منگل22؍شعبان المعظم 1442ھ 6؍اپریل2021ء

انڈیا کے رفال طیاروں کے معاہدے میں مبینہ کرپشن کے نئے دعوے، اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

رفال سکینڈل: انڈیا اور فرانس کی ڈیل کرانے والے شخص کو لاکھوں یورو ادا کیے جانے کا دعویٰ

رفال طیارہ

،تصویر کا ذریعہPRAKASH SINGH/AFP VIA GETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

انڈیا اور فرانس کے درمیان ہونے والا 36 جنگجو رفال طیاروں کا صودہ متعدد وجوہات سے تنازعات کا شکار رہا ہے

انڈیا میں تقریباً 60,000 کروڑ انڈین روپے والے فرانسیسی رفال طیاروں کے معاہدے پر تنازع ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔

اس کی وجہ فرانس کے ایک خبر رساں ادارے ‘میڈیا پارٹ’ کی ایک خصوصی رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رفال بنانے والی کمپنی ڈاسو اور انڈین حکومت کے درمیان سودہ کرانے والے ایک شخص کو دس لاکھ یورو دیے گئے تھے جو کہ سودے کے لیے دی گئی رقم سے علیحدہ رقم تھی۔

رفال طیاروں کے معاہدے میں مبینہ کرپشن پر میڈیا پارٹ کی تین قسطوں پر مبنی رپورٹ میں چند نئے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن میں نئی معلومات بھی سامنے آئی ہیں۔

اس فرانسیسی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ کا مضمون ہے ‘رفال جنگجو جیٹ کی انڈیا میں فروخت: ایک ریاستی سطح کے سکینڈل کو کس طرح دفن کر دیا گیا’۔

ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘اس متنازع معاہدے کے ساتھ ڈاسو نے سودہ کرانے والے اس شخص کو دس لاکھ یورو کی رقم ادا کی جس کے بارے میں ایک دوسرے سکیورٹی سودے (آگسٹا ہیلی کاپٹر ڈیل) سے متعلق انڈیا میں تفتیش جاری ہے۔’

رپورٹ کے مطابق ڈیل کرانے والے اس شخص کو کی گئی رقم کی ادائیگی سے متعلق اس وقت پتا چلا جب فرانسیسی اینٹی کرپشن ایجنسی ‘اے ایف اے’ ڈاسو کا ایک معمول کا آڈٹ کر رہی تھی۔ رپورٹ میں اس بارے میں بھی حیرانی کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس انکشاف کے باوجود اے ایف اے نے اہلکاروں کو متنبہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

رپورٹ کے مطابق ڈیل کرانے والے شخص کو یہ پیسے رفال طیاروں کا ماڈل سپلائی کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان ماڈلز کی تعداد کے مطابق فی ماڈل 20,000 یورو کی ادائیگی درج کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ محض طیارے کے نقلی ماڈل کی قیمت 20,000 یورو کیسے ہو سکتی ہے؟

آزادانہ تفتیش کا مطالبہ

اس خبر کے بعد انڈیا میں سیاسی جماعت کانگریس نے معاملے کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان رندیپ سنگھ سُرجے والا نے کہا ہے کہ ‘ملک کے سب سے بڑے سکیورٹی سودے میں 60,000 کروڑ روپے سے زیادہ کمیشن خوری، بیچ میں ڈیل کرانے والے ایک شخص کی موجودگی اور رقم کے لین دین نے ایک مرتبہ پھر رفال سودے میں کئی پرتیں ظاہر کر دی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کانگریس کے سابق راہنما راہل گاندھی کی بات آخر سچ ثابت ہوئی ‘نا کھاوٴں گا نا کھانے دوں گا’ جیسے دعوے کرنے والی مودی حکومت میں کمیشن خوری اور بیچ میں پیسے کھانے کی بات سامنے آ چکی ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے، یہ فرانس کی ایک نیوز ایجنسی نے واضح کیا ہے۔ اب ظاہر ہے 60,000 کروڑ روپے سے زیادہ سرکاری خزانے کو نقصان، قومی مفادات کے ساتھ کھلواڑ، کمیشن خوری اور ڈیل کرانے والے شخص کے بارے میں انکشافات ملک کے سامنے ہیں۔ سکیورٹی کے لیے کی جانے والی خرایداری کے عمل کی خوب دھجیاں اڑائی گئیں۔’

جبکہ حکمران جماعت بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

رفال طیارہ

،تصویر کا ذریعہDASSAULT

،تصویر کا کیپشن

رفال طیارہ

رفال سکینڈل کیا ہے؟

دو برس قبل رفال سودے پر انڈیا میں کافی ہنگامہ ہوا تھا اور اسے مودی حکومت کے لیے سب سے بڑی مصیبت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ معاملہ اس وقت ٹھنڈا ہوا جب سپریم کورٹ نے 2018 میں بی جے پی حکومت کو کلین چٹ دے دی تھی۔

ایک سال بعد سپریم کورٹ نے ہی اس معاملے میں حکومت کو کلین چٹ دینے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی بینچ میں اس وقت کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس کے کول اور کے ایم جوزف شامل تھے۔ رنجن گوگوئی کو ریٹائرمنٹ کے چند ماہ بعد راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا کا رکن بنا دیا گیا تھا۔

2016 میں فرانس اور انڈیا نے فرانسیسی سکیورٹی کمپنی سے 36 رفال جیٹ جنگجو طیارے خریدنے کے لیے 7.8 ارب یورو کے سودے پر دستخت کیے تھے۔

رفال دو انجن والا ملٹی رول جنگجو طیارہ ہے جسے فرانسیسی کمپنی ڈاسو ایویئیشن نے بنایا ہے۔

اس ڈیل سے منسلک تنازعات کی کئی وجوہات ہیں:

پہلی وجہ یہ کہ 126 طیاروں کے آرڈر کو بدل کر 36 طیاروں کا آرڈر کیوں کر دیا گیا۔

دوسری وجہ اس کی قیمت میں اضافہ ہے۔ ڈاسو ایویئیشن کی 2016 کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 31 دسمبر 2016 تک 20 کروڑ تین لاکھ 23 ہزار یورو کے رفال طیاروں کے آرڈر پرانے تھے، جبکہ 31 دسمبر 2015 تک 14 کروڑ ایک لاکھ 75 ہزار یورو کے ہی آرڈر تھے۔

ڈاسو کا کہنا ہے کہ قیمت میں یہ اضافہ 2016 میں انڈیا سے 36 رفال کی ڈیل ہونے کے بعد ہوا تھا۔

تیسری وجہ متنازع کاروباری شخصیت انیل امبانی کی کمپنی سے متعلق ہے۔ اس تنازعے کے دوران سابق صدر فرانسوا اولاند کا حیران کن بیان بھی سامنے آیا تھا کہ کروڑوں ڈالر کے رفال سودے میں انیل امبانی کو انڈین حکومت نے آفسیٹ پارٹنر کے طورر ’فرانس کی حکومت پر اوپر تھونپا تھا‘۔ ان کی کمپنی ریلائنس ڈیفینس کی پروفائل اور کمپنی کی صلاحیات پر کئی قسم کے سوالات اٹھتے رہے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ’کمپنی نے جتنے بڑے معاہدے کیے ہیں، ان کے اعتبار سے انیل امبانی کی کمپنی خاصی ناتجربہ کار ہے‘۔

رفال طیارہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن

انڈین فضائیہ کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں رفال کو انبالہ ایئر بیس پر لینڈ کرتے دیکھا جا سکتا ہے

سودہ کب ہوا اور اہم تاریخیں کیا ہیں؟

31 جنوری 2012: فرانس کے ساتھ رفال سے متعلق بات چیت 2012 سے چل رہی تھی۔ ڈاسو کو ٹینڈر ملا جس کے لیے اس نے ایئرو فائٹر اور سویڈن کی ساب جیسی کمپنیوں کو شکست دی۔ لیکن دو برسوں تک مزاکرات کے بعد بھی باضابطہ طور پر کوئی سودہ نہیں ہو سکا۔

جولائی 2014: مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں فرانس کے وزیر خارجہ اور انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ کے وزیر لارنٹ فیبیئس نے رفال سودے پر زور دینے کے لیے وزیر اعظم مودی سے دلی میں ملاقات کی۔

دسمبر 2014: انڈیا اور فرانس نے 126 رفال فائٹر طیاروں کے لیے سودے میں تیزی کے لیے قیمتوں کا تعین اور ڈاسو کے لیے ایک گارنٹی جیسے نکات پر غور کیا۔

10 اپریل 2015: قومی سلامتی سے متعلق خریداری کے معیاروں کو تاک پر رکھتے ہوئے انڈیا اور فرانس نے اعلان کیا کہ انڈین فضائیہ 36 رفال جنگجو طیاروں کو ’فلائی اوے‘ کی حالت میں خریدے گی۔

3 اکتوبر 2016: انیل امبانی کا نام باضابطہ طور پر اس سودے میں سامنے آیا۔ امبانی کی ریلائنس ڈیفینس اور ڈاسو ایویئیشن نے ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔

ستمبر 2018: وفاقی حکومت کو پہلا جھٹکا تب لگا جب فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ان کے پاس انڈین آفسیٹ ساتھی یعنی ریلائنس ڈیفینس کا انتخاب کرنے یا نہ کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا کی جانب سے ریلائینس کا نام پہلے ہی فرانسیسی میڈیا کمپنی میڈیا پارٹ کو دے دیا گیا تھا۔

اسی ماہ سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کے لیے کی جانے والی ایک درخواست سماعت کے لیے منظور کی جس میں دونوں حکومتوں کے درمیان ہونے والے سودے کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

14 دسمبر 2018: انڈیا کی سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ رفال معاہدے میں کرپشن کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

مئی 2019: عدالت عظمیٰ نے سابق وفاقی وزیر یشونت سنہا، ارون شوری، وکیل پرشانت بھوشن اور دیگر افراد کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

14 نومبر 2019: سپریم کورٹ نے فرانسیسی کمپنی ڈاسو ایویئیشن کے ساتھ رفال جنگجو طیاروں کے سودے میں حکومت کو کلین چٹ دینے والے 2018 کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.