جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیلی وزیر کا عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ، قطر سے فنڈنگ کا الزام

قومی خبریں
اسرائیلی وزیر کا عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ، قطر سے فنڈنگ کا الزام

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے عرب سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے داخلی سلامتی کے ادارے شِن بیت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری کارروائی کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق عرب جماعتوں کے رہنماؤں پر قطر سے مالی رقوم حاصل کرنے کے شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم ان الزامات کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی انہیں ثابت شدہ حقائق قرار دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتمار بن گویر نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے سے مطالبہ کیا کہ قطر سے مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے معاملے میں زیرِ شبہ عرب سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا کی جانب سے عرب جماعتوں پر قطر سے مالی معاونت حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے نتائج نے حکومت سازی کے معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق نہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوئی اور نہ ہی حزب اختلاف کا اتحاد فیصلہ کن برتری حاصل کر سکا۔ ایسے حالات میں عرب سیاسی جماعتوں کی کامیابی کو غیر معمولی سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی ہے، کیونکہ حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار حمایت کے حصول میں ان جماعتوں کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

عرب جماعتوں کے انتخابی نتائج کے بعد ان کے رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کا مطالبہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم قطر سے مبینہ مالی معاونت کے الزامات کے حوالے سے اب تک کوئی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے ان دعوؤں کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

قطر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سفارت کاری میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ بھی اس کے رابطے رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیلی حکومت کے بعض وزرا نے عرب سیاسی جماعتوں کو قطر سے مالی مدد ملنے کے الزامات کا معاملہ اٹھایا ہے، تاہم ان الزامات کی صداقت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت