منگل یکم شعبان المعظم 1442ھ 16؍مارچ 2021ء

استعمال کے بعد اس ماسک کومٹی میں دفنائیں، پھول اگائیں

ہالینڈ: کورونا وبا کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا اور اب دنیا بھر میں پلاسٹک کے ساتھ ساتھ چہروں پر پہنے جانے والے ماسک کا ڈھیر خشکی اورپانی کو آلودہ کررہا ہے۔ لیکن اب ہالینڈ کی ایک خاتون نے ایسا ڈسپوزیبل فیس ماسک بنایا ہے جسے استعمال کے بعد پھینکنے کی بجائے مٹی میں دبادیں تو وہاں پھول اگ آئیں گے۔

ہالینڈ کی مشہورمصور ماریانہ ڈی گروٹ پونز، الترخت شہر میں اپنا اسٹوڈیو رکھتی ہیں۔ اور انہوں نے ایسا فیس ماسک بنایا ہے جس کا مٹیریئل زمین میں دبانے کے بعد تیزی سے گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر موجود پھولوں کے بیج باہر نکل آتے ہیں اور یوں اگرمناسب ماحول اور مٹی مل جائے تو وہاں پھول اگنے لگتے ہیں۔

ماریانہ اپنی ڈیزائننگ اور پینٹنگ میں بھی ماحول کا خیال رکھتی ہیں۔ ان کے روغن زہریلے اجزا سے پاک ہیں اور وہ کینوس کا کاغذ بھی بازیافت (ری سائیکل) شدہ اجزا سے حاصل کرتی ہیں۔ اب انہوں نے کاغذ کے پھوگ میں بعض ریشے ملاکر کووڈ 19 ماسک بنایا ہے۔ اس طرح یہ مکمل طور پر بایوڈیگریڈیبل ہے۔ دوسری جانب انہوں نے ماسک کی تہہ کے اندر پھولوں کے باریک بیج بچھادیئےہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے ماسک کی ڈوریاں کسی مصنوعی مٹیریئیل کی بجائے بھیڑ کی اون سے تیار کی ہیں جو مکمل طور پر ماحول دوست ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے ماسک کے اوپر جو روشنائی لگائی ہے وہ بھی مکمل طور پر ماحول دوست ہے۔

اس ماسک کو انہوں نے میری بی بلوم کا نام دیا ہے جو ہالینڈ کے علاوہ جرمنی میں دستیاب ہے۔ بہت جلد دنیا کے دیگر علاقوں تک بھی یہ ماسک فروخت کے لئے دستیاب ہوگا۔

You might also like

Comments are closed.