جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

مجتبیٰ خامنہ ای کا جنگ کے دوران معاشی استحکام اور قومی اتحاد برقرار رکھنے پر زور

قومی خبریں
مجتبیٰ خامنہ ای کا جنگ کے دوران معاشی استحکام اور قومی اتحاد برقرار رکھنے پر زور

ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے، عوامی ضروریات پوری کرنے، قومی اتحاد کو فروغ دینے اور دیرپا سلامتی یقینی بنانے کو بنیادی ترجیحات قرار دے دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه ای اور سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں جنگی صورت حال، معاشی مشکلات اور ملکی مفادات کے تحفظ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں عوام کی بنیادی ضروریات، جنگ کے ملکی معیشت پر اثرات، فوجی صورت حال، روزگار کے مواقع، رہائش کے مسائل اور بیرونی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات زیر بحث آئے۔ اس موقع پر ملکی کرنسی کو مستحکم رکھنے، زرمبادلہ کے انتظام کو بہتر بنانے اور توانائی کے وسائل سے مؤثر انداز میں استفادہ کرنے کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔

صدر پزشکیان نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سردیوں کے موسم میں گیس اور بجلی کی فراہمی میں تعطل سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات کرنا ضروری ہے۔ توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا معاملہ بھی اس سلسلے میں اہمیت کا حامل ہے۔

ایرانی قیادت کی جانب سے معاشی استحکام اور عوامی فلاح کو ترجیح دینے کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو جنگ کے باعث فوجی صورت حال کے ساتھ معاشی دباؤ اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ موجودہ حالات میں عوام کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ملکی اقتصادی معاملات کو مستحکم رکھنا حکومت کے لیے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

سپریم لیڈر نے قومی اتحاد اور پائیدار سلامتی کو بھی ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت کی ان ترجیحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی حالات میں دفاعی ضروریات کے ساتھ معیشت کو مستحکم رکھنے، عوامی فلاح یقینی بنانے اور ملک کے اندر اتحاد برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت