جنگی دھمکیوں کے درمیان امریکا کی ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی کوشش

واشنگٹن: امریکا نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور جنگی خطرات کو ٹالنے کے لیے سفارتی سطح پر نئی پیش رفت شروع کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ براہ راست بات چیت ہی تناؤ کو کم کرنے کا واحد محفوظ راستہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق نومنتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خصوصی ہدایت پر ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں باہمی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا گیا ہے۔
اس خط کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی کو روکنا اور بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ امریکی قیادت کا خیال ہے کہ ایران کے سخت گیر حلقوں سے براہ راست رابطہ زیادہ دیرپا نتائج دے سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جے ڈی وینس اس بات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا دونوں حریف ممالک کے درمیان ایسی کوئی ٹھوس سفارتی بنیاد قائم کی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم یا شدید حملے کو مکمل طور پر روکا جائے۔
واضح رہے کہ یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
واشنگٹن میں موجود پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد کے حالات میں سفارت کاری ہی واحد بہترین حل ثابت ہو سکتی ہے۔
اس سفارتی اقدام کا مقصد ایران پر امریکی دباؤ کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ کے بجائے پرامن حل تلاش کرنا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے تاحال اس پیشکش پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سطح پر اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام امید ظاہر کر رہے ہیں کہ محسن رضائی کو بھیجا گیا یہ خط خطے میں امن قائم کرنے اور طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرے گا، جبکہ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو ٹرمپ انتظامیہ کی نئی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت