جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

شمالی کوریا کا اپنی فوج کو کسی بھی وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم

قومی خبریں
شمالی کوریا کا اپنی فوج کو کسی بھی وقت جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے اپنے فوجی کمانڈروں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل جنگی تیاریوں کا حکم دیا ہے۔

خبر رسان اداروں کے مطابق انہوں نے فوج کو ہدایت کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر جنگ کے لیے ہر دم مستعد رہیں۔

کوریائی عوامی فوج کے کمپنی کمانڈروں کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن نے کہا کہ فوجی یونٹوں کو سخت تربیت اور مسلسل مشقوں کے ذریعے اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانی ہوگی۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے ساتھ وفاداری کا اعادہ کرنے پر بھی زور دیا۔

واضح رہے کہ یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب جزیرہ نما کوریا میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ گزشتہ ماہ غیر فوجی علاقے میں ایک دھماکے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جس میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

جنوبی کوریا نے اس واقعے کا براہ راست الزام شمالی کوریا پر عائد کیا تھا اور حالات کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی، تاہم شمالی کوریا نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور تاحال جنوبی کوریا کی پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

دوسری جانب دونوں ممالک اس واقعے پر اپنا اپنا مؤقف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کر چکے ہیں۔ عالمی برادری اس پیش رفت کو انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں جاری جنگوں کی وجہ سے عالمی امن خطرے میں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے پیشِ نظر شمالی کوریا کا یہ اقدام انتہائی اہم ہے۔ ملک کے اندر فوجی نظم و ضبط اور جنگی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنے کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر باور کرانا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج کا جواب دیا جا سکے۔

فی الحال دونوں کوریائی ممالک کے درمیان عسکری رابطے بحال نہیں ہو سکے ہیں اور سرحدی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ بیانات نے خطے میں جنگ کے خدشات کو مزید ہوا دی ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہونے کا امکان موجود ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت