بدھ14؍شوال المکرم 1442ھ26؍مئی 2021ء

برطانیہ میں شہزادہ اینڈریو سے شاہی اور فوجی اعزازات اور ٹائٹل واپس لے لیے گئے

برطانیہ میں شہزادہ اینڈریو سے شاہی اور فوجی اعزازات اور ٹائٹل واپس لے لیے گئے

Prince Andrew, Virginia Roberts and Ghislaine Maxwell in 2001

،تصویر کا ذریعہVirginia Roberts

،تصویر کا کیپشن

سنہ 2001 میں شہزادہ اینڈریو، ورجینیا جُفرے اور گیلین میکسویل

برطانیہ میں ملکہ الزبتھ کے بیٹے شہزادہ اینڈریو سے ان کے فوجی اور شاہی اعزازات واپس لے لیے گئے ہیں۔

بکنگھم پیلس کے اعلان کے مطابق ڈیوک آف یارک کے فوجی ٹائٹل اور شاہی اعزازات ملکہ کو واپس کر دیے گئے ہیں۔ شاہی ذرائع کے مطابق اب شہزادہ اینڈریو کے لیے ’ہز رائل ہائنس‘ کا خطاب بھی نہیں استعمال ہو گا۔

یاد رہے کہ ایک ہی روز پہلے امریکہ میں ایک عدالت نے شہزادہ اینڈریو کی طرف سے ان کے خلاف ایک لڑکی پر جنسی حملے کی کارروائی ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد کہا گیا تھا کہ برطانیہ کے شہزادہ اینڈریو کو خاتون پر جنسی حملہ کرنے کے الزامات میں امریکہ میں دیوانی مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔ جس وقت یہ مبینہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت اس خاتون کی عمر 17 سال تھی۔

ورجینیا جُفرے کا دعویٰ ہے کہ شہزادہ اینڈریو نے 2001 میں ان کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی تھی۔

شہزادے کے وکلا کا کہنا تھا کہ اس کیس کو خارج کر دینا چاہیے۔ وہ 2009 کے ایک معاہدے کا حوالہ دیتے ہیں جو جُفرے نے سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن نیویارک کے ایک جج نے فیصلہ دیا ہے کہ ان الزامات کی سماعت کی جا سکتی ہے۔

شہزادہ اینڈریو مسلسل ان دعوؤں کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اس وقت بکنگھم پیلس نے کہا تھا کہ وہ اس جاری قانونی معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

مقدمہ خارج کرنے کی اپیل کو نیویارک کے جنوبی ضلعے کے جج لیوس اے کپلان نے اپنے 46 صفحات پر مشتمل فیصلے میں رد کیا، جس کا مطلب ہے کہ اس سال 61 سالہ ڈیوک آف یارک کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو سکتی ہے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جُفرے کہتی ہیں کہ وہ ارب پتی جیفری ایپسٹین کے ہاتھوں جنسی سمگلنگ اور بدسلوکی کا شکار ہوئی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انھیں دوسرے طاقتور مردوں کو بھی سونپا جاتا تھا۔

ملکۂ برطانیہ کے دوسرے بیٹے شہزادہ اینڈریو نے 2019 میں بی بی سی نیوز نائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں کچھ یاد نہیں کہ کبھی ان کی ورجینیا جُفرے سے ملاقات بھی ہوئی تھی، اور انھوں نے کبھی جفرے کے ساتھ جنسی تعلقات نہیں رکھے۔

ان کے وکلا کہتے ہیں کہ جُفرے نے 2009 میں ایپسٹین کے ساتھ ہرجانے کے تصفیے کے بعد عدالت میں کہا تھا کہ وہ ایپسٹین سے منسلک کسی اور شخص پر مقدمہ نہیں کریں گی۔

ورچوئل سماعت کے دوران وکلا نے کہا کہ معاہدے کے حساب سے ڈیوک آف یارک ایک ’ممکنہ مدعا علیہ‘ ہیں اور کیس کو ’خارج کر دیا جانا چاہیے۔‘

ورجینیا جُفرے کے وکیل نے کہا کہ صرف تصفیہ کے معاہدے کے فریق ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، کوئی ’تیسرا فریق‘ نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جج کپلان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ معاہدہ ڈیوک آف یارک کو فائدہ پہنچانے کے لیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے فیصلے میں ’مدعا علیہ کی مِس جُفرے کے الزامات کی سچائی پر شک کرنے کی کوششوں پر غور نہیں کیا گیا، حالانکہ مقدمے کے دوران ان کی ایسی کوششوں کی اجازت ہو گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کی وجوہات کی بنا پر، عدالت اب یہ فیصلہ نہیں کر سکتی، کہ حقیقت میں، 2009 کے تصفیے کے معاہدے میں جو فریقین نے کیا، جس پر مس جُفرے اور جیفری ایپسٹین کے دستخط تھے، اس کا اصل مطلب کیا تھا۔‘

2px presentational grey line

مشکل دن اور بڑے فیصلے

بی بی سی کے شاہی امور کے نام نگار شان کاگلین نے امریکی عدالت کے فیصلے کے بعد لکھا تھا کہ اس نتیجے کا مطلب ہے کہ شہزادہ اینڈریو کے لیے آگے مشکل دن اور بڑے فیصلے ہیں۔

جیفری ایپسٹین اور ورجینیا جُفرے کے درمیان معاہدے کا استعمال کرتے ہوئے کیس کو روکنے کی کوشش کرنے سے پہلے ہی ساکھ کو خطرات لاحق تھے۔

اب اس کے مسترد ہونے کے بعد، ان کے خلاف مقدمہ آگے بڑھے گا اور جُفرے اور شہزادہ اینڈریو کے وکیل ایک دوسرے کی کہانیوں کا جائزہ لیں گے، جس کے لیے تفصیلی ذاتی ثبوت درکار ہوں گے۔

اب خزاں میں نیو یارک میں ایک سول مقدمہ نظر آ رہا ہے، جہاں جُفرے اپنے الزامات لگا سکتی ہیں۔

شہزادہ اینڈریو کو، جنھوں نے کسی بھی غلط کام کی سختی سے تردید کی ہے، عوامی طور پر اپنا نام صاف کرنے کا موقع ملے گا۔

لیکن یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ شاہی خاندان نیو یارک کی عدالت میں اس دل آزار جرح کو دیکھنا چاہے گا۔

اس کا مطلب عدالت سے باہر تصفیہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی بہترین حل نہیں ہے، کیونکہ الزامات تو پھر بھی غیر حل شدہ ہی رہیں گے۔

دباؤ کی اس حالت میں شہزادے کے لیے اچھے حل اب کم پڑتے جا رہے ہیں۔

2px presentational grey line

سنہ 2019 میں نیوز نائٹ میں انٹرویو کے بعد شہزادہ اینڈریو نے عوامی فرائض سے معذرت کر لی تھی۔

انھوں نے انٹرویو میں یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ جُفرے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کبھی وہ ایپسٹین اور اس کی گرل فرینڈ گیلین میکسویل کے شناسا تھے۔

دسمبر میں نیو یارک میں جیوری نے گیلین میکسویل کو نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے اور ان کی انسانی سمگنگ اور اس کی سہولت کاری کے الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔ ان کو سزا ابھی سنائی جانی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ
You might also like

Comments are closed.