پینٹاگون نے چین کے انتہائی خفیہ خلائی جہاز ’شین لونگ‘ کی تصویر جاری کر دی

واشنگٹن: پینٹاگون نے چین کے انتہائی خفیہ خلائی جہاز شین لونگ کی مکمل ریزولوشن والی تصویر جاری کر کے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم خلائی میدان میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کو سمجھنے کی کوشش ہے۔
امریکی کمپنی وینٹور کی جانب سے حاصل کردہ اس تصویر میں بغیر پائلٹ کے چلنے والے اس پروں دار خلائی جہاز کی بناوٹ نمایاں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی ساخت امریکی اسپیس فورس کے ایکس-37 بی خلائی طیارے سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے جو کہ قابلِ غور ہے۔
اس خلائی جہاز کے اندر سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجنے یا وہاں تعینات کرنے کے لیے مخصوص کارگو بے کے دروازے نصب کیے گئے ہیں۔ شین لونگ اب تک چار کامیاب خلائی مشن مکمل کر چکا ہے اور اس کا موجودہ مشن فروری کے مہینے میں خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔
یہ خلائی جہاز طویل عرصے تک مدار میں رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عام طور پر اس کے مشنز نو ماہ تک جاری رہتے ہیں۔
امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی نئی رپورٹ میں چین کی جانب سے خلائی ہتھیاروں کی تیاری کے عمل پر خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین ڈائریکٹڈ انرجی لیزرز سمیت جدید خلائی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تاحال ایسے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے جن سے یہ ثابت ہو سکے کہ شین لونگ خود کسی قسم کے مہلک ہتھیاروں سے براہ راست لیس ہے۔
امریکی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خلا کو عسکری میدان بنانا عالمی امن کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں روس کی ان کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں ایسے سیٹلائٹس تیار کیے جا رہے ہیں جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں، جس سے عالمی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ یہ تفصیلات عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلائی مسابقت کا واضح ثبوت ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں خلا کا کنٹرول ہی عالمی طاقت کا اصل پیمانہ ہوگا، جس کے لیے امریکا، چین اور روس اپنی دفاعی حکمت عملیوں کو تیزی سے تبدیل کر رہے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت