کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں اچانک بڑا اضافہ، تاجر اور شہری پریشان

کراچی: پاکستان کے معاشی مرکز کراچی میں بھتہ خوری کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے تاجروں اور صنعتکاروں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران بھتہ خوری کے 56 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ رواں سال 2026 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 112 تک پہنچ چکی ہے۔
اس تشویش ناک اضافے سے تاجر برادری، بلڈرز اور دکانداروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
رواں برس جنوری میں 19 اور فروری میں 27 واقعات کے ساتھ بھتہ خوری کا رجحان تیزی سے بڑھا۔ مارچ میں 6، اپریل میں 9، مئی میں 10 اور جون میں 9 مقدمات درج ہوئے۔ جولائی میں 18، اگست میں 8 اور ستمبر میں 6 بھتے کے کیسز سامنے آئے۔
یہ اعداد و شمار اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ بھتہ خوری کے انسداد کے لیے قائم خصوصی یونٹ اور پولیس حکام کے جرائم میں کمی کے تمام تر دعوے ان اعداد و شمار کے سامنے بے اثر دکھائی دے رہے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
کراچی کے تاجروں اور ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ بھتہ خوروں کی جانب سے مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر ان عناصر کو آہنی ہاتھوں سے نہ کچلا گیا تو شہر کے تجارتی مراکز کی رونقیں ماند پڑنے کا خدشہ ہے جو معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ بھتہ خوری میں ملوث گروہوں کے خلاف ٹھوس اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں بھتہ خوری کے 18 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ سی پی ایل سی کی جانب سے اکتوبر کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد ہی رواں برس کی صورتحال کا گزشتہ سال سے حتمی موازنہ ممکن ہو سکے گا۔ فی الحال شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت