جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

حکومت کا عوام پر مزید بوجھ: دسمبر تا فروری بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

قومی خبریں
حکومت کا عوام پر مزید بوجھ: دسمبر تا فروری بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

اسلام آباد: دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینے بجلی کے صارفین کے لیے بھاری مالی بوجھ کا باعث بن سکتے ہیں کیونکہ ان 3 ماہ کے دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتیں 2 سے 3 گنا تک بڑھ جانے کا قوی امکان ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ایل این جی اور کوئلے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بجلی کی پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا کر دیا ہے۔ سرد موسم میں مقامی گیس کی قلت کے باعث پاور پلانٹس کو چلانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سردیوں کے دوران پن بجلی گھروں سے پیداوار کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مہنگے ایندھن کا استعمال ناگزیر ہو جائے گا۔ گھریلو صارفین کے لیے گیس کی سپلائی پہلے ہی ناکافی ہے، لہذا یہ اضافی بوجھ بجلی کے بلوں میں واضح نظر آئے گا۔

ماضی میں 2 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے بوجھ کو محدود رکھنے کی حکمت عملی اپنائی گئی تھی، تاہم اب عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں اتنی بلند ہو چکی ہیں کہ صارفین کو ریلیف دینا مشکل ہے۔ حکومتی ذرائع اس صورتحال کو ملک میں بجلی کے شعبے کا بڑا بحران قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور مقامی گیس کا بحران ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اگر بروقت متبادل ذرائع تلاش نہ کیے گئے تو سردیوں میں نہ صرف بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا بلکہ توانائی کی قلت سے صنعتی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت