اسرائیل اور امریکا مل کر ایران کے خلاف حتمی کارروائی کریں، نیتن یاہو کی ہرزہ گوئی

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران سے لاحق خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا یہ ایک نادر اور تاریخی موقع ہے۔
قابض ریاست کے صہیونی وزیراعظم نے امریکا کو اپنا سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور علاقائی سرگرمیاں اسرائیل کی بقا کے لیے ایک سنگین اور وجودی خطرہ بن چکی ہیں جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
نیتن یاہو نے زور دیا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب مل کر ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اور حتمی کارروائی کریں۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے ایران کی جارحیت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کسی بھی ممکنہ فوجی آپریشن کی ٹائم لائن، اہداف یا حکمت عملی کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی نیتن یاہو کے اس بیان پر فی الحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے جس میں نیتن یاہو کے اتحاد کو ابتدائی نتائج میں معمولی برتری حاصل ہے۔ حکومت سازی کے لیے انہیں اب دیگر اتحادی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہوگی جو سیاسی محاذ پر ایک بڑا چیلنج ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن سے قبل بھی نیتن یاہو کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کا منصوبہ سامنے آیا تھا جس پر اسرائیلی عسکری حلقوں میں شدید اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو اس بیانیے کے ذریعے اپنی انتخابی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اگرچہ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ قریبی اتحادی تصور کیے جاتے ہیں، تاہم اہم عالمی اجلاسوں کے باوجود ان کی ملاقات نہ ہونا سفارتی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ مستقبل میں ایران سے متعلق دونوں ممالک کے تعلقات خطے کی صورتحال پر اثرانداز ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت