مصنوعی ذہانت کے خلاف عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کرے گا، انسٹاگرام سربراہ کی پیشگوئی

انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے خلاف عوامی ردعمل میں شدت آئے گی، کیونکہ ملازمتوں کے خاتمے، تخلیقی کاموں کی ملکیت اور ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایڈم موسیری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی مختلف صنعتوں میں تبدیلیاں لائے گی، جس کے نتیجے میں لوگوں کے روزگار اور مستقبل کے حوالے سے بے یقینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے خلاف مزاحمت اور ناراضی آنے والے وقت میں زیادہ عام ہو جائے گی۔
انہوں نے صورت حال کی سنگینی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے لوگوں میں غصہ اور مایوسی نہ صرف بڑھے گی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند برسوں کے دوران متعدد افراد کے لیے حالات زیادہ مشکل ہو سکتے ہیں۔
ایڈم موسیری کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق خدشات صرف فنکاروں، سماجی ذرائع ابلاغ پر مقبول شخصیات یا تخلیقی شعبوں سے وابستہ افراد تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ اس ٹیکنالوجی کے اثرات مختلف پیشوں اور شعبوں میں کام کرنے والے لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر خودکار نظاموں کے پھیلاؤ کے باعث انسانی کارکنوں کی طلب میں کمی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کے امکانات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے ذاتی معلومات اور تخلیقی مواد کے استعمال پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو تربیت دینے کے لیے لوگوں کے ذاتی مواد کے استعمال سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ حفاظتی خطرات بھی بحث کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔
انسٹاگرام پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ مواد کی درجہ بندی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے موسیری نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار ہونے والا بہترین مواد بھی موجود ہے، لیکن ناقص مواد کی بھی کمی نہیں۔ اس صورت حال میں یہ طے کرنا ایک اہم سوال ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ مواد کو کس بنیاد پر صارفین کے سامنے پیش کیا جائے اور کیا اس کی درجہ بندی انسانوں کے تیار کردہ مواد جیسی ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں یکساں طریقۂ کار اختیار کرنا شاید مناسب نہ ہو۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے معیار اور اس کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی درجہ بندی کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔
موسیری کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی جہاں نئی تخلیقی صلاحیتوں اور تکنیکی امکانات کے دروازے کھول رہی ہے، وہیں روزگار، معلومات کی ملکیت، ذاتی مواد کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی منصفانہ درجہ بندی جیسے مسائل بھی اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت