پیر، 9 نومبر، 2026 · 30 جمادی الاول، 1448 ہجری

احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں، مولانا فضل الرحمن

قومی خبریں

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ 34 سال کی سیاسی زندگی میں ان کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا، ملک میں احتساب کے ادارے احتساب کے بجائے انتقامی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ 10، 20 سال کے دوران لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے اور سیاست میں آنے والے لوگ کس طرح بڑے سرمایہ کار بن گئے۔

قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ملک میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے سیاست سے وابستہ تمام لوگ بڑے بدعنوان ہیں۔ کردار کشی کے لیے مختلف نوٹس اچھالے جا رہے ہیں، جبکہ احتساب کے نام پر مخصوص افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ان کی 34 سالہ سیاسی زندگی میں ان پر کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں بنا، لیکن ملک میں احتساب کے ادارے اپنے اصل مقصد کے بجائے انتقامی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، حکمرانوں اور بااثر افراد سے یہ پوچھنے والا کوئی نہیں کہ انہوں نے مختصر عرصے میں اتنی بڑی جائیدادیں اور لاکھوں ایکڑ اراضی کیسے حاصل کرلی۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ بعض لوگوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، انہیں سزائیں بھی ہوئیں لیکن وفاداریاں تبدیل کرنے کے بعد ان کے خلاف تمام معاملات ختم ہو جاتے ہیں، قانون اور احتساب کا نظام سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، کسی کی سیاسی وابستگی یا وفاداری کی تبدیلی کی بنیاد پر احتساب کا معیار تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنے اقدامات کے ذریعے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے۔ سیاسی اختلافات کو انتقامی کارروائیوں اور کردار کشی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس طرز عمل سے معاشرے میں بے اعتمادی اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے صوبائی خودمختاری اور وسائل کی تقسیم کے معاملے پر بھی واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حقوق اور وسائل سے متعلق کوئی فیصلہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ صوبوں کے حقوق اور وسائل کے معاملات میں متعلقہ اکائیوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ قومی معاملات پر فیصلے کرتے وقت عوام اور تمام متعلقہ فریقوں کی رائے کو اہمیت دی جائے کیونکہ صوبوں کے حقوق اور وسائل کا معاملہ براہ راست وفاقی نظام اور قومی یکجہتی سے جڑا ہوا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت