پاکستان کی خطے میں بڑی سفارتی کامیابی، ایران اور عرب اتحادی ایک میز پر آگئے

اسلام آباد: پاکستان نے مکہ دفاعی معاہدے کے اتحادیوں اور ایران کو ایک میز پر بٹھا کر خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی بڑی سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت نے مشرق وسطیٰ میں امن کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
خطے میں بڑھتے ہوئے امریکی حملوں کے بعد یہ خدشات شدت اختیار کر گئے تھے کہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ ان حالات میں مسلم ممالک نے اپنے اجتماعی مفادات کے تحفظ کی خاطر باہمی رابطوں کو بڑھانے اور دشمنی ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر سفارت کار نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے دوران ہی اس بات پر اتفاق پایا گیا تھا کہ اتحادی ممالک کو ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنی ہوگی۔ پاکستان نے اس مشکل اور پیچیدہ عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
اسی سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلیجنس چیف ابراہیم کلن نے تہران کا دورہ کیا ہے۔ ایرانی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اگرچہ ان مذاکرات کی تفصیلات تاحال خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم اس فارمیٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔
سعودی عرب یمن کشیدگی میں مزید اضافہ نہیں چاہتا، جبکہ ایران خطے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر اپنا سیکیورٹی میکانزم قائم کرنے کا خواہشمند ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا فوری چیلنج حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے تہران کے ساتھ مستقل رابطہ چینل قائم کرنا تھا۔ اس سفارتی کاوش کے بغیر خطے کے متحارب ممالک کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ممکن نہیں تھا جو کہ اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے اس کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں جاری پراکسی جنگیں ختم ہوں گی بلکہ مسلم ممالک کے مابین معاشی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت