کسی واضح فاتح کے بغیر اسرائیل میں حکومت کیسے بنے گی اور حکومت سازی کے لیے عرب جماعتیں کیوں اہم ہیں؟

اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی ایگزٹ پولز اور سرکاری نتائج ایک انتہائی سخت مقابلے کی نشاندہی کر رہے ہیں، جہاں کسی بھی فریق کے لیے واضح فتح کا دعویٰ کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔
تازہ نظرثانی شدہ ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کے زیرِ قیادت بلاک اور اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ قیادت بلاک کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ دو اسرائیلی نشریاتی اداروں کے اندازوں میں دونوں بلاکس برابر دکھائے گئے ہیں جبکہ ایک اور چینل نے نیتن یاہو کے بلاک کو معمولی برتری دی ہے۔
اسرائیلی ٹی وی نیٹ ورکس کان 11 اور چینل 13 کے تازہ ایگزٹ پولز کے مطابق بنیامین نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے بلاکس کو 51، 51 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب چینل 12 کے تازہ تخمینے میں آئزنکوٹ کی قیادت والے بلاک کو 50 اور نیتن یاہو کے بلاک کو 52 نشستیں دی گئی ہیں۔ اس سے قبل اسی چینل نے نیتن یاہو مخالف اتحاد کے بارے میں کہا تھا کہ اسے معمولی برتری حاصل ہے۔
اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق پولنگ کے اختتام تک ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 1999 کے بعد اس مرحلے پر ریکارڈ ہونے والی سب سے بلند شرح ہے۔ کمیٹی کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے تک 56 لاکھ 95 ہزار 682 افراد ووٹ ڈال چکے تھے۔
ادھر مرکزی انتخابی کمیٹی کی جانب سے جاری ابتدائی سرکاری نتائج کے مطابق اب تک 2.5 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔
دریں اثنا، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنی لیکود پارٹی کے انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’لیکود سب سے بڑی جماعت‘ بن کر ابھری ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ اسرائیل میں ’ایک مضبوط دائیں بازو کی قومی حکومت‘ قائم کی جانی چاہیے۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
تاہم تازہ ایگزٹ پولز کے مطابق اگرچہ لیکود واحد جماعت کے طور پر سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہے، لیکن اسے تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کو ایسی حکومت کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا جو ’عرب حمایت‘ پر قائم ہو۔
خطاب کے اختتام پر نیتن یاہو نے اپنے حامیوں سے کہا کہ اسرائیل کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ’ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے‘ کا ایک ’منفرد موقع‘ موجود ہے۔
اگرچہ ایران کے حوالے سے انتخابی مہم میں سخت بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو یا گادی آئزنکوٹ میں سے کسی ایک کی قیادت میں حکومت بننے کی صورت میں بھی ایران کے ساتھ جاری تنازع کے بارے میں اسرائیل کی بنیادی پالیسی میں نمایاں تبدیلی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کی کُل نشستیں 120 ہیں، اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے باعث موجودہ تخمینے ایک مرتبہ پھر معلق پارلیمان (ہنگ پارلیمنٹ) کے امکان کو تقویت دے رہے ہیں۔
موجودہ تخمینوں میں کسی بھی بلاک کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، جس کے باعث ایک مرتبہ پھر اتحادی حکومت کی تشکیل کے امکانات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
اسرائیل کی تاریخ میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان میں تنہا اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ مختلف جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے تشکیل دی گئی ہے۔
اسرائیلی انتخابات کے نتائج آج سے آنا شروع ہو جائیں گے، تاہم، اندازاً چھ لاکھ ووٹ، جو زیادہ تر فوجی اہلکاروں کے ہیں، جمعرات تک مکمل طور پر شمار نہیں کیے جا سکیں گے۔ یہ ووٹ مجموعی ڈالے گئے ووٹوں کا تقریباً 10 فیصد بنتے ہیں۔
جبکہ سرکاری اور حتمی نتائج چار نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔
حتمی نتائج کے بعد بھی ضروری نہیں کہ حکومت سازی کا عمل فوری طور پر مکمل ہو جائے۔ اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات میں کئی ہفتے، بلکہ بعض اوقات کئی ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر مارچ 2021 کے انتخابات کے بعد جون میں جا کر حکومت تشکیل دی جا سکی تھی، جب نفتالی بینیٹ اور یائیر لاپیڈ کے درمیان اقتدار کی شراکت کا معاہدہ طے پایا تھا۔
اُس وقت بنیامین نیتن یاہو کو حکومت بنانے کا پہلا موقع دیا گیا تھا، تاہم وہ ایسا اتحاد قائم کرنے میں ناکام رہے تھے جو پارلیمان میں اکثریت حاصل کر کے حکومت چلا سکتا۔
ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیل کے صدر پارلیمان میں منتخب ہونے والی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں اور پھر اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ اکثریتی اتحاد قائم کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہے۔
نامزد امیدوار کو اتحادی حکومت تشکیل دینے کے لیے 28 دن ملتے ہیں، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید 14 دن کی توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔
اگر وہ اس مدت میں حکومت نہ بنا سکے تو صدر کسی دوسرے امیدوار کو موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی ناکام رہے تو کنیسٹ کے ارکان تیسرے امیدوار کے نام پر اتفاق کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اور اگر یہ مرحلہ بھی کامیاب نہ ہو تو نئے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔
2019 سے 2022 کے درمیان سیاسی تعطل کے باعث اسرائیل میں پانچ مرتبہ عام انتخابات منعقد ہوئے تھے۔
2022 کے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 120 رکنی کنیسٹ میں 32 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بنی تھی۔ بعد ازاں انھوں نے انتہائی دائیں بازو کی متعدد جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا، جس کے نتیجے میں ان کے اتحاد کو 64 نشستوں کی اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔
موجودہ انتخابات میں بنیادی مقابلہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی اعتدال پسند یاشر پارٹی کے درمیان ہے۔
اگرچہ ایگزٹ پولز کے مطابق یہی دو جماعتیں اسرائیلی پارلیمان میں سب سے بڑی جماعتوں کے طور پر ابھر سکتی ہیں، تاہم کسی بھی فریق کے لیے تنہا حکومت بنانا ممکن دکھائی نہیں دیتا اور انھیں اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہو گی۔
نیتن یاہو دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں۔ وہ پہلی بار 1996 میں وزیرِ اعظم بنے تھے اور گذشتہ تین دہائیوں کے بیشتر عرصے میں اسرائیلی سیاست کے مرکزی کردار رہے ہیں۔
دوسری جانب آئزنکوٹ ایسے اپوزیشن اتحاد کے قائد ہیں جس میں مرکز پسند، مرکز سے دائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں۔ اس اتحاد کا بنیادی مشترکہ مقصد نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔
انتخابات میں دو عرب سیاسی اتحاد بھی میدان میں ہیں۔ اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے اور بعض سرویز کے مطابق عرب اکثریتی جماعتیں کنیسٹ میں 13 سے 14 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
چونکہ نہ نیتن یاہو کے اتحاد اور نہ ہی گادی آئزنکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن بلاک کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا آسان دکھائی دے رہا ہے، اس لیے عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
تاہم ایک کے سوا تقریباً تمام بڑی یہودی جماعتوں نے حکومت میں عرب جماعتوں کے ساتھ شراکت کے امکان کو مسترد کیا ہے۔
خود آئزنکوٹ بھی عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان بنیادی اقدار اور سیاسی ترجیحات میں ہم آہنگی موجود نہیں۔
تاہم، صورتحال بتا رہی ہے کہ کسی بھی بڑے بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملنے جا رہی، ایسے میں نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو یا تو اپنے سابقہ وعدوں کے برعکس نیتن یاہو کے ساتھ کسی مفاہمت پر غور کرنا پڑ سکتا ہے یا پھر عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑے گی۔
عرب جماعتوں میں سب سے بڑا اتحاد ’جوائنٹ عرب لسٹ‘ ہے، جس میں حداش، بلد اور تعال شامل ہیں۔ سیکولر پارٹیوں پر مشتمل یہ اتحاد عرب شہریوں کے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ نیتن یاہو مخالف حکومت کے قیام کے لیے اہم پالیسی مطالبات کے بدلے پارلیمانی حمایت فراہم کر سکتا ہے۔
بشکریہ بی بی سی اردو