اتوار8؍ رجب المرجب 1442ھ 21؍ فروری2021ء

دن بھر میں ورزش کیلئے کونسا وقت بہترین ہے؟

ماہرین کی جانب سے صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ورزش کو لازمی قرار دیا جاتا ہے جبکہ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ دن میں کس وقت کے دوران ورزش کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اضافی وزن سے پریشان، جسمانی طور پر کمزور اور گھنٹوں بیٹھ کر کام کرنے والے افراد کے لیے کم از کم ایک ہفتے میں 4 سے 5 دن ورزش کرنا نہایت ضروری ہے، مصروف زندگی کے دوران جو بھی وقت ورزش کا میسر آئے اُس سے خوب فائدہ اُٹھانا چاہیے جبکہ ورزش کے بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے دن میں بہتر اوقات سے متعلق جاننا بھی ضروری ہے۔

سونف ایک جڑی بوٹی ہےجو کہ ہمارے لیے کسی تحفےسےکم نہیں ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے دانے ہماری صحت کے لیے اتنے مفید ہیں کہ ہمیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہے۔

سونف ایک سستی اور آسانی سے دستیاب ہوجانے والی جڑی…

سائنسی تحقیق کے مطابق دن بھر میں کونسا وقت ورزش کرنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے اور کن اوقات میں ورزش کرنے کے کم فوائد حاصل ہوتے ہیں اس سے متعلق تمام معلومات مندرجہ ذیل ہیں۔

صبح کے اوقات میں ورزش کرنے سے متعلق سائنس کیا کہتی ہے؟

سائنسی تحقیق کے مطابق صبح نہار منہ ورزش کرنے کے بے شمار فوائد ہیں جن میں تیزی سے وزن میں کمی آنا، جسم کا سیڈول ہونا، سارہ دن متحرک رہنا اور دماغی صحت اور کارکردگی کا بڑھ جانا شامل ہے ۔

صبح کے اوقات کو ورزش کے لیے سنہری وقت کہا جاتا ہے، اس دوران انسانی جسم میں وزن میں کمی لانے والے ہامونز بھی زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور اضافی چربی تیزی سے گھلتی ہے جس کے نتیجے میں مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایک نئی کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قوت مدافعت کو مضبوط بنانے والا وٹامن سی اور وائرل، انفیکشن کے خلاف لڑنے والا زنک عالمی وبا کورونا وائرس کے بچاؤ میں مؤثر ثابت نہیں ہوتا ہے۔

اگر کوئی فرد دن میں جلدی اُٹھنے کا عادی نہیں ہے تو صبح جلدی اُٹھ کر اپنا دن بہتر بنانے کے لیے یہ ایک اچھی اور مثبت عادت ثابت ہو سکتی ہے۔

صبح اُٹھ کر 7 بجے اگر ورزش کی جائے تو دن بھر انسان متحرک رہتا ہے اور شام میں جلدی تھک کر سو جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم کو مطلوبہ آرام بھی حاصل ہو جاتا ہے اور بگڑی ہوئی غیر متحرک روٹین بھی سدھر جاتی ہے۔

دوپہر کے دورانیے میں ورزش کرنا کیسا ہے؟

سائنسی تحقیق کے مطابق دوپہر میں ورزش کرنے کے نتائج بھی صبح کے اوقات میں ورزش کرنے جیسے ہی حاصل ہوتے ہیں، دوپہر کھانے کے اوقات میں ورزش کرنا بہترین ہے، اس دورانیے میں آپ ناشتہ کر چکے ہوتے ہیں اور دن کے دوسرے کھانے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، شوگر اور کولسیٹرول لیول صبح کے مقابلے میں دوپہر میں زیادہ بڑھا ہوا ہوتا ہے، ایسے میں ورزش کرنے سے شوگر اور کولیسٹرول لیول متوازن سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کڑوروں میں ہے جبکہ ہر سال میں 10 لاکھ سے زائد افراد اس مرض کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

زیادہ کھانے یعنی بسیار خوری کو ماہرین کی جانب سے ایک بیماری قرار دیا جاتا ہے جبکہ ’اوور ایٹنگ ڈیسورڈر‘ انسانی صحت سے متعلق متعدد بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے، لہٰذا اسے سے بچنا اور اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق صبح نہار منہ ورزش کرنے کے بجائے دوپہر میں کرنے کے نتیجے میں وزن 10 فیصد زیادہ تیزی سے کم ہوتا ہے اور دن بھی متحرک گزرتا ہے اور کام پر توجہ دینے میں آسانی ہوتی ہے مگر اس دورانیے میں وزن میں کمی اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے صبح کے مقابلے میں ورزش کا دورانیہ بڑھانا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق 1 سے 4 بجے کے دوران ورزش کرنے کے ایسے ہی فوائد حاصل ہوتے ہیں جیسے کہ صبح کے 7 بجے ورزش کے فوائد حاصل ہوتے ہیں مگر دوپہر کے دوران وزن میں کمی کے لیے ورزش کا دورانیہ تھوڑا بڑھا لینا چاہیے۔

ہری مرچ کھانوں کا مزہ تو دوبالا کرتی ہی ہے لیکن یہ صحت کے حوالے سے بھی بے شمار طبی فوائد رکھتی ہے، ہری مرچ کا مزاج خشک اور گرم ہوتا ہے۔ ہری مرچ نیوٹریشنز سے بھر پور ہوتی ہے، اس میں وٹامن اے وٹامن بی سکس اور وٹامن سی ہوتے ہیں۔

صدیوں سے بطور غذا اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال ہونے والا میتھی دانہ اور میتھی سبزی مجموعی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس کے استعمال سے قوت مدافعت مضبوط ہوتا ہے جس کے نتیجے میں موسم سرما میں وائرل بیماریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

رات کے دورانے میں ورزش کرنا کیسا ہے؟

اکثر و بیشتر افراد دفتری کام یا دن کے اختتام پر فارغ ہو کر ورزش کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ اس دورانیے میں ورزش کرنے کے نتیجے میں انسان دماغی طور پر متحرک ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نیند دیر سے آتی ہے اور جاگنے کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ورزش کے مکمل فوائد حاصل کرنے کے لیے جسم کو آرام کی بھی بے حد ضرورت ہوتی ہے، ورزش کرنے والے افراد اگر مکمل پُر سکون نیند نہ لیں اور دن میں زائد وقت متحرک گزاریں تو ورزش صحت مند رکھنے کے بجائے بیمار کر سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کڑوروں میں ہے جبکہ ہر سال میں 10 لاکھ سے زائد افراد اس مرض کے سبب موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

سائنسی تحقیق کے مطابق 7 سے رات 10 بجے کے دوران ورزش کرنے سے نیند میں خلل آ سکتا ہے، اس دورانیے میں ورزش کے بجائے یوگا کریں۔

بشکریہ جنگ
You might also like

Comments are closed.