زمین پر پانی کیسے آیا؟ سائنس دانوں نے ساڑھے 4 ارب سال پرانا راز جان لیا

نیو میکسیکو: کئی دہائیوں سے سائنس دانوں کا خیال تھا کہ زمین پر موجود زیادہ تر پانی اربوں سال قبل سیارچوں، دمدار ستاروں اور دیگر اجرامِ فلکی کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں پہنچا تھا، تاہم ایک نئی تحقیق نے اس نظریے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کے محققین کے مطابق، زمین کے ابتدائی ماحول میں موجود ہائیڈروجن اور چٹانی ذرات کے درمیان کیمیائی تعامل کے نتیجے میں چند منٹوں کے اندر پانی بن سکتا تھا۔
تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئے ہیں۔ ان نتائج تک پہنچنے کے لیے سائنس دانوں نے تجربہ گاہ میں ایسے تجربات کیے جو زمین کی تشکیل کے ابتدائی حالات سے مشابہ تھے۔
تجربات کے دوران سلیکیٹ چٹانوں کو 1,200 سے 1,400 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کیا گیا اور انہیں ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول میں رکھا گیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ چٹانی نمونوں میں موجود آئرن آکسائیڈ کا تقریباً 80 فیصد حصہ دھاتی آئرن میں تبدیل ہوگیا۔ اس کیمیائی عمل کے نتیجے میں آبی بخارات بھی پیدا ہوئے، جو اس بات کا امکان ظاہر کرتے ہیں کہ زمین کے ابتدائی دور میں پانی پیدا ہونے کا ایک اہم ذریعہ خود زمین کے اندر موجود مواد اور کیمیائی تعاملات تھے۔
یہ تحقیق زمین پر پانی کی ابتدا سے متعلق سائنسی نظریات کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم، اس کے نتائج زمین کے تمام پانی کی ابتدا کی حتمی وضاحت نہیں کرتے، بلکہ اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ زمین نے اپنی تشکیل کے دوران خود بھی پانی پیدا کیا تھا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت