جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

انگور اڈہ پر افغان طالبان کا بیانیہ حقائق کے برعکس اور گمراہ کن قرار

قومی خبریں
انگور اڈہ پر افغان طالبان کا بیانیہ حقائق کے برعکس اور گمراہ کن قرار

اسلام آباد: وزارت اطلاعات و نشریات نے انگور اڈہ پر پیش آنے والے حالیہ واقعے پر افغان طالبان کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے سراسر حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے جس کا مقصد عالمی برادری اور اپنے عوام کو دھوکا دینا ہے۔

وزارت اطلاعات کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان فورسز نے بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہوکر نہتے شہریوں کو براہ راست نشانہ بنایا اور بلااشتعال فائرنگ کے ساتھ ساتھ بھاری مارٹر گولوں کا آزادانہ استعمال بھی کیا۔

پاکستانی حکام نے اس جارحانہ کارروائی کو بھارت کی خفیہ ہدایات اور پراکسی عناصر کے طے شدہ ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں بدامنی پھیلانے کے لیے غیر ملکی اشاروں پر کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو کشیدہ کرنا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے اپنی حدود کے دفاع کو یقینی بناتے ہوئے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں افغان طالبان کی 7 اہم چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ ان کے دستوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

وزارت اطلاعات نے مزید کہا کہ افغان طالبان انتظامیہ اپنے عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے کے لیے ایسے من گھڑت اور جھوٹے بیانیے کا سہارا لے رہی ہے۔ پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی کو بھی اپنی سرزمین پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افغان سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی رابطے کیے جا رہے ہیں، تاہم پاکستان واضح کر چکا ہے کہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور شہریوں پر حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کا ایک حصہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے موثر سرحدی انتظام انتہائی ضروری ہے۔ وزارت اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملکی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور دفاعی حصار ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت