جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

پاکستان میں غربت کی پیمائش کا طریقہ کار جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ

قومی خبریں
پاکستان میں غربت کی پیمائش کا طریقہ کار جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور عوامی فلاح و بہبود پر موسمیاتی اثرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے حکومت نے غربت کی پیمائش کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے وزارت منصوبہ بندی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذیلی ادارے کے مابین مشاورت جاری ہے۔

حکومت ملٹی ڈائمینشنل پاورٹی انڈیکس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ موسمیاتی آفات، غذائی قلت، صنفی عدم مساوات اور ڈیجیٹل سہولیات تک عدم رسائی جیسے اہم عوامل کو بھی غربت کی پیمائش میں شامل کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحرانوں نے ملک کی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غربت میں کمی لانے کے لیے سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

وزارت منصوبہ بندی کے حکام کے مطابق آئندہ سروے 2026-27 کے اعداد و شمار سے استفادہ کیا جائے گا تاکہ مستند شواہد کی بنیاد پر قومی ترجیحات کا تعین کیا جا سکے۔

اس عمل میں آبادی کے دباؤ اور نوجوانوں کی محرومیوں کو بھی خصوصی طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔

احسن اقبال نے خبردار کیا کہ اگر معاشی ترقی کی رفتار بڑھتی ہوئی آبادی سے کم رہی تو روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور غربت کو کم کرنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔ انہوں نے پالیسیوں میں تسلسل اور معاشی استحکام کو ملکی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

حکومتی منصوبہ بندی کے تحت انتخابی حلقوں کی سطح پر بھی غربت کا تجزیہ کیا جائے گا، جس کے لیے 2023 کی مردم شماری کا ڈیٹا استعمال ہوگا، تاہم اس کے سیاسی اثرات کے پیش نظر رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ تاحال زیر غور ہے تاکہ عوامی وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے عوامل کی شمولیت سے محروم طبقوں کی بہتر نشاندہی ممکن ہوگی۔ تاہم اصل چیلنج یہ ہوگا کہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں دستیاب ترقیاتی وسائل کو نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات کیسے یقینی بنائے جائیں گے تاکہ غریب عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت