جمعرات، 5 نومبر، 2026 · 26 جمادی الاول، 1448 ہجری

انسانی جسم سالانہ دو ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کا سبب بن رہے ہیں: تحقیق

سائنس
انسانی جسم سالانہ دو ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے کا سبب بن رہے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ انسانی جسم کے میٹابولزم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

یونیورسٹی آف باتھ کی قیادت میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسانی جسم میں خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل کے دوران خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں گزشتہ 30 برسوں میں 74 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

تحقیق کے مطابق 2015 تک دنیا بھر میں انسانی جسموں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سالانہ مقدار تقریباً 2.05 ارب میٹرک ٹن تک پہنچ چکی تھی۔ یہ اعداد و شمار زمین کے کاربن سائیکل کے ایک ایسے اہم حصے کو اجاگر کرتے ہیں جس کی اس پیمانے پر پہلے سائنسی طور پر پیمائش نہیں کی گئی تھی۔

فوسل فیولز (کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس) جلانے سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برعکس انسانی سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ تر اس کاربن سے بنتی ہے جسے پودے حال ہی میں فضا سے جذب کرتے ہیں اور جو خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے۔

اس کے برعکس کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جلانے سے لاکھوں سال سے زمین کے اندر محفوظ کاربن فضا میں شامل ہوتا ہے جس سے فعال کاربن سائیکل میں کاربن کی اضافی مقدار داخل ہوتی ہے۔

جرنل دی لانسیٹ پلینٹیری ہیلتھ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق انسانی جسم کے میٹابولزم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سالانہ مقدار 1985 میں 1.18 ارب میٹرک ٹن تھی جو 2015 میں بڑھ کر 2.05 ارب میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس اضافے کا 60 فی صد سے زیادہ حصہ دنیا کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز