ایران سے ایل پی جی کی درآمد بحال، قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان

اسلام آباد: ایران سے ایل پی جی کی درآمد عارضی طور پر بحال ہونے کے بعد ملکی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتوں میں گزشتہ 2 روز کے دوران 30 سے 40 روپے فی کلو تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو صارفین کے لیے خوش آئند ہے۔
دوسری جانب آل پاکستان ایل پی جی ڈسٹری بیوشن ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین نے وضاحت کی کہ صرف 16 اکتوبر تک ایران سے لوڈ ہونے والے ایل پی جی کے ٹینکرز کو پاکستان میں داخلے کی اجازت ملی ہے۔ یہ مقدار تقریباً 8 سے 9 ہزار ٹن بنتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمد شدہ یہ گیس ملکی ضروریات کو صرف 3 روز تک پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ اس محدود سپلائی سے ملک میں جاری ایل پی جی کا بحران مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے گا، جس سے مستقبل میں مشکلات کا خدشہ بدستور برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں قیمتوں کا رجحان نیچے کی طرف ہے اور آئندہ 2 سے 3 دنوں میں فی کلو قیمت میں مزید 30 روپے تک کمی متوقع ہے، تاہم موسم سرما میں طلب میں اضافے کے باعث صورتحال تاحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کو ایک اہم تجویز دی ہے جس میں ایران سے ایل پی جی کی درآمد پر 6 ماہ کے لیے ای آئی ایف چھوٹ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبہ وزیر اعظم کے مشیر ہارون اختر کے سامنے بھی رکھا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے متنبہ کیا کہ اگر ایران سے ایل پی جی کی باقاعدہ اور مسلسل سپلائی بحال نہ کی گئی تو موسم سرما کے دوران طلب اور رسد کے فرق کی وجہ سے قیمتیں ایک ہزار روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہیں جو کہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔
حکام پر زور دیا گیا ہے کہ موسم سرما کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے پرانے مکینزم کے تحت چھوٹ کو فوری طور پر 6 ماہ کے لیے بحال کیا جائے۔ یہ اقدام عام آدمی کو مہنگائی کے شدید بوجھ سے بچانے کے لیے ناگزیر اور انتہائی ضروری ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت