’ہر قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا تھا‘: انگور اڈہ میں پاکستان اور افغان طالبان میں سرحدی جھڑپ کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

📹 Watch video
’انگور اڈا میں امن کے قیام کے لیے جرگہ جاری تھا کہ اچانک ایک فائر کی آواز آئی اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ چند گھنٹوں بعد دوبارہ فائرنگ شروع ہوئی تو ہر قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا تھا۔ فائرنگ اور گولہ باری دونوں شروع ہو گئی تھیں۔‘
یہ کہنا ہے خیبرپختونخوا کہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے رہائشی مولانا تسبیح اللہ کا، جو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے (انگور اڈہ) میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے ہونے والے امن جرگے میں خود موجود تھے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ فائرنگ اور گولہ باری شام دیر تک جاری رہی اور اس دوران انگور اڈہ بازار اور قریبی مکانات پر بھی گولے گرے، جبکہ بازار کے ساتھ واقع لکڑی کی منڈی میں ایک گولہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔
اُن کے مطابق لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگنے لگے۔
مولانا تسبیح اللہ کے مطابق منگل کی شام پیش آئے ان واقعات کے نتیجے میں انگور اڈاہ میں دکانوں اور مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ منگل کی رات رات تقریباً آٹھ بجے کے لگ بھگ رُکا۔
پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں فائرنگ اور گولہ باری کے واقعے پر پاکستانی اور افغان طالبان حکام کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں اور فریقین نے ایک دوسرے پر حملہ شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکام کی جانب سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں انگور اڈہ میں ایک شہری ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے ہیں، جبکہ افغان طالبان حکام کا دعویٰ ہے کہ سرحدی جھڑپ کے دوران اُن کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستان میں لوئر وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر مسرت زمان نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شام افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ شروع ہوئی، جس کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی اور افغانستان میں موجود چوکیوں اور مورچوں کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے دوران افغان فورسز کے اہلکار مورچے چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ افغان طالبان فورسز کی شہری آبادی پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک بھی ہوا۔
دوسری جانب افغان وزارتِ دفاع نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج نے گذشتہ روز دوپہر تقریباً ایک بجے صوبہ پکتیکا میں بازار اور کمشنر آفس پر ڈرون حملے کیے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں افغان سکیورٹی اور دفاعی فورسز نے قریبی پاکستانی فوجی اڈے اور چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس میں متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔
افغان طالبان کی وزارت نے دعویٰ کیا کہ حملوں کا آغاز پاکستانی فوج نے کیا تھا اور افغان فورسز نے اپنے دفاع اور علاقے کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی۔
بی بی سی دونوں جانب سے سامنے آنے والے ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
دوسری جانب مقامی افراد نے بتایا کہ گذشتہ رات ہونے والی فائرنگ کے دوران سرحد کے انتہائی نزدیک آبادی سے بعض شہریوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑا۔
انگور اڈہ جنوبی وزیرستان لوئر میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع ایک اہم گزرگاہ ہے، جس کے دوسری جانب افغانستان کا صوبہ پکتیکا واقع ہے۔
یہ گزرگاہ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں کے درمیان مقامی تجارت اور آمدورفت کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اکتوبر 2025 میں شدت اختیار کر گئی تھی، جب دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپیں ہوئیں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ گذشتہ دو سال میں پاکستانی حکام اور افغان طالبان حکام نے متعدد مرتبہ ایک دوسرے پر حملے کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
15 اکتوبر 2025 کو دونوں ملکوں نے 48 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم کشیدگی برقرار رہی اور اس دوران انگور اڈہ سمیت متعدد سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور آمدورفت متاثر ہوئی۔
انگور اڈہ کی بندش سے مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ علاقے میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوئے۔
سرحدی گزرگاہ کی بندش کے باعث مقامی آبادی کے لیے تجارت اور آمدورفت کی مشکلات بھی بدستور برقرار ہیں۔
پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی نے حالیہ عرصے میں ملک کے اندر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم طالبان حکام ان الزامات کی بارہا تردید کرتے رہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں میں کیے گئے حالیہ فضائی حملوں کے بعد حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ان حملوں میں اُن شدت پسند عناصر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں جبکہ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس نوعیت کے حملوں میں بہت سے عام افغان شہری مارے گئے ہیں۔
بشکریہ بی بی سی اردو