے آپ کو منظم کر کے ایک سیاسی قوت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ یہ بات قابل فہم ہے کہ برسوں کی آمریت کے بعد وہ بالکل صفر سے شروعات کر رہے تھے۔

سنہ 2012 میں آزادانہ صدارتی انتخاب میں دو جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سیاسی لڑائی دیکھنے میں آئی جنھیں انتخابی میدان میں مصر کے دو منظم گروہوں نے اتارا تھا۔

ان میں سے ایک سیاسی و مذہبی جماعت اخوان المسلمین تھی جو سنہ 1920 سے ملک میں اسلامی قوانین کی بنیاد پر ریاست کے قیام کے لیے کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے سوچا بلآخر ان کا وقت آ گیا ہے۔

دوسری طرف مصری فوج تھی، جس نے 1952 میں اپنے آپ کو فری آفیسرز کہلانے والے گروپ کے بعد سے مصر پر کنٹرول کیا تھا۔ حسنی مبارک فضائیہ کے سابق سربراہ تھے، جنھیں مسلح افواج نے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے قربان کیا تھا، جو مصر میں معیشت کے بڑے حصوں کے منافع بخش کنٹرول تک ہے۔

مصر کی سیاسی و مذہبی جماعت اخوان المسلمین نے انتخاب جیت لیا لیکن ان کا دور حکمرانی زیادہ کامیاب نہ تھا اور انھوں نے تیزی سے ان مصریوں کو تنہا کر دیا جو ان کے حامی نہیں تھے۔

فوج نے حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے جس کے نتیجے میں مصر عدم استحکام اور تشدد میں ڈوبتا چلا گیا اور آخر کار فوجی جرنیلوں نے سنہ 2013 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

بہار عرب

ایک اندازے کے مطابق سنہ 2014 کے آغاز میں دو ہزار سے زیادہ افراد جن میں بیشتر عام شہری شامل تھے، ملک میں سیاسی لڑائی کے باعث ہلاک ہو گئے۔

میں نے اس سیاسی عدم استحکام اور لڑائی کے زیادہ تر حصے کا مشاہدہ کیا ہے: جب سکیورٹی فورسز والے اس کمپاؤنڈ ، جہاں معزول صدر محمد مرسی کو رکھا ہوا تھا کے باہر موجود مشتعل اور بڑے مجمعے پر فائر کھولنے کی ہدایت دے رہے تھے، جب سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمین کے حامیوں کو دھرنا دینے کے لیے کم از کم 900 افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور ان کے اہلخانہ اگست کی گرمی میں تیزی سے گلتی سڑتی لاشوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جب رمسیز سکوائر میں ایک بڑے مظاہرے میں مارے جانے والوں کے کفنوں کو ایک اور مسجد میں تیار کیا جا رہا تھا جہاں اس کی سیڑھیاں انسانی خون سے بھری پڑی تھیں۔

مزید پڑھیے

تب سے مسلح افواج نے مصر پر اپنا کنٹرول مستحکم کر لیا ہے۔ ان کے رہنما فیلڈ مارشل عبدالفتح السسی مصر کے صدر بن گئے۔

انھوں نے مصر کو حسنیٰ مبارک کے دور کے مقابلے میں ایک زیادہ جامع اور جابر پولیس ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ہزاروں مصری شہریوں کو صدر کا مذاق اڑانے سے لے کر حکومت کی مخالفت کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان مقدمات کو غلط قرار دیے جانے کے باوجود سینکڑوں افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔

بہار عرب

تیونس کے انقلاب کے چند دن بعد مصر کے حکمران حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ سنہ 2011 کے آغاز میں عرب دنیا کے ثقافتی و سیاسی مرکز مصر میں ہونے والے واقعات نے ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں انقلابوں کو جنم دیا۔

اس انقلاب نے سب کچھ بدل دیا لیکن اس طرح نہیں جس طرح مظاہرین آزادی اور حکومتوں کے خاتمے کی امید لگائے نعرے لگاتے تھے۔

طاقتور افراد نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ جما لیا، ہزاروں افراد اس انقلاب میں ہلاک اور لاکھوں گھروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ جہادی انتہا پسندوں نے خطے میں آمریتوں کے خلاف اپنی بقا کی جنگ لڑنے والے مظلوم نوجوانوں کو حقیقت کا اپنا موقف پیش کیا اور اپنی گرفت مضبوط کی۔

ایسے آمر حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانا بہت مشکل ہوتا ہے جنھیں غیر ملکی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہو اور جو انھیں بااعتماد اتحادی ہونے کا یقین دلاتے ہوں۔ مصر کی حکومت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت کے بنا گزارہ کرنے کی کوشش کر سکتی تھی۔ صدر سسی کو مغرب سے واضح سیاسی حمایت حاصل تھی۔

گذشتہ دسمبر میں پیرس میں فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے مصر کے صدر اور سابق فیلڈ مارشل کو فرانس کے گرینڈ کراس آف لیجن آنر کے اعزاز سے نوازا تھا۔

مصری صدر

مصر کی تجربہ کار حقوق انسانی کی رہنما، لیلیٰ سیف کے دو بچے اس وقت سیسی حکومت کی مخالفت کرنے کے جرم میں جیل میں ہیں۔ انھوں نے مجھے زوم انٹرویو میں بتایا تھا کہ مغربی حکومتوں کو اپنے طریقہ کار بدلنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں جانتی ہوں کہ مغربی حکمران اپنے لوگوں کو یہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں مصر میں ااور اس خطے میں اس طرح کی حکومتوں کی حمایت کرنی ہے کیونکہ یہاں استحکام حاصل کرنا کا یہ ہی حل ہے۔ اور اگر یہاں سیاسی استحکام نہیں ہو گا تو آپ کے پاس ہزاروں تارکین وطن ہوں گے اور آہ کو دہشت گردی کا سامنا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔۔۔’

وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ ان کی صفائی اور دلیل ہے، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے، برطانوی شہریوں کو اپنی حکومت کو اس کے لیے جوابدہ کرنا ہو گا جو وہ کر رہے ہیں اور انسانی کی فلاح کے لیے کام کرنے کی بجائے ہتھیاروں اور توانائی کی کمپنیوں کے فائدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔’

حالانکہ جن حکومتوں کو اقتدار پر بٹھایا گیا ہے وہ استحکام لانے یا کوئی سیاسی معاہدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مشرق وسطیٰ تبدیلی کے ایک طویل اور مشکل دور سے گزر رہا ہے۔

عرب مظاہرے

سنہ 2011 کے انقلاب میں ایسے نوجوانوں کا غصہ اور اضطراب شامل تھا جو کرپشن، بے روز گاری اور اپنے حقوق سلب کرنے سے اکتا چکے تھے۔ یہ تمام محرومیاں آج بھی موجود ہیں۔ دنیا کے مقابلے میں عرب ممالک میں 30 برس سے کم عمر افراد زیادہ بے روز گار ہیں۔

پورے مشرق وسطیٰ میں غصے کے ایک لہر ہے، رواں برس پہلے ہی تیونس میں وسیع پیمانے پر بے روز گاری کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔ تیونس عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو سنہ 2011 کے بہار عرب کے انقلاب کے بعد ایک جمہوری ملک کے طور پر ابھرا تھا۔

لبنان جو معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ملک ہے وہاں مظاہرین نے سرکاری املاک کو نشانہ بنایا تھا۔ اس ملک میں نوجوانوں کے رویے اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ملک کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات نے ہر چیز کو بڑھا چڑھا کر ہوا دے دی ہے۔

ایک دہائی قبل والی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک جبر خوف پر قابو نہیں پاتا، تب تک کام کرتا ہے لیکن اگر ایک بار صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو پھر ایسا نہیں ہوتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.