بدھ، 28 اکتوبر، 2026 · 18 جمادی الاول، 1448 ہجری

اگر دہشتگرد سرنڈرکرکےقومی دھارے میں شامل ہو جائیں تو حکومت سے بات کی جاسکتی ہے، چیئرمین اے آرڈی سی خیبرپختونخوا

پاکستان
اگر دہشتگرد سرنڈرکرکےقومی دھارے میں شامل ہو جائیں تو حکومت سے بات کی جاسکتی ہے، چیئرمین اے آرڈی سی خیبرپختونخوا

فوٹو: فائل

پشاور: خیبر پختونخوا کے دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے لیے قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے چیئرمین انجینئر شوکت اللہ نےکہا ہےکہ اگر دہشت گرد سرنڈر کرکے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں اور سوسائٹی میں رہتے ہیں تو حکومت سے بات کی جاسکتی ہے۔

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو چیئرمین اے آر ڈی سی انجینئر شوکت اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کو علاقہ چھوڑنےکا کہا گیا تھا، دہشت گرد آبادی میں رہتے ہیں تو فورسز کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہو جاتا ہے، مدارس اور مساجد میں پناہ لینےکے باعث بھی فورسز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔ بھارت افغانستان کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کر رہا ہے، دہشت گرد اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کر رہے ہیں، انہیں یہ سلسلہ بند کرنا چاہیے۔

انجینئر شوکت اللہ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں اور معاشرے میں پُرامن زندگی گزاریں تو حکومت سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔ دہشت گردوں نے سرنڈر نہ کیا تو ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مخصوص اضلاع میں ترقیاتی کام ہماری اولین ترجیح ہیں، جہاں ضرورت پڑی وہاں نئے اسکول اور اسپتال تعمیر کیے جائیں گے۔

بشکریہ جیو نیوز