اتوار26؍رمضان المبارک 1442ھ 9؍مئی2021ء

سپتنک وی: روس کی کووڈ ویکسین یورپ میں تقسیم کا باعث کیوں بن رہی ہے؟

سپتنک وی: روس کی کووڈ ویکسین سپوتنک یورپ میں تقسیم کا باعث کیوں بن رہی ہے؟

  • کیون کونولی
  • بی بی نیوز، برسلز

کورونا ویکسین

،تصویر کا ذریعہEPA

یہ محض اتفاق نہیں کہ روس نے کووڈ ویکسن سپوتنک وی تیار کر کے تاریخ رقم کی۔ پہلی بار دنیا نے 1957 میں روسی لفظ سپوتنک (سپٹنک) سنا تھا جب سوویت یونین نے پہلی بار انسان کے لیے تیار کردہ پہلے سیٹلائٹ کو مدار میں بھیجا تھا۔

سرد جنگ کے عروج کے دور میں ماسکو کی سائنس و ٹیکنالوجی کی صلاحیت کے اس چونکا دینے والے ثبوت نے مغربی طاقتوں کو اچنبھے میں ڈال دیا تھا جو کہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ٹیکنالوجی میں وہ سوویت یونین پر برتری رکھتی ہیں۔

پوتن انتظامیہ پر تنقید کرنے والے دنگ رہ گئے جب گذشتہ اگست میں ماسکو میں ویسکین کی منظوری کے لیے اسے ادویات کے نگراں ادارے کی طرف سے منظوری ملی۔

اب ایک بار پھر روسی سائنسدانوں نے مغرب کو سرپرائز دیا ہے تو اس لیے ان ممالک کی حیرت کم ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سپٹنک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روسی ‘سافٹ پاور’ کا ہتھیار

ایک مشرقی یورپی ملک کے سفیر، جن کا تعلق ایک ایسے ملک سے ہے جو روس کو ایک واضح خطرے کے طور پر دیکھتا ہے، نے مجھے کہا کہ سنہ 2020 میں ویسکین کی تلاش سنہ 1950 کی دہائی میں خلائی مشن پر جانے کی دوڑ جیسی ہی ہے۔

ایک بار پھر بہت سے باہر والوں نے روس کو بہت ہلکا لیا تھا۔ یہ ممکنہ طور پر سافٹ پاور کا سب سے زیادہ طاقتور ہتھیار ہے جو روس کے ہاتھوں میں کئی صدیوں تک رہے گا۔

یہاں لفظ ’ممکنہ طور پر‘ بہت اہم ہے۔

ابھی سپوتنک وی کے موثر ہونے کی تصدیق یورپی یونین میں ادویات کے نگراں اداے نے نہیں کی۔ مگر بہت سے ممالک نے پہلے ہی اس درآمد کرنے کا آرڈر دے دیا ہے۔ ان میں ارجنٹینا اور میکسیکو سے لے کر اسرائیل اور فلپائن شامل ہیں۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ویکسین کی پیداوار اور تیاری کے لیے جنوبی کوریا اور انڈیا سے بھی معاہدے کیے ہیں۔

ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرننڈز اپریل میں اس وقت کورونا میں مبتلا ہو گئے تھے جب وہ جنوری اور فروری میں سپوتنک کی دو خوراکیں لے چکے تھے۔

یہ ایک یاد دہانی ہے کہ گمالیا انسٹی ٹیوٹ کی دعوے کے مطابق اگر اس ویکسین کے موثر ہونے کی شرح 91.6 فیصد ہے تب بھی ان میں سے بہت کم لوگوں کا کورونا میں مبتلا ہونے کا امکان پھر بھی ہوتا ہے جنھیں یہ ویکسین لگ چکی ہے۔

تاہم یورپ میں سپوتنک ویکسین نے وبا کی نسبت سیاسی سطح پر زیادہ مسائل پیدا کیے ہیں۔

یورپی یونین اس کے لیے کوشاں ہے کہ وہ یکجا ہو کر ایک قابلِ اعتمار آواز کے ساتھ روس کے ساتھ بات کرے۔

یہ کچھ حد تک تاریخ اور علاقائی معاملہ بھی ہے، جیسے لیتھوانیا اور پولینڈ روس کو اپنے لیے قدرتی طور پر زیادہ خطرہ سمجھتے ہیں، بانسبت پرتگال اور مالٹا کے۔

سپتونک

،تصویر کا ذریعہEPA

یورپی یونین کی جانب سے روسی گیس کے برآمد کنندہ کی حیثیت سے پہلے سے چلے آتے مسائل میں توازن پیدا کرنے کا معاملہ بھی ہے۔

یورپی یونین کی خواہش ہے کہ روس کو ان مسائل پر سزا دی جائے جن میں مرکزی اپوزیشن شخصیت الیکسی نوالنی یا یوکرین کی سرحد پر فوج عمل دخل شامل ہیں۔

اب یورپی یونین کی جانب سے روسی ویکسین کی ترسیل پر انحصار کیا جانا ان ملے جلے تعلقات میں توازن کے معاملے کو مزید مشکل کر دے گا۔

اور اب یورپ یا کم از کم یورپ کے حصے وہ حصے جہاں یورپی یونین کی جانب سے ویکسینیشن کے عمل شروع کرنے کے عمل میں تکلیف دہ حد تک نظر آنے والی سست روی کی وجہ سے مایوسی ہے، انھوں نے پریشانی کے عالم میں ماسکو کی جانب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

‘آپ کو اپنے مفادات کے لیے سوچنا ہوگا’

ہنگری پہلے ہی سپوتنک وی کی بڑی تعداد خرید اور تقسیم کر چکا ہے۔ فرانس اور جرمنی ان دیگر بہت سے ممالک میں شامل ہیں جو یورپین میڈیسن ایجنسی کی جانب سے اگر اس ویسکین کی تصدیق کر دی گئی تو اس پر غور کرنے کو تیار ہوں گے۔

سینئر فرانسیسی سفیر جو کہ ملک کی سب سے اہم سفارتی پوزیشن سنبھالے ہوئے ہیں، تجویز کرتے ہیں کہ یورپی یونین کا انداز محتاط اور عملی طور پر ایک ہونا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روسی سائنس کی کوالٹی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن وہ ای ایم اے کی جانب سے تصدیق کیے جانے کے بھی منتظر ہیں۔

ان کی بات میں ایک نکتہ یہ بھی بنتا ہے کہ جو ممالک ویکسین کو اپنی سطح پر تصدیق ملنے کی بنیاد پر استعمال کر رہے ہیں اگر اس حوالے سے کچھ بھی غلط ہوا تو انھیں اپنے ووٹرز کی جانب سے سیاسی سطح پر مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے ۔

سپوتنک بحران کی وجہ سے ایک وزیراعظم کو کیسے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا

سپتونک

،تصویر کا ذریعہEPA

سلواکیا کا کیس دوسروں کے لیے ایک تنبیہ ثابت ہوئی۔

وزیراعظم ایگور ماکوویک نے خفیہ طور پر روس سے دو لاکھ خوراکیں منگوائیں۔ وہ گذشتہ ماہ کے آخر میں یہ عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے کیونکہ وہ اپنے اتحادیوں سے روسی معاہدے کے متعلق رابطہ کرنے میں ناکام رہے تھے۔

سلواکیا کے سائنس دانوں نے دعویٰ کہ براتسلاوا میں جو دوا کی خوراکیں بھجوائی گئیں وہ کسی اور جگہ پر بھجوائی جانے والی سپوتنک ویکسین سے محتلف ہیں۔

اس پر روس ان دعوؤں کو جھوٹی خبر قرار دینے پر اور اس کھیپ کی واپسی کے مطالبے پر مجبور ہوا۔

ہنگری کی جانب سے سلواکیا کے لیے آنے والی دوا کی منظوری دیے جانے کی پیشکش نے اس معاملے میں مزید پیچیدگی پیدا کی۔

عام طور پر روس کو خطیر رقم کمپیوٹر ہیکنگ اورغلط معلومات کو یورپ میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اب ویکسین کسی کوشش کے بغیر بظاہر ویسی کی کامیابی حاصل کر رہی ہے۔

روس کی نمایاں کامیابی

مشرقی یورپ کے ایک ملک کے سفیر کی جانب سے بھی ایسا ہی ردعمل سامنے آیا ہے جن کو خدشہ ہے کہ ایلیکسی نیولنے کو زہر دیے جانے والے کیسز پر یورپ کے اقدامات عموماً بہت ہی کمزور رہے ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ویکسین کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم روسیوں کی مدد کے بغیر اس کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں کہ ہم ماسکو کے ساتھ اپنے روابط رکھیں۔ اس سب کو چلانے کے لیے ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔’

روس دنیا بھر سے ویکسین کے لیے آنے والے آرڈرز کو پراعتماد انداز میں لے رہا ہے لیکن اسے ویکسین کی پیداوار میں اسے تیزی کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔

رواں ہفتے اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ دوا کو سربیا میں تیار کرنے کا آغاز کر رہا ہے جو کہ روس اور بیلاروس سے باہر پہلا ملک ہے۔

روس شاید ویکسین کی پیداوار کے لیے مغربی یورپ اور انڈیا کو بھی لائسنس دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

لیکن انھیں ابھی یورپین میڈیسن ایجنسی کی تصدیق کی بھی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا روسی ڈیٹا اور جس انداز میں اسے اکھٹا کیا گیا وہ یورپی یونین کے معیارات پر پورا اتر پائے گا۔

مگر اب کوئی شک نہیں رہا کہ روس نے سائنسی اور سیاسی طور پر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

دراصل سپوتنک نے دنیا کو بدل دیا ہے۔ سپوتنک وی شاید اس پیمانے پر کامیابی کی نمائندگی نہ کر سکے تاہم یہ بلاشبہ مدد کر رہا ہے۔ اس نے روس نے امیج کو تبدیل کرنے میں مدد کی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.