جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

پٹرولیم لیوی میں فوری کمی کا امکان مسترد، حکومت کا اگلے بجٹ میں نظرثانی کا عندیہ

قومی خبریں
پٹرولیم لیوی میں فوری کمی کا امکان مسترد، حکومت کا اگلے بجٹ میں نظرثانی کا عندیہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ حکومت فی الحال پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی شرح میں کمی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ملکی معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں اور عارضی عوامی داد حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جو مستقبل میں کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے۔

وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی کے مطالبات کے پیش نظر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں اسحاق ڈار اور رانا ثناء اللہ سمیت دیگر حکومتی وزرا شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی جماعت اسلامی کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر پٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے امکانات اور تجاویز کا جائزہ لے گی تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوئی قابل عمل راہ نکالی جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت محدود وسائل کے باوجود عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم ماضی کی غلطیاں دہرانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور جاری کشیدہ جغرافیائی حالات کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت ملکی معیشت کو کسی بھی قسم کے بڑے دھچکے سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی آئی ایم ایف کے طے شدہ اہداف کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران حکومت اپنے مقرر کردہ اہداف سے زیادہ ریونیو جمع کر چکی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق لیوی، کلائمٹ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی سمیت پٹرول پر مجموعی ٹیکس کی شرح کافی زیادہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022-23 سے اب تک حکومت نے ہدف سے زائد لیوی اکٹھی کی ہے جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں روپے کے پرائس ڈفرینشل کلیمز کی ادائیگیاں اب بھی التوا کا شکار ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت