سندھ میں تعلیم کی حالتِ زار: طلبہ کو ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ناگزیر

کراچی: سندھ کے تعلیمی نظام کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
موجودہ دور میں روایتی تدریسی طریقے وقت کی رفتار کا ساتھ دینے میں ناکام نظر آتے ہیں، جس کے باعث طلبا کو درپیش تعلیمی چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق صوبے کے کئی تعلیمی ادارے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جہاں فرنیچر، بجلی اور تجربہ گاہوں کی عدم دستیابی معیارِ تعلیم پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ رٹے پر مبنی نظام تعلیم کی وجہ سے طلبا ڈگری حاصل کرنے کے باوجود عملی میدان میں مطلوبہ مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کا استعمال محض آلات کی فراہمی نہیں، بلکہ علم تک رسائی کو آسان اور تدریس کو مؤثر بنانا ہے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے دیہی علاقوں کے طلبا بھی بڑے شہروں کے تعلیمی معیار تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے شہری اور دیہی تعلیم کا فرق بھی ختم ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مواد کے ذریعے مشکل اسباق کو دلچسپ اور آسان بنایا جا سکتا ہے۔ آن لائن کلاسز اور ریکارڈ شدہ لیکچرز آفتوں یا اسکولوں کی بندش کے دوران بھی تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جو سندھ کے موجودہ حالات میں انتہائی اہم ہے۔
اساتذہ کی تربیت اس پورے عمل کا اہم ترین حصہ ہے۔ ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ ان کے کام کو بہتر بناتی ہے۔ آن لائن تربیتی پروگراموں کے ذریعے دور دراز علاقوں کے اساتذہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق نکھار سکتے ہیں۔
تعلیمی نظام میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا کا استعمال وقت کا تقاضا ہے۔ حاضری، امتحانات اور اسکولوں کی کارکردگی کی نگرانی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کرنے سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ تاہم، اس سفر میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی، بجلی کی فراہمی اور مقامی زبان میں نصابی مواد کی تیاری کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ طویل مدتی پالیسی تشکیل دے کر نجی شعبے کے اشتراک سے ہر اسکول کو ٹیکنالوجی سے لیس کرے۔ طلبا کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر ہی انہیں مستقبل کے عالمی مقابلوں کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے، تاکہ سندھ کا نوجوان ملک و قوم کا نام روشن کر سکے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت