اسرائیل میں انتخابی نتائج کے بعد سیاسی ہلچل، اپوزیشن کا حکومت سازی کا دعویٰ

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج نے موجودہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد پارلیمان میں درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکا ہے۔
120 رکنی اسرائیلی پارلیمان میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے، تاہم ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں کی نشستوں میں نمایاں کمی کے باعث مجموعی طور پر ان کا بلاک 53 نشستوں تک محدود نظر آتا ہے، جو حکومت کے قیام کے لیے ناکافی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن اتحاد نے بھی انتخابی نتائج کے بعد اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
اس سلسلے میں اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے نیتن یاہو کے خلاف مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نیتن یاہو فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔
اس انتخابی عمل میں عرب جماعتوں کی کارکردگی انتہائی اہم رہی ہے، جنہیں مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار حکومت سازی کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا سیاسی طور پر دونوں بڑے اتحادوں کے لیے ایک پیچیدہ چیلنج بن چکا ہے، جس سے حکومت سازی کا عمل تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
اسرائیل میں رائج متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام کے تحت ووٹر سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں، جس کے بعد نشستوں کی تقسیم ہوتی ہے۔ اس پیچیدہ طریقہ کار کے باعث اب تمام تر نظریں اتحادی جماعتوں کے باہمی فیصلوں اور حتمی نتائج پر لگی ہیں جو مستقبل کی حکومت کا تعین کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 78 فیصد رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی عوام میں سیاسی عمل کے حوالے سے گہری دلچسپی موجود ہے۔ حتمی نتائج کے بعد ہی یہ تعین ہو سکے گا کہ کیا نیتن یاہو اپنے اقتدار کو بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا ملک میں ایک نئی مخلوط حکومت کا دور شروع ہوگا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت