مریم نواز کا ’تھپڑ کے بدلے تھپڑ‘ کا مؤقف: کیا قانون زیرِ حراست ملزم کو سزا دینے کی اجازت دیتا ہے؟

’یہ پہلا دور ہے جس میں ظالم یا مجرم جو جتنا بھی پیسے والا یا طاقت ور ہے تو قانون اور اس حکومت کے ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچیں گے۔۔۔ میں نے تھانے میں بچی سے کہا کہ ملزم تمہارے سامنے بیٹھا ہے جتنے تھپڑ اس نے تمہارے منھ پر مارے ہیں، اُتنے تھپڑ تم اس کے منھ پر مارو۔‘
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف منگل کو منڈی بہاؤ الدین میں یونیورسٹی آف رسول میں خطاب کے دوران حال ہی میں لاہور میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دے رہی تھیں، جس میں سکوٹر پر جانے والی ایک لڑکی کو مبینہ طور پر راستہ نہ دینے پر ایک شخص نے سرِعام تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ ’اُس بچی کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، لیکن اُس نے کہا کہ جس طرح ریاست میرے ساتھ کھڑی ہوئی اور مجھے تحفظ کا احساس دلایا تو میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔‘
مریم نواز کا یہ بیان حالیہ چند روز کے دوران اُن کی تواتر کے ساتھ آنے والی ٹوئٹس کے بعد سامنے آیا تھا جس میں سب سے پہلے اُنھوں نے 23 اکتوبر کو لاہور کے پیٹرول پمپ پر ملازم پر تشدد کرنے والے شخص کی پولیس کی تحویل میں ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں وہی ملازم ملزم پر تھپڑوں کی بارش کر رہا ہے۔
اس ویڈیو کے ساتھ مریم نواز نے لکھا تھا کہ ’یہ اُن لوگوں کے لیے زور دار طمانچہ ہے جو دولت اور طاقت کے بل پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’میں ایک بات بالکل واضح کر دینا چاہتی ہوں کہ میں مظلوموں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہوں، چاہے ان پر ظلم کرنے والے کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔‘
’دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات میں سے کوئی بھی چیز کسی کو احتساب سے بچنے کا موقع نہیں دینی چاہیے۔ انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا استحقاق نہیں ہے بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔‘
مریم نواز کی ان ٹوئٹس پر سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آ رہی تھیں، بعض حلقے اُنھیں ’تشدد کے جواب میں تشدد‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اُن قانونی پہلوؤں پر بھی بات کر رہے ہیں کہ ایک صوبے کی وزیرِ اعلیٰ کس طرح زیرِ حراست ملزم پر تشدد کا کہہ سکتی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پنجاب حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ خواتین اور بچے اُن کی ریڈ لائن ہیں اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایک صوبے کی وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے زیرِ حراست ملزم کو تھپڑ مارنے کا کہنا اور عدالتی نظام پر تنقید پر قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبردار کیا کہتے ہیں، یہ آگے چل کر جانتے ہیں، لیکن اس سے پہلے جائزہ لیتے ہیں کہ مریم نواز کی جانب سے کی جانے والی سلسلہ وار ٹوئٹس کی ٹائم لین کیا ہے۔
یہ سلسلہ 23 اکتوبر کو شروع ہوا، جب وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہورمیں پیٹرول پمپ پر ملازم پر تشدد کرنے والے ایک شخص کی ویڈیو کے ساتھ اُسی شخص کو مذکورہ ملازم کی جانب سے پولیس کی تحویل میں تھپڑ مارنے کی ویڈیو شیئر کی گئی۔
24 اکتوبر کو مریم نواز نے لاہورمیں ریپ کے مقدمے میں جج کو مبینہ طور پر رشوت کی پیشکش کرنے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتی نظام کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔
اُسی روز مریم نواز نے راولپنڈی میں قتل ہونے والی حنا جاوید کے کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس مقدمے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
24 اکتوبر کو ہی مریم نواز نے سکوٹر والی بچی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے متعلق ٹوئٹ کی۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئر پرسن اسد اقبال بٹ نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کے بیانات کو ’سمجھ سے باہر‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گذشتہ آٹھ مہینے میں سینکڑوں لوگوں کو ’عدالت میں پیش کیے گئے بغیر مارا گیا۔‘
خیال رہے حالیہ دنوں میں پولیس کی حراست میں ملزمان کی ہلاکت پر سوال اُٹھائے گئے ہیں۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’کیا اس طریقے سے جرائم ختم ہوں گے؟ نہیں، جرائم تب ہی ختم ہوں گے جب عدالتیں لوگوں کو سزائیں سنائیں گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں بھی یہ ہوتا رہا ہے۔ لوگوں کو مارا جاتا رہا ہے اور یہاں تک کہ چوکوں پر لٹکایا گیا ہے۔‘
اسد اقبال بٹ کہتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے صرف جرائم میں ایک وقفہ آتا ہے اور یہ جرائم اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتے جب تک ’پولیسنگ ٹھیک نہیں ہو گی، تفتیشی طریقہ کار ٹھیک نہیں ہو گا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی ایک مسئلہ ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ پنجاب اسے اپنی ترجیح قرار دیتی ہیں، تو ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین نے الزام عائد کیا کہ ’یہ سب سیاسی باتیں اور نعرے ہیں‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ بتائیں کہ کتنے مقدمات عدالت بھیجے گئے، کتنے زیر التوا ہیں اور کتنوں پر فیصلہ آیا۔‘
قانونی ماہر عابد ساقی ایڈووکیٹ کہتے ہیں اس وقت ملک میں آئین کی بالادستی، عدالتوں اور اظہارِ رائے کی آزادی سمیت متنازع قانون سازی پر سوالات موجود ہیں۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’جب ملک میں قانون، آئین اور عدالتی نظام پر سوال اُٹھ رہے ہوں تو پھر نمائشی اقدامات کا سہارا لیا جاتا ہے اور وزیرِ اعلیٰ کے اقدامات سے یہی تاثر مل رہا ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نمائشی اقدامات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم انصاف فراہم کر رہے ہیں، حالانکہ ملک میں سیاسی رائے رکھنے پر قدغنیں ہیں، میڈیا پر پابندیاں ہیں، تو ایسے میں علامتی اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ملک کا آئین اور قانون عدالتوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے اور اسے کے ذریعے ہی معاشرے میں سدھار لایا جا سکتا ہے۔
عابد ساقی کہتے ہیں کہ ’قانون زیرِ حراست ملزم پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا، لہذا وزیرِ اعلیٰ خود ایسے اقدامات پر اُکسا کر قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’قانون یہ کہتا ہے کہ زیرِ حراست ملزم پر نہ تو تشدد ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسے ہلاک کیا جا سکتا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’قانون یہ کہتا ہے کہ سزا دینے کا اختیار پولیس کے پاس نہیں ہے بلکہ یہ عدالتوں کا کام ہے، یا تو پھر عدالتوں کے اختیارات بھی پولیس کو دے دیے جائیں تو پھر تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ لیکن اگر آئین میں انصاف کی فراہمی کی ذمے داری عدالتوں کو سونپی گئی ہے تو پھر اُنھیں اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔‘
بی بی سی نے اس معاملے پر ردِعمل کے لیے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات اعظمی بخاری، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ترجمان کوثر کاظمی سے رابطہ کیا اور سوالات بھیجے، تاہم اُن کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
لیکن مریم نواز شریف نے اس تنقید کے جواب پر منڈی بہاؤ الدین کے جلسے میں کہا کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ کل کو میرے خلاف کوئی مقدمہ بنے گا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کل کو آپ پر مقدمے بنیں گے، لیکن میں آپ سب کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ مریم نواز شریف کو اُس کی پرواہ نہیں ہے کہ کل کو اس کے اُوپر کون سا مقدمہ بنے گا۔ مریم نواز اللہ کو جواب دہ ہے کیونکہ یہ کُرسی مجھے اللہ اور پنجاب کے عوام نے دی ہے۔‘
مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس نے سکوٹر والی بچی کو مارا اُس کی بھی ضمانت ہو گئی جبکہ جس نے پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد کیا، اُس کی بھی اگلے ہی دن ضمانت ہو گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس سے بات کریں گی کہ مجرموں کو اتنی سزا تو ملنی چاہیے کہ وہ دوبارہ جرم کرنے کا نہ سوچیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’مجھے چیف جسٹس پاکستان سے ملنا پڑا میں ملوں گی، مجھے چیف جسٹس لاہور ہاِئیکورٹ سے ملوں گی اور اُنھیں کہوں گی کہ ہمیں مل کر کام کرنا پڑے گا، تاکہ پنجاب کی ہر ماں، بہن اور بچے کی عزت محفوظ رہے۔‘
بشکریہ بی بی سی اردو